Kala Bagh Dam

Kala Bagh Dam

آج کل کالا باغ ڈیم کو لیکر بہت باتیں ہورہی ہیں کیا یہ بن پائیگا؟ کیا اتنا پیسہ جمع ہوگا کہ یہ ڈیم بنے؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ کیوں کالا باغ ڈیم پر سیاست کی جاتی رہی ہے اور واقعی یہ اتنا نقصان دہ ہے کہ اس کی اتنی شدت سے مخالفت ہوتی رہی ہے؟ دوستو سوالات تو بہت ہیں جواب تلاش کرنے ہیں!!!!!!!

اس کی تاریخ کیا ہے؟ یہ مسٔلہ کب شروع ہوا اور کیسے شروع ہوا اس پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ 

Kala Bagh Dam History

قارئین میانوالی شہر سے بیس میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو کالا باغ کہلاتا ہے۔ یہ نام اس لئے پڑا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہاں کیلوں کے بے تحاشہ باغ تھے۔ جو دور سے دیکھنے پر سیاہ بادل جیسے لگتے تھے۔ جسکی وجہ سے اس کا نام کالا باغ ہوگیا!!!!! یہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مشہور ہے۔

دریائے سندھ کالا باغ کے مقام پر آکر ایک نیچرل ڈیم کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس لئے سن ۱۹۵۳ ؁ میں عالمی ماہرین نے اس مقام کو ڈیم کیلئے آئیڈیل قرار دیا تھا۔ 1960 ؁ میں ایوب خان نے انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے دریائے راوی، ستلج کا پانی آٹھ کروڑ میں انڈیا کو بیچ دیا۔ اور اس کے بدلے پاکستان کو کالا باغ ڈیم بنانے کی اجازت مل گئی۔

لیکن پھر یہ اتنا لیٹ کیوں ہوتا رہا کہ اب تک نہ بن پایا!!!!!!!!!!!!!!!؟؟؟؟؟؟؟

کام شروع ہونے سے پہلے ہی ایوب خان کی حکومت کا اینڈ ہوگیا۔ اب اس کے بعد یحییٰ خان کا دور آیا تو پاکستان کا وہ دکھ بھرا واقعہ ہوگیا جس سے ہر پاکستانی غمزدہ ہوجاتا ہے۔ یعنی پاکستان دو لخت ہوگیا ! ٹوٹ گیا پاکستان!!!!!!!!  

پھر ذوالفقار علی بھٹو آئے تو ان کو داخلی سیاست سے فرصت نا مل سکی!!!!  

پھر جنرل ضیا  الحق آئے تو ایک اور ستم افغان جنگ کی صورت میں شروع ہوگیا۔ اور یہی وجہ جو یہ تھی جس سے یہ عظیم منصوبہ التوا کا شکار ہوتا چلاگیا۔  پھر آخر کار  1984 ؁ میں جنرل ضیاالحق نے اس کا کو شروع کیا اور یوں کالا باغ ڈیم بننا شروع ہوا!!!!!!

phir kya huwa ????????? dekhte hen

پھر ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا جس سے یہ عظیم منصوبہ ہمیشہ کیلئے controversy یعنی تنازعہ کا شکار ہوگیا! 

اصل میں  حکومت نے سروے کیلئے ایک برطانوی کمپنی ہائیر کی تھی۔ جب کمپنی نے سروے شروع کیا تو اس کے علم میں ایک بات آئی کہ   1929 ؁ میں دریائے سندھ میں ایک خوفناک سیلاب آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ایک شہر نوشہرہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔ اس کمپنی نے یہ اندازہ لگانے کا پلان کیا کے اس شہر نوشہرہ میں آخر کتنا پانی آیا تھا!!!!!!!!!؟؟؟؟

اور اس کی سطح کیا تھی؟ یہ سب جاننے کیلئے یہ ماہرین اس شہر میں چلے گئے! اب کمپنی نے شہر کا اندازہ لگانے کیلئے مکانوں پر نشانات لگانے شروع کردیئے۔ اب ان نشانوں کو دیکھ کر لوگوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو سارا شہر ڈوب جائیگا!!!!

پھر اسی ٹائم ایک سیاسی جماعت حکومت کے خلاف تھی۔ اور اس کو مخالفت کا ایک بہانہ مل گیا اور کالا باغ ڈیم کو اس افواہ کی بنیاد پر ایشو بنالیا اور اس طرح اس عظیم ڈیم کی تعمیر ایک غلط بات کے ایشو کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے رک گئی۔ پھر اس وقت سے اب تک کافی حکومتوں نے اس ڈیم کو بنانے کا اعلان کیا۔ لیکن بنانے میں ناکام رہیں۔ 

benifits of Kala Bagh Dam

اس کے بننے کے فوائد کی بات کی جائے تو ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ڈیم تعمیر ہوجاتا ہے تو سالانہ تیس ارب سے زیادہ کی آمدن ہوگی۔ اور تقریبا اتنا ہی زرمبادلہ بھی بچے گا۔ نیز یہ چار ہزار تک میگا واٹ تک بجلی دیسکتا ہے۔ یہاں ستر لاکھ ایکڑ مکعب فٹ پانی اسٹور کیا جاسکتا ہے۔

اور یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے تو اس پانی کا پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا!!!!!!!!؟          پاکستان کا سالانہ ضایع ہونے والا پانی جو سمندر میں گرنے کی وجہ سے ضایع ہوتا ہے وہ تقریبا دو لاکھ تیس ہزار ایکڑ مکعب فٹ ہے۔ اس ڈیم سے یہ پانی بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ 

ماہرین یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس ڈیم سے مردان یا نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور اس سے سندھ کی زمینیں بھی متاثر نہیں ہونگی۔ یہ سب سے اہم بات یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی ضرورت بھی ہے۔ کیونکہ اگر یہ ڈیم نا بنا تو اللہ نا کرے پاکستان قحط کا شکار اور بجلی کے بحران کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ 

PTA kya mobile block karraha he 

howmuch cost to build Kala Bagh Dam 

کالا باغ ڈیم ایک قدرتی بنا بنایا ڈیم ہے۔ جو قدرتی پہاڑی سلسلے پر مبنی ہے۔ ان کے درمیان سے دریائے سندھ گزرتا ہے۔ کالا باغ کے بعد میدانی علاقے کا سلسلہ ہے۔ اس کے دونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں۔ صرف پہاڑوں کے درمیان دیوار بناکر کم سے کم خرچے میں یہ ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ  یہاں پہنچنا اور بھاری مشینری پہنچانا بھی آسان ہے ۔ یہ میدانی علاقہ ہے اس لئے یہاں سے نہریں نکال کر دور دراز تک پھیلانا بھی مسٔلہ نہیں ہے۔ اور تقریبا آٹھ لاکھ ایکڑ رقبہ اس سے سیراب کیا جاسکتا ہے۔ اس میں منگلا اور تربیلا جتنا ہی پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ 

بجلی بھی یہاں بنے گی لیکن ایک اضافی فائدہ ؟ وہ یہ کہ یہاں سے سستی بجکی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس ایک ڈیم سے مچھلی کی افزائش کی مد میں بجلی کی مد میں زراعت سے سیاحت سے پیسہ ہی پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

why Kala Bagh Dam only

صرف کالا باغ ڈیم ہی کیوں؟ اسی کے پیچھے کیوں سب پڑے ہیں؟ اصل میں جو فائدے کالا باغ ڈیم کے ہیں وہ فائدے کسی اور ڈیم سے نہیں مل سکتے پھر یہ ایک قدرتی ڈیم ہے جو فورا تیار کیا جاسکتا ہے یعنی پانچ سال کے اندر اور ہمارے پاس زیادہ ٹائم بھی نہیں ہے۔ کیونکہ پرانے ڈیموں کی زندگی کم ہوتی جارہی ہے۔ اور نئے ڈیم بنانے میں کافی وقت لگتا ہے۔

جو ہماری بجلی کی کھپت ہے اور جو پانی کی ضرورت ہے وہ صرف کالا باغ ڈیم ہی پورا کرسکتا ہے۔  اگر اس میں دیر کی گئی تو ہمیں بہت زیادہ پانی اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ 

 

جواب دیجئے