امیر بننے کیلئے کیا ضروری ہے ameer kaise bane

امیر بننے کیلئے کیا ضروری ہے ameer kaise bane

            اگر آپ کا یہ ماننا ہے کہ امیر اور بڑا بننے کیلئے زیادہ علم اور کوالیفکیشن چاہئے تو یہ درست نہیں ہے اور اگر آپ کا یہ ماننا ہے کہ زیادہ تیز دماغ چاہئے تو یہ بھی سہی نہیں ہے۔ مشاہدے میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کبھی زیادہ پڑھے لکھے لوگ زندگی میں فیل ہوتے دیکھے گئے ہیں اور کم پڑھے لیکھے لوگ ترقیوں کی بلندی پر پہنچ گئے ہیں۔ 

             دنیا کے زیادہ تر کامیاب لوگ کم پڑھے لکھے ہیں اور یہاں میں ان کو جو کم پڑھے لکھے ہیں یا ذہن میں اتنے تیز نہیں ہیں ان کوحوصلہ اور راستہ دکھانا چاہتا ہوں۔ تاکہ وہ بھی نئے سرے سے اپنے آپ کو زندگی کی دوڑ میں شامل کرلیں اور کامیابیاں سمیٹیں۔ دنیا کے بڑے بڑے نام جیسے بالی ووڈ کے عامر خان اور سلمان خان یا انڈیا کے کامیاب کاروباری شخصیات اور بہت سے کامیاب کرکٹر جیسے سچن وغیرہ اپنی اسٹدی کو مکمل نہ کرسکے لیکن انہوں نے اس کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اور اپنے آپ کو اس جگہ پہنچایا جہاں کوئی بہت زیادہ پڑھے لکھے شخص کو ہونا چاہئے۔ 

محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے

خطرناک سیاحتی مقامات

              اس میں ایک بات جو اہم ہے وہ یہ کہ زیادہ پڑھے لکھے لوگ زیادہ سوچتے ہیں جب بھی وہ کچھ بڑا کرنے کا پلان کرینگے ان کی تعلیم ان کو ہر زاویہ سے سوچنے پر مجبور کریگی۔ جیسے اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا یا بڑا فیصلہ ہے تھوڑا تحقیق کرنی چاہئے یا اس میں تو پہلے ہی اتنے لوگ کام کررہے ہیں تو میرے چانسز بہت کم ہیں کامیاب ہونے کے وغیرہ وغیرہ۔

             اس کے مقابلے میں کم پڑھا لکھا تھوڑا کم سوچے گا کیونکہ اس کے پاس سوچ کے زیادہ زاویے ہی نہیں ہیں تو وہ فورا ایکشن لیگا اور نتیجہ ایکشن سے ہی نکلتا ہے۔ اس بات سے بہت لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے کہ میں شاید پڑھائی کے خلاف ہوں۔ ایسا نہیں ہے بھائی میں بس ایک نظریہ اور تحقیق بتارہا ہوں۔ اور جن کا مقصد کسی بڑی پوسٹ پر پہنچنا ہے جہاں کوالیفکیشن ریکوائرڈ ہے تو ان کیلئے تو پڑھائی ہی ضروری ہے اور یہ ہی ان کی کامیابی ہے۔ یاد رکھیں جناب ہر ایک کی نظر میں کامیابی کی تعریف الگ ہوتی ہے۔

کاروبار کریں

کاروبار کیجئے
                    اکثر لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کا مناسب رجحان نہیں ہے۔یہ حقیقت ہےکہ ماحول سازگار نہیں بددیانتی اور بے ایمانی کا راج ہے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ کوئی مشورہ دینے کو تیار نہیں یہ ایک کڑوی حقیقت ہے۔ اگر کسی سے اس کی فیلڈ کے بارے میں آپ نے معلوم کرلیا تو جواب کچھ یوں ہوگا کہ اس فیلڈ میں اب کچھ نہیں رکھا سوچنا بھی نہیں میں خود خسارے میں ہوں وغیرہ۔ تو ایک سیدھا سوال سامنے والے کو چپ کراسکتا ہے وہ یہ کہ اگر اتنا ہی نقصان ہورہا ہے تو آپ کب چھوڑرہے ہیں؟ یا چھوڑدیں ابھی کہ ابھی کیوں نقصان کو گلے لگارہے ہیں؟ اس سے سامنے والے کے مخلص ہونے کا اندازہ ہوجائے گا۔ کسی بھی کاروبار کا جاری رہنا اس کے نقصان میں نہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔کہا جاتا ہے کہ جس کاروبار میں خسارہ نہ ہو وہ کاروبار ہی نہیں ہے بلکل بجا فرمایا لیکن صرف خسارہ ذہن میں رکھ کر کاروبار کا آغاز کرنا یا چھوڑدینا تو کوئی عقلمندی نہیں ہے نا! جو سرمایہ آپ نے کاروبار میں لگایا ہے وہ ایک طرح سے ضایع ہی ہے۔ لیکن یہ ہی کاروبار جب جڑیں مضبوط ہونے کے بعد ریٹرن دیگا تو وہ بہت زیادہ اور دیرپا ہوگا جو آپ کی لائف تبدیل کردیگا۔
                    اسلام نے بھی ہمیں کاروبار کی بہت ترغیب دی ہے اور برکت کا ذریعہ بتایا ہے۔ اس سے نہ صرف آپ اپنا اور اپنے گھر والوں کا بلکہ جو آپ کے پاس کام کرتے ہیں ان کیلئے بھی رزق کمانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بہتر زندگی دیسکتے ہیں پھر کاروبار سے آدمی کا ذہن کھلتا ہے اور وہ نئی نئی باتیں سوچتا ہے۔ نئے تجربے کرتا ہے کاروباری حوالے سے کے اس کو میں اپنے اور دوسروں کیلئے کیسے مزید بہتر بناسکتا ہوں ۔کمانا انبیاء علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ جو شخص ہاتھ پھیلانے سے بچنے اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کام کرتا ہے تو وہ اللہ کا پیارا بن جاتا ہے۔ اور جوسستی کرتا ہے اسکے اوپر کفالت کی ذمہ داری ہے پھر بھی وہ پوری نہیں کرتا ایسے شخص کیلئے سخت وعید ہے۔
                    آپ جس مارکیٹ سے کپڑا خریدتے ہیں یا جس سے سلواتے ہیں یا جہاں سے جوتے وغیرہ لیتے ہیں یا شادی کے انتظامات کے حوالے سے جس سے رابطہ کرتے ہیں یا اس طرح کے جو بھی معاملات کرتے ہیں۔ ان سب سے آپ تعلقات بڑھائیں یہ ہی آپ کے کاروبار میں مدد گار ہوسکتے ہیں اور اچھا مشورہ دے سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک تو آپ ان کے گاہک ہیں پھر وہ سب بھی کاروباری ہیں تو جو مشورہ وہ دےسکتے ہیں کوئی اور نہیں دے سکتا۔ اور ویسے بھی تعلقات آپکی زندگی کی ضرورت ہیں ۔ کیا آپ بغیر کسی سے بات کئے رہ سکتے ہیں! آپ کو بات کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی چاہئے ہوتا ہے جو آپ کو سنے سمجھے اور آپ اسکی سنیں اور کچھ سیکھیں۔
تعلقات کی تازہ مثال
آپ کو پتا ہوگا کہ دکان اور اسٹال کی قیمت میں فرق ہوتا ہے، جو چیز مارکیٹ میں ہزار کی ہو وہ مارکیٹ کے نکڑ پر سات سو کی مل جاتی ہے۔ ایک بار لاہور کی اچھرہ مارکیٹ سے خریداری کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک اسٹال پر شرٹس مل رہی تھیں تو معلوم کیا کے ایسی درجن شرٹس کتنے کی دوگے! تو باتیں شروع ہوگئیں اور تھوڑی بے تکلفی بھی ہوگئی۔ اور اس دوران میں موبائل فون نمبر کا تبادلہ بھی ہوگیا پھر وہیں سے ایک دوست جو گارمینٹس کا کام کرتا تھا اس سے رابطہ کیا اور آرڈر لیا۔ پھر اس سے کچھ سیمپل لئے اور دوست کو دکھائے ہر دکاندار کو سستے میں مال چاہئے ہوتا ہے میں نے ۳۰۰ کے حساب سے شرٹس لیں۔ اور دوست کو ۵۰۰ کے حساب سے دیں جو وہ ۷۰۰ کے حساب سے سیل کرتا ہے ۔اس ایک خریداری والے تعلق نے مجھے محض دو چار دن کی محنت سے ۴۰ ہزار روپے منافع دیا یہ فائدہ ہے تعلقات بڑھانے کا۔اپنی مشاہدے کی صلاحیت بڑھائیے اوراپنے بات کرنے کا طریقہ اور کاروباری مشاورت دیکھئے کے کہاں تک درست ہے۔ اور اس کو بہتر کرنے کی کوشش کیجئے کیونکہ یہ امور کاروبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کو ہماری یہ پوسٹس بھی پسند آئینگی

زیتون کا کاروبار

خرگوش فارمنگ کا کاروبار

 

زیتون کا کاروبار

زیتون کا کاروبار
                    آج جس پھل کا ذکر میں آپ سے کرنے جارہا ہوں وہ ہرہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ چاہے کھانے میں یا لگانے میں یا کاروبار کرنے میں یہ سب کیلئے فائدہ کا باعث ہے اور اسکا ذکر قرآن پاک میں بھی ملتا ہے۔ اور اسکی اہمیت حکیم اور ڈاکٹر کے نزدیک بھی بہت زیادہ ہے۔ لیکن آج بدقسمتی سے نہ اسکا استعمال عام ہے نہ اس کا کاروبار کرکے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اسکا نام زیتون ہے اور آپ کو شاید نہ معلوم ہو کہ اسکا درخت ہزار سال تک پھل دے سکتا ہے! یعنی جس نے اسکا درخت لگایا وہ اپنی نسلوں تک کو فائدہ پہنچاکر چلاگیا۔

                    پاکستان میں اسکا درخت لگانے کی فضا بہت سازگار ہے۔ اور یہاں بھی اچھی نسل کی کاشت بڑے آرام اور آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ اسکا تیل کولیسٹرول فری ہوتا ہے یہ دل کے مریض کیلئے فائدہ مند ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جاسکتا ہے اگر آپ کھانا صرف زیتون تیل میں پکاکر کھائیں تو انشأاللہ آپ کو دل کا مرض لاحق نہیں ہوگا۔ حدیث میں بھی اسکا ذکر ملتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔
زیتون کا کاروبار
                     قارئینابھی آپ کو صرف کھانے کے فائدے وہ بھی بہت تھوڑے گنوائے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔اور شاید پھر کسی مضمون میں اس پر تفصیل سے بات کرونگا ابھی تو اس کی کاروباری اہمیت پر بات کررہا ہوں۔ قارئین زیتون کا تیل اٹلی اور فلپائن وغیرہ سے آتا ہے جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا معیاری اور خالص نہیں ہے ۔جبکہ پاکستان کا زیتون کا تیل خالص ہے اور دنیا میں مانا جاتا ہے ۔زیتون کا ایک درخت اگر اچھی دیکھ بھال کی جائے تو ۵۵ کلو سے زیادہ پھل دے سکتا ہے ۔اور اگر دیکھ بھال نہ کی جائے تو ۳۰ کلو تک پھل کی امید ہے۔

                    آپ ۲۵ کلو ایک درخت سے فرض کرکے چلیں تو ایک ایکڑ میں ۴۰۰ درخت ہیں۔ تو آپ کو ایک ایکڑ سے دس ہزار کلو پھل حاصل ہوگا ۔اور تیل اس میں سے تقریبا بیس فیصد کے حساب سے نکلتا ہے تو آپ حاصل ہونے والا تیل ۲۰۰۰ کلو تک ہوگا۔ جو ایک کم توجہ پر بھی بہت اچھا ایوریج ہے۔کیونکہ یہاں پاکستان میں جو باہر کا تیل مل رہا ہے وہ خالص بھی نہیں ہے پھر بھی وہ آج کی تاریخ میں ۸۰۰ سے ۱۰۰۰ روپے کلو کے حساب سے فروخت ہورہا ہے ۔اگر ہم یہ کم سے کم حساب کو بھی لیکر چلیں تو ۸۰۰ فی کلو کو ۲۰۰۰ سے ضرب دیں تو یہ ۱۶۰۰۰۰۰ جی یہ سولہ لاکھ روپے بنتا ہے حالانکہ پاکستانی تیل تقریبا آج جب مضمون لکھا جارہا ہے ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ تک فروخت ہورہا ہے۔ یہ حساب سالانہ ہے۔

                      پاکستان میں اسکا ادارہ جو زیتون پر کام کررہا ہے وہ چکوال میں ہے۔ اور پودے بھی آپ کو وہیں مل جائینگے اوروہاں ایک سہولت اور بھی ہے حکومت کی طرف سے کے اگر آپ اپنا زیتون وہاں لیکر جائیں تو وہ آپ کو زیتون سے بلکل فری میں تیل نکال کر دینگے۔ کیونکہ حکومت ابھی ترغیب دےرہی ہے لوگوں کو زیتون لگانے کی تو کچھ سہولت بھی فراہم کررہی ہے۔
                    اب اس کے لگانے کا طریق کار دیکھ لیتے ہیں یہ ایک ایکڑ میں آپ زیتون کے پودے اسطرح سے لگائینگے کہ چاروں طرف سے تقریبا دس دس فٹ کی جگہ چھوڑنی ہے یعنی ایک پودے کے بعد دوسرا پودا دس فٹ کے فاصلے پر لگانا ہے۔ اسطرح دائیں بائیں اوپر نیچے جگہ چھوڑنی ہے اور پودا لگانے کیلئے دو فٹ چوڑا اور دو فٹ ہی گہرا گڑھا کھودنا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دو دن کا کام نہیں ہے آپ سالوں سال کیلئے پرمنینٹ کاروبار کرنے جارہے ہیں اسطرح ایک ایکڑ میں ۴۰۰ پودے آسکتے ہیں۔ پانی یہ نارمل لیتے ہیں جیسے دوسرے پودے لیتے ہیں ۔

یہ پوسٹ بھی اچھی ہیں

امپورٹ ایکسپورٹ لائسینس حاصل کرنا

حرام کھانے کے انسانی زندگی پر اثرات

خرگوش فارمنگ

خرگوش فارمنگ

          قارئین خرگوش فارمنگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے۔  جس کو پاکستان میں بھی بہت آسانی اور سہولت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے دوست کوئی ایسا کام ڈھونڈتے ہیں جو ابھی کوئی نہیں کررہا ہو یا بہت کم پیمانے یا جگہ پر ہورہا ہو۔ تاکہ اس میں مارکیٹ جلدی اور اچھے سے بنائی جاسکے۔ ان کے لئے بہترین مشورہ خرگوش فارمنگ کا ہے یہ کام پاکستان میں ابھی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور کرنے اور منافع کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔

                    اس کی کھال بھی فائدہ مند ہے اور گوشت بھی اس وجہ سے یہ برائیلر مرغی کے کام سے سو گنا بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا گوشت حلال ہے لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان میں نہیں کھایا جاتا ۔ اس کی ایک وجہ لوگوں کو اس کام کی طرف توجہ نہ دینا بھی ہے کیونکہ اگر اس کو مارکیٹ میں لایا جاتا تو ضرور لوگ اس کی طرف  متوجہ ہوتے۔

                     اب سوال یہ ہے کہ بالفرض اگر اس کا گوشت آپ کی تمام تر  کوششوں کے باوجود بھی  پاکستان میں نہیں کھایا جاتا۔ اور لوگ اسے پسند نہیں کرتے تو بھی پریشانی کی بات نہیں اسکا گوشت باہر بھی بھیجا جاتا ہے۔ اس کے کنٹیکٹ نمبر آپ کو نیٹ پر آسانی سے مل جائینگے۔ جو اس کا کام کرتے ہیں اور مال باہر بھیجتے ہیں اور اچھا منافع کمارہے ہیں بس آپ کو خرگوش پالنا ہے اور اسکی نسل بڑھانی ہے۔ پھر اسکو ان بیوپاریوں کو حوالے کردینا ہے پھر آگے ان کا کام شروع ہوتا ہے۔اس میں انویسٹ منٹ بھی کافی کم لگتی ہے اسی وجہ سے اسے کوئی بھی شروع کرسکتا ہے کوئی مسٔلہ کی بات نہیں ہے۔ 

خرگوش کی اقسام

                  سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ خرگوش کتنی قسم کا ہوتا ہے اور اس میں سے ہمارے مطلب کی نسل کونسی  ہے۔ جس کو ہم پال کر گوشت  حاصل کرسکتے ہیں۔  خرگوش کی دنیا  میں بے تحاشا اقسام پائی جاتی ہیں۔ کچھ صرف شوق کیلئے پالے جاتے ہیں یہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ کچھ گوشت کیلئے پالے جاتے ہیں یعنی آپ انکا کاروبار کرتے ہیں۔ ایک قسم جو آسٹریلین ہے اصل میں یہ ہے گوشت حاصل کرنے کیلئے جو آپ کو پالنی ہے۔

یہ وہ نسل ہے اگر انکی خوراک اچھی ہو تو ان کو تقریبا چار کلو تک کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان کی ایک پہچان یہ ہے کے یہ سفید ہوتے ہیں اور ان کے چہرے پر کالے دھبے ہوتے ہیں۔  یہ آپ کو اکثر جگہ مل جاتے ہیں جیسے کراچی میں صدر میں اور ملتان میں  دربار کے علاقے میں اور لاہور میں بھی آ  سانی  سے مل جاتے ہیں۔ خرگوش کہاں سے  لینا ہے یہ مسٔلہ نہیں ہے۔   یہ کچی زمین میں خوش رہتے ہیں اور اپنے گھروندے بناتے ہیں۔دیہات میں تو ان کو پالنا اور آسان ہوجاتا ہے۔ بس آپ کو چار دیواری بناکر ان کو چھوڑ دینا ہے۔ ان کو گیدڑ، کتے، اور  بلیوں سے ان کو بچانا ہے۔

طریقہ کار

یہ سردی ہو یا گرمی زمین کے نیچے رہنا پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ جب گرمی ہوتی ہے تو زمین اندر سے ٹھنڈی ہوتی ہے اور جب سردی  ہوتی ہے تو زمین اندر سے گرم ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ گیدڑ کتے وغیرہ اسکا شکار صرف اوپری حصے میں کرتے ہیں۔ جب یہ اپنے بل میں چلے جاتے ہیں تو یہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اور بچے بھی وہیں دیتے ہیں۔ لیکن اب چونکہ لوگ اسکو پالنے کی طرف آرہے ہیں تو کچھ جدت ان کو پالنے میں بھی آرہی ہے۔ اب کچھ لوگ ان کو پنجروں میں پال رہے ہیں لیکن کچھ الگ طرح سے پنجرے کی زمین میں مٹی بھردی جاتی ہے۔ تاکہ یہ اس میں بل بناسکیں۔ کچھ دڑبے بناکر کام کررہے ہیں۔

پانی اور خوراک ان کو آپ نے روز دینی ہے۔پانی کوشش کریں کہ صاف دیں کیونکہ یہ صاف پانی پسند کرتا ہے اور زیادہ پیتا ہے۔  چارے میں آپ ان کو پھل اور سبزی کے چھلکے ڈال سکتے ہیں پالک اور گاجر اسکو بہت پسند ہے۔ اور کھیت میں اگنے والا چارا بھی یہ کھاتا ہے۔ایک اہم بات جو آپ کو ذہن میں رکھنی ہے وہ یہ کہ ان کو کم مقدار میں نہیں پالنا ہے۔ پھر ان سے فائدہ نہیں ہونے والا ان کو آپ بڑی تعداد میں پالنا ہے۔  کیونکہ ایکسپورٹر آپ سے ان کی بڑی تعداد لینگے کم مال نہیں لینگے۔

ان کا گوشت بہت اچھا ہوتا ہے آپ پال کر اسکا گوشت خود بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ مچھلی اور خرگوش کا گوشت سب سے کم موٹاپا لاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا ہمیں اندازہ نہیں ہے لیکن باہر اس کی اہمیت لوگوں کو معلوم ہے جبھی وہ اس کو کھاتے بھی ہیں اور اس کی کھال استعمال میں بھی لاتے ہیں۔ اسکا گوشت گرم نہیں ہوتا گرمی میں بھی اس کو بلا جھجھک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ پوسٹ بھی دیکھیں

یہ بھی دیکھیں

کاروبار کریں

زیتون کا کاروبار

پاکستان میں امپورٹ ایکسپورٹ لائیسنس حاصل کرنا

پاکستان میں امپورٹ ایکسپورٹ لائیسنس حاصل کرنا

                  امپورٹ ایکسپورٹ ایک بہت اچھا کاروبار ہے جو اس کام میں ہیں وہ اچھا کمارہے ہیں۔ لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جس میں لائیسنس کا ہونا بھی شامل ہے لائیسنس لینے کے بعد آپ پوری دنیا سے کچھ بھی منگواسکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ مال پاکستان منگوانے کی اجازت ہو۔ اب اسکو حاصل کرنے کا کچھ طریقہ کار ہے وہ مرحلہ وار بتانے کی پوری کوشش کرونگا۔ سب سے پہلے آپ کو اپنا این ٹی این یعنی نیشنل ٹیکس نمبر بنوانا پڑتا ہے۔ یہ ہر شہر میں سرکاری دفتر سے بن جاتا ہے اور اسکی کوئی فیس بھی نہیں ہوتی۔ بس فارم فل کرکے دیں اور بس لیکن پھر بھی آپ گھر بیٹھے کام کرانا چاہتے ہیں تو اسکے بندے دفتر کے باہر مل جائینگے۔ جو ایک مخصوص رقم لیکر آپ کو گھر بیٹھے یہ نمبر لاکر دیدینگے۔

                  نیشنل ٹیکس نمبر میں آپ کو اپنی کچھ معلومات دینی پڑتی ہیں۔ جیسے آپ کی انکم اور آپ کے اثاثہ جات وغیرہ کی۔اسکے بعد باری آتی ہے سیلز ٹیکس نمبر کی اس میں آپ کی کمپنی کا سارا ریکارڈ اور کمپنی کی حیثیت یا ورتھ وغیرہ کے معاملات آجاتے ہیں۔ اس کے بعد فرم یا کمپنی رجسٹر کرنے کا نمبر آتا ہے یہ بھی آپ خود جاکر کرواسکتے ہیں۔ یا وکیل کے ذریعے آسانی سے کرواسکتے ہیں اس سے ٹائم بچ جاتا ہے ہاں تھوڑا اضافی پیسہ لگ جاتا ہے۔ اسطرح امید ہے کے ایک ہفتے میں آپ کی کمپنی رجسٹرڈ پوجائیگی۔ اس میں وہ شناختی کارڈ اور جو جگہ ہے اس کے بل کی کاپی وغیرہ اور پی ٹی سی ایل نمبر ہے تو وہ بھی فراہم کرنا ہوگا اگر جگہ اپنی ہے تو کاغذات اور اگر کرائے کی ہے تو مالک کے ساتھ جو ایگریمنٹ ہے اسکی کاپی چاہئے ہوگی۔

                   پھر جب یہ سب ہوجائے تو آپ کو چیمبر آف کامرس کی رکنیت یعنی ممبر شپ بھی چاہئے ہوگی۔ جس کیلئے آپ کو ایک اپلیکیشن دینی ہوگی اور اس کی بھی کچھ فیس ہے۔ اس کے بعد آپ کو جانا ہے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں وہاں سے آپ کو ایک وی باک نمبر لینا ہے اس کے بعد آپ کے ڈاکومینٹیشن مکمل ہیں۔اب آپ پوری دنیا سے کچھ بھی منگواسکتے ہیں کسی بھی ملک کی کسی بھی کمپنی سے ڈیل کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کھلونے کا کنٹینر یا کھاد یا کوئی اور لگژری آئٹم آپ منگواسکتے ہیں۔ لیکن جو آئٹم آپ منگوارہے ہیں اگر وہ کسی محکمے سے کنٹرول کیا جاتا ہے تو آپ کو اس محکمے کو اطلاع کرنی ہوگی جیسے اگر آپ کھاد منگوارہے ہیں تو آپ کو محکمے زراعت کو اطلاع کرنی ہوگی کہ یہ مال میرا باہر سے آنے والا ہے۔ اور جب ٓپکا مال آجائے تو پھر ایک دفعہ اور آپ کو بتانا ہوگا کہ سر جو مال کی اطلاع میں نے آپ کو دی تھی وہ مال پورٹ پر آگیا ہے۔

                 بس اس طرح سے یہ کام ہوگا اور بہت اچھا کام ہے لوگ لاکھوں نہیں کروڑوں کمارہے ہیں بس لائسنس بنوانے کی دیر ہے۔ دیکھا گیا ہے کے کھاد کی پاکستان میں کمی ہے اور یہ چائنا سے بہت امپورٹ ہورہی ہے یا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی کس چیز کی ضرورت ہے کیا ٹرینڈ چل رہا ہے آپ اس حساب سے مال منگوانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔

یہ پوسٹس بھی آپ کو پسند آئینگی

زیتون کا کاروبار کرنا

خرگوش فارمنگ کا کاروبار کرنا