کروز میزائل بمقابلہ بیلیسٹک میزائل

کروز میزائل بمقابلہ بیلیسٹک میزائل

         دوستو آپ کو معلوم ہی ہے کہ آج کل میزائل کی دوڑ میں ملک کیسے جنونی اور پاگل ہوئے ہیں۔ ہر ملک یہی چاہتا ہے کہ اسکا میزائل سب سے تیز اور جدید ہو۔ اس کے لئے یہ ممالک نت نئے تجربے کرتے رہتے ہیں اس میں آپ نے دو طرح کے میزائل کا نام سنا ہوگا۔ ایک کروز میزائل اور دوسرا بیلیسٹک میزائل اب ان میں کیا فرق ہے وہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہوسکے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اس وقت کون سے میزائل کس تعداد اور رینج میں موجود ہیں۔

         ہم بات کرتے ہیں اگر پاکستان کی آرمی کی تو اسکا شمار دنیا کی بہترین آرمی میں ہوتا ہے۔ ماشااللہ۔ اور ہمارے جو میزائل ہیں وہ بھی بہترین ٹیکنالوجی کے حامل مانے جاتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں کے ان دونوں میزائل میں کیا فرق ہے اور ان کا آرمی کے پاس ہونا آج کے دور میں کیوں ضروری ہے۔ اگر بات کی جائے بیلیسٹک میزائل کی تو اس کی ٹیکنالوجی کروز کے مقابلے میں سادہ ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اگر اس کو ایک بار ہدف کے کیلئے چھوڑدیا جائے تو پھر اس کو کنٹرول کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا ہے۔

یعنی جیسے آپ نے کبھی بچپن میں شرلی یا جو بھی آپ نام دیں چلائی ہوگی جو ماچس دکھاتے ہی سیدھی اوپر کی جانب جاتی ہے اور کہاں جاکر گرنا ہے کچھ پتا نہیں ہوتا اسی طرح بیلیسٹک میزائل ہے اس کا بھی کنفرم پتا نہیں ہوتا کہ اس کا کیا ہدف ہے۔ بس ایک حساب سے اس کو سیٹ کرلیا جاتا ہے۔ جس کے بعد یہ اپنے ہدف کا تعاقب کرتا ہے۔

کروز میزائل

          اس کے مقابلے میں اگر ہم کروز میزائل کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی بہت جدید ہےجو ایک راکٹ کی طرح کام کرتی ہے۔  اس کو گائیڈڈ میزائل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی کو میزائل کے فائر کرنے کے بعد بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے جسکی وجہ سے یہ بیلیسٹک میزائل کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز ہے اور ٹارگٹ کو ہٹ کرنے میں بہترین ہے۔ اس کی ڈائریکشن چینج کی جاسکتی ہے جگہ تبدیل کی جاسکتی ہےجہاں انہیں فائر ہونا ہوتا ہے۔

اب ان کے راستے کی بات کی جائے تو جو بیلیسٹک میزائل ہوتے ہیں وہ باقاعدہ خلا میں چلے جاتے ہیں اور جب ان کا فیول ختم ہوجاتا ہے تو یہ واپس نیچے اپنے ٹارگٹ کی طرف آرہے ہوتے ہیں۔جبکہ اگر کروز میزائل کی بات کی جائے تو یہ زمین سے کافی قریب رہ کر اپنا راستہ طے کرتے ہیں اس کی وجہ سے یہ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے میں کافی بہتر ہوتے ہیں۔  

استعمال کہاں کیا جاتا ہے؟

           بیلیسٹک میزائل کو عام طور پر جب استعمال کیا جاتا ہے جب کسی ملک میں باقاعدہ جنگ شروع ہوجائے۔ جبکہ کروز میزائل کو کسی خاص جگہ کو ٹارگٹ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے یا کسی سرجیکل اسٹرائک کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگران کی مسافت کی بات کی جائے تو  بیلیسٹک میزائل 10000km کلو میٹر تک جاسکتا ہے۔اس کی اتنی لمبی رینج کی وجہ یہ ہے کہ یہ اسپیس میں سفر کررہے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے ان کو ہوا کا پریشر اور رگڑ برداشت نہیں کرنی پڑتی تو یہ لمبا سفر بھی آسانی سے طے کرلیتے ہیں۔

اب اس کے مقابلے میں کروز میزائل کو جو زمین سے کافی قریب رہ کر اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کررہے ہوتے ہیں ان کو ہوا کا پریشر اور رگڑ برداشت کرنی پڑرہی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی اسپیڈ اور رینج کافی کم ہوجاتی ہے۔ یہ تقریبا 6000 کلو میٹر کی رینج تک سفر کرپاتے ہیں لیکن آگے چل کر ان کی رینج اور بڑھائی جاسکتی ہے۔

بیلیسٹک میزائل کو اگر روکنے کی بات کریں تو ان کوایک اندازے کے مطابق روکا جاسکتا ہے جیسے کہ یہ ایک مخصوص راستے میں ایک مخصوص اسپیڈ کے ساتھ سفر کررہے ہوتے ہیں ۔ ان کو ایک حساب سے ایک اور میزائل مارا جاتا ہے جو ان کو ہوا میں ہی تباہ کردیتا ہے۔ جبکہ کروز میزائل کو روکنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کو ہروقت کنٹرول کیا جارہا ہوتا ہے۔ اور ان کی لوکیشن کو آسانی سے تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس کا روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کے سسٹم کو ہیک کرکے اس کی ٹارگٹ کو تبدیل کرکے کہیں اور گرادیا جائے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

دوستو امید ہے یہ معلوماتی آرٹیکل آپ کو پسند آیا ہوگا کمنٹ میں ضرور بتائیں تاکہ اس طرح کے اور آرٹیکل لکھنے کا حوصلہ ہو۔