کرائے کے قاتل

کرائے کے قاتل

             assassins creed ایک بہت مشہور گیم سیریز ہے۔ اس کی سو ملین سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ اب اس پر حال ہی میں ہالی ووڈ میں مووی بنائی جارہی ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی تمام کہانیاں حقیقت پر مبنی ہیں۔اس کو آپ ایک مختصر تاریخ کہہ سکتے ہیں جو مسلمانوں کی تاریخ پر مبنی ہے۔  1492ء میں مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کردیا گیا تھا۔اس وقت وہ سائنس اور تحقیق میں عروج پر تھے۔مسلمانوں نے اسپین پر 800 سال تک حکمرانی کی اس عرصے میں مسلمان تحقیق،تعمیرات اور تعلیم میں اپنے عروج پر تھے۔لیکن پندرہویں صدی عیسوی میں صلیبی عیسائیوں نے حملہ کرکے یہاں سے مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ کردیا۔یہ قبضہ انتہائی شاطرانہ انداز میں ہوا۔ کیونکہ 1469ء میں فیرڈیننڈ نامی شخص نے ملکہ ازابیلا سے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر شادی کی۔

جنگی تصویر

             شادی کے بعد اس نے غیر محسوس انداز میں پورے اسپین پر اپنا قبضہ جمالیا۔اس دوران اس نے مسلمانوں کے علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ سوائے گریناڈا کے یہ وہ علاقہ تھا جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہی رہا۔ اس علاقے میں مسلمان اقلیت کی حیثیت سے رہتے تھے۔یہاں وہ اپنے مذہبی رسومات وغیرہ کے معاملے میں آزاد تھے۔فیرڈیننڈ ایک شاطر شخص تھا اس نے مزید قتل و غارت کرنے کی بجائے ایک اور منصوبہ سوچاکہ کسی طرح مسلمانوں کو اپنے اچھے اخلاق اور اچھا برتاؤ دکھاکر عیسائیت اپنانے پر آمادہ کیا جائے اس کیلئے اس نے مسلمانوں کو ان کے پورے حقوق فراہم کئے اور انکو مذہبی آزادی دی تاکہ وہ عیسائیوں کے اچھے برتاؤ سے متاثر ہوجائیں۔

oppo find X کی معلومات

گوگل کے پروگرام سے پیسے کیسے کمائیں

             اس سارے واقعے کے بعد مسلمانوں نے کئی سال امن و سکون سے گزارے۔ لیکن ملکہ ازابیلا مسلمانوں کے سخت مخالف تھی وہ چاہتی تھی کہ کسی طرح مسلمانوں کا صفایا ہوجائے یا وہ عیسائیت قبول کرلیں۔ لیکن مسلمان کسی صورت اپنے دین کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ اسلئے جب بادشاہ اور ملکہ دونوں کو اسکا احساس ہوگیا تو اپنے اصلی رنگ پر اتر آئے۔ پھر انہوں نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ  1499؁ ؁کا وقت تھاجب اسپین کی حکومت نے مسلمانوں کے قتل عام کا حکم جاری کردیا۔ پھر اس طرح مسلمانوں کا معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل عام شروع ہوگیا۔

             کچھ لوگ جن میں بچے اور عورتیں کافی تعداد میں تھے ایک مسجد میں پناہ کی خاطر جمع تھے۔ ان کو بھی بد ترین طریقے سے تشدد کرکے مارا گیا۔ اب اس کے بعد ہوا یہ کہ مسلمانوں نے اسپین حکومت کے خلاف بغاوت شروع کردی۔ اب اس بغاوت کا بہانہ کرکے اسپین کی حکومت کھل کر سامنے آئی اور کھل کر کہا کہ عیسائی مذہب اختیار کرو یا اسپین سے باہر نکل جاؤ۔ اس دوران ایک ظلم مسلمانوں پر یہ ہوا کہ انکی علمی کتابیں اور قرآن شریف کو کافی بڑی تعداد میں میدان میں لاکر آگ کی نذر کردیا گیا۔

  سلطان صلاح الدین ایوبی

             اب اس کے بعد سلطان کا دور آیاجو ایک عظیم ہیرو ہیں۔ وہ اپنے اخلاق اور ایمانداری اور ذہانت کی وجہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ سلطان کو عیسائی اور   ایک دوسرے قاتل گروہ سے بیک وقت سامنا تھا۔ یہ بہت ماہر نشانے باز اور ظالم قاتل تھے جو اپنا کام مہارت اور رازداری سے کرتے تھے۔ یہ بھیس بدلنے کے بھی ماہر تھے جنہیں اساسینز بھی کہا جاتا ہے یعنی وہی assassins creed جو  گیم کا نام ہے۔ لیکن سلطان ایوبی نے انکو اپنی ذہانت اور حکمت کی بدولت شکست دی۔ اور یہ ہر محاظ پر پسپا رہے۔ 

             انہیں assassins کہنے کے پیچھے بھی ایک واقعہ ہے۔یہ حسن بن صباح کے فوائیوں میں سے تھے۔جو اپنے فدائیوں کو نشہ آور ادویات کھلاکر دنیا میں جنت دکھاتااور ہر کام کرنے کیلئے ان کو تیار کرتا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حسن بن صباح کے کہنے پر سلطان کو زہر دینے کی کوشش کی۔ لیکن یہ ناکام رہے۔ یہ خفیہ رہ کر دشمن کے علاقے میں جاسوسی کرتے اور شکست  دیتے۔ ان کے خاص ہدف اور دشمن مسلم خلیفہ تھے۔ 

            یہ ہی اس گیم کی تاریخ ہے جس پر یہ گیم بنایا گیا ہے جو آج دنیا کا مقبول ترین گیم ہے۔ اس کی معلومات لوگوں تک پہچانا ضروری تھا اس لئے میں نے یہ آرٹیکل لکھا امید ہے آپ کو پسند آیا ہوگا۔

بادشاہ کے تین سوال

بادشاہ کے تین سوال
                    ایک دن اس بادشاہ کا مزاج اچھا تھا اور اسی موڈ میں اس نے وزیر سے اس کی سب سے بڑی خواہش معلوم پوچھی تو وزیر پہلے خاموش رہا۔ پھر بادشاہ کے اسرار کرنے پر بولا ’’ بادشاہ سلامت آپ ایک بڑی اور خوبصورت سلطنت کے مالک ہیں۔ اگر اس میں سے کچھ مجھے مل جائے تو میں خوش قسمت لوگوں میں سے ہونگا‘‘ یہ کہہ کر وزیر خاموش ہوگیا ۔ تو بادشاہ جو اچھے موڈ میں تھا بولا ’’ اگر میں آدھی سلطنت دیدوں تو؟‘‘ تو وزیر بیچارا حیران پریشان حیرت سے بولا کہ بادشاہ سلامت یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو بادشاہ نے اسی وقت احکامات جاری کئے اور ایک نہیں دو حکم جاری کئے ۔ ایک میں بادشاہ نے اس کو آدھی سلطنت کا مالک بنانے کا حکم دیا دوسرے میں اس کے سر قلم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ تو وزیر بڑا حیران اور گھبرایا اور بادشاہ سے اسکی وجہ معلوم کی تو بادشاہ بولا ’’ تمہارے پاس ۳۰ دن کا وقت ہے اگر تم میرے تین سوالوں کے جواب دیدو تو دوسرا حکم جس میں سر قلم کرنے کا ذکر ہے وہ منسوخ ہوجائیگا۔لیکن اگر ناکام ہوئے تو پہلا حکم منسوخ ہوجائیگا جس میں آدھی سلطنت تمہارے نام کرنے کا حکم ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بادشاہ خاموش ہوگیا ۔ وزیر ابھی حیران پریشان بیٹھا تھا۔ کہ بادشاہ بولا کہ ’’ وہ تین سوال لکھ لو‘‘ تو وزیر نے لکھنے شروع کئے پہلا سوال بادشاہ نے لکھوایا ’’ انسان کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے‘‘ پھر دوسرا سوال لکھوایا ’’ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے پھر بولا’’ تیسرا سوال یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے‘‘ اس کے بعد کہا کہ تمہارا وقت شروع ہے تو وزیر نے وقت ضایع کرنا مناسب خیال نہ کیا اور سوال لیکر چلتا بنا۔

                    اب اس نے نامور دانشوروں اور علما سے رابطہ کیا اور سوال دہرائے لیکن کوئی قابل تشفی جواب نہ دے سکا۔وہ سوال لیکر ملک اور ملک سے باہر گھوما پھرا لیکن اس کو جواب نہ مل سکے۔ وہ شہر شہر گاؤں گاؤں مارا مارا پھرتا رہا لیکن جواب نہ ملسکے۔ اور اسی طرح وہ دن بھی آگیا جب ان سوالوں کے جواب کا آخری دن تھا۔ اب اس کو لگنے لگا تھا کہ بس آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اب اسکی گردن اتاردی جائیگی۔ اب وہ انہی سوچوں میں گم ایک جھونپڑی میں پہنچا تھک گیا تھا بھوک پیاس بھی لگی تھی۔ یہاں ایک شخص تھا دکھنے میں فقیر لگتا تھا اس نے کہا ’’آپ وزیر ہیں اور آپ کا جو مسٔلہ ہے میں جانتا ہوں ‘‘ تو وزیر نے حیران ہوکر کہا کہ’’ تم کیسے جانتے ہو‘‘ تو فقیر نے کہا کہ’’ میں بھی ایک وقت میں بادشاہ کا خاص وزیر تھا۔ اور میں نے بھی بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کرلی تھی‘‘ تو وزیر نے پوچھا ’’ تو کیا آپ بھی جواب تلاش نہ کرسکے تھے؟‘‘ تو فقیر مسکرایا اور کہا ’’ میرا معاملہ تھوڑا الگ تھا میں نے جواب تلاش کرلئے تھے۔ اور بادشاہ کو بتائے تھے پھر میں نے وہ آدھی سلطنت کو بھی ٹھکرایا اور یہاں آکر جھونپڑی میں رہنا شروع کردیا‘‘ پھر وہ خاموش ہوگیا۔وزیر کو بہت حیرت ہوئی لیکن ابھی اسکا وقت نہیں تھا کہ وہ معلوم کرتا کہ سلطنت کیوں چھوڑی؟ بلکہ جواب معلوم کرنے کا وقت تھا۔ اسلئے اس نے فقیر سے کہا کہ’’ کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دینگے؟‘‘ تو فقیر نے کہا کہ’’ ہاں دونگا لیکن دو جواب مفت میں بتادونگا لیکن تیسرے کیلئے تمہیں کچھ قیمت ادا کرنی ہوگی‘‘ تو وزیر کے پاس ماننے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا تو اس نے ہامی بھرلی۔

سوالوں کے جواب

                    اس کے بعد فقیر نے جواب بتانا شروع کئے اور کہا’’ پہلے سوال کا جواب دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے۔ جسے دنیا کا ہر شخص تسلیم کرتا ہے چاہے وہ کسی مذہب کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو‘‘۔ پھر اس نے دوسرے سوال کا جواب دیا کہ ’’ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے یہ جتنی بھی لمبی ہو ختم ہونے والی ہے‘‘۔ وزیر جواب سن کر بہت خوش ہوا اور تیسرے جواب کیلئے جو شرط تھی وہ معلوم کی تو فقیر نے کتے کے سامنے سے وہ پیالہ اٹھایا جس میں وہ دودھ پی رہا تھا۔ اور کہا ’’ پہلے اس میں سے دودھ پیو پھر تیسرے سوال کا جواب دونگا‘‘ تو وزیر نے ایک نفرت بھرے انداز اس دودھ کو پینے سے انکار کیا۔ تو فقیر نے کہا ’’ ٹھیک ہے تو جیسے آپ کی مرضی میں تیسرے کا جواب نہیں دیسکتا تم خود تلاش کرلو‘‘۔ اب وزیر سوچنے لگا کے ایک طرف موت اور دوسری طرف آدھی سلطنت اور اچھی زندگی تھی تو اس نے اچھی زندگی کو سامنے رکھ کر دودھ پینے کا فیصلہ کیا اور دودھ کو پی لیا۔ اس پر فقیر مسکرایا اور کہا’’ اے نادان وزیر انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی غرض ہوتی ہے جو آپ سے وہ کام کرالیتی ہے جس کو کرنے میں آپ نفرت اور کراہت محسوس کرتے ہیں۔ بس میں نے اس لئے سلطنت کو چھوڑدیا کہ جتنا میں دنیا کے دھوکے میں آؤنگا اتنا موت کی سچائی کو بھلادونگا بس میں اس جھونپڑی میں آکر رہنے لگ گیا۔‘‘ وزیر وہ سوالات کے جواب پاکر سوچ میں غرق ہوگیا کیونکہ اسکو بھی وہی احساس ہوگیا تھا جو فقیر کو جواب ملنے پر ہوا تھا اور اس نے دنیا کو ٹھکرانے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ پوسٹ بھی دیکھیں

شطرنج ایجاد کرنے والے کے ساتھ کیا ہوا

حرام کھانے کے اثرات

شطرنج کی ایجاد

شطرنج کا مؤجد
                    شطرنج ایک بہت پیچیدہ کھیل ہے اور یہ کھیلنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ پھر جب کھیلنے والے ایک دفعہ شروع کرلیں تو ختم کئے بغیر نہیں رہ سکتے پھر چاہے یہ ہفتوں یا مہینوں تک چلتا رہے۔ اس لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ شطرنج کھیلنے والے جب کھیلنے بیٹھتے ہیں تو دنیا مافیہا سے تقریبا بے خبر سے ہوجاتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ اس کے مؤجد کے ساتھ اس کھیل کو ایجاد کرنے کے حوالے سے ایک واقعہ جڑا ہوا ہے جو دلچسپ اور عجیب ہے ؟ یہ کھیل چھ صدی عیسوی کو برصغیر میں ایجاد ہوا۔ اس زمانے کا بادشاہ مختلف کھیل کھیلنے کا بہت شوقین تھا۔ لیکن وہ پرانے کھیل کھیل کر اب بور ہوچکا تھا۔ تو اس کی ساتھ والی ریاست سے ایک ریاضی کا ماہر جسکا نام سیسا تھا شطرنج کا کھیل لیکر حاضر ہوا اور بادشاہ کے سامنے اس کھیل کو پیش کیا اور اس کے رول اور قوانین سمجھائے۔ جب بادشاہ نے وہ کھیل کھیلا تو بہت متاثر ہوا اور اس کھیل کو پسند کیا۔

                    پھر اس شخص سے کہا کے ’’مانگو کیا مانگتے ہو؟‘‘ تو اس نے کہا کے ’’اگر آپ مجھے چاول کے دانے دیدیں تو بس مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیئے لیکن شرط یہ ہے کے چاول کے دانے میرے طریقے اور فارمولے کے مطابق آپ دینگے۔‘‘ تو بادشاہ نے پوچھا وہ فارمولا کیا ہے جسکے مطابق تم چاول لینا چاہتے ہو تو اس نے کہا کہ ’’بادشاہ سلامت شطرنج کے چونسٹھ خانے ہیں آپ بس ایسا کریں کہ خانوں کے حساب سے چاول کی مقدار دگنی کرتے جائیں یعنی پہلے خانے میں ایک چاول پھر دوسرے میں دو اور پھر تیسرے میں چار چاول رکھیں اسطرح سے مقدار بڑھاتے جائیں۔‘‘ تو بادشاہ مسکرایا اور کہا’’ بس اتنا ہی اور کچھ نہیں چاہیئے؟‘‘ تو اس نے کہا ’’ جی بس اتنا ہی‘‘ تو بادشاہ نے حکم جاری کیا کے جیسا اس شخص نے ہے ایسے ہی اس کو چاول دیدیئے جائیں شطرنج کے ۶۴ خانوں کے حساب سے اب چاول دینے کا عمل شروع ہوا اور ہی اس کی موت کی وجہ بنا۔

فارمولے کے مطابق چاول کی ادائیگی

                    اب پہلے خانے میں چاول کا ایک دانہ رکھا گیا اور اس کو دیدیا گیا۔ پھر دوسرے خانے میں دو دانے رکھے اور دیدیئے پھر تیسرے میں ۴ چاول کے دانے رکھے پھر چوتھے میں ۸ دانے رکھے اور دیدیئے۔ پھر پانچویں خانے میں ۱۶ دانے رکھے اور چھٹے خانے میں ۳۲ دانے پھر ساتویں خانے میں ۶۴ پھر آٹھویں میں ۱۲۸ پھر نویں میں ۲۵۶ پھر دسویں میں ۵۱۲ پھر گیارہویں میں ۱۰۲۴ پھر بارہویں میں ۲۰۴۸ پھر تیرہویں خانے میں ۴۰۹۶ پھر چودہویں میں ۸۱۹۲ پھر پندرہویں خانے میں ۱۶۳۸۴ پھر سولہویں میں ۳۲۷۶۸ پھر سترہویں میں ۶۵۵۳۶ پھر اٹھارویں میں ۱۳۱۰۷۲ پھر انیسویں میں ۲۶۲۱۴۴ چاول کے دانے آئے۔ اور اب بادشاہ کو کچھ اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ مشکل میں پھنس گیا ہے۔ پھر تیسری قطار کے آخری خانے تک چاول کی تعداد ۸۰ لاکھ تک پہنچ گئی۔

                    اب بادشاہ کے تمام درباری بس چاول گنتے رہتے۔ اب مختصر یہ کہ جب چوتھی قطار یعنی ۳۳ واں خانہ شروع ہوا تو ملک سے چاول ہی ختم ہوگئے۔ اب بادشاہ نے اپنے ملک کے بڑے ریاضی دان بلائے اور کہا کہ وہ حساب لگاکر بتائیں کے شطرنج کے ۶۴ خانے بھرنے کیلئے کتنے چاول چاہیئں اور اس میں کتنے دن لگینگے۔ تو ریاضی دانوں نے کئی دن کے حساب کے بعد بھی سہی اندازہ لگانے سے قاصر رہے۔ اور آج کے دور میں اسکا اندازہ بل گیٹس نے لگایا ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک کے ساتھ انیس زیرو لگائیں تو اتنے چاول چونسٹھ خانوں میں آئینگے ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم ایک بوری میں ایک ارب چاول بھریں تو چاول پورے کرنے کیلئے ہمیں اٹھارہ ارب بوریاں درکار ہونگی ۔
                    قارئین یہ وہ حساب ہے جو عام کیلکولیٹر سے نہیں لگایا جاسکتا اس کیلئے کمپیوٹر کی ضرورت ہوگی آپ بھی یہ چیک کر سکتے ہیں اس کو مینجمنٹ کی زبان میں چیس بورڈ رائس کہا جاتا ہے اب دیکھتے ہیں سیزا کا کیا بنا اور بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا کیا قارئین جب بادشاہ نے دیکھا کے ملک سے تمام چاول ختم ہوگیا ہے اور شطرنج کے مؤجد نے اس کو برا پھنسایا ہے تو اس نے انتہائی غصے میں سیزا کا سر قلم کرنے کا حکم دیا اور یوں شطرنج کا ایجاد کرنے والا مارا گیا ۔

ہماری یہ کاوش بھی اچھی ہیں

بادشاہ کے تین سوال اور وزیر کے جواب

حرام کھانے کے اثرات

حرام کھانے کے اثرات

حرام کھانے کے اثرات
                    وہ جب اپنے استاد کے ساتھ تھا تو اسکے استاد نے اسے مزدوری پر لگادیا۔ وہ بحری جہاز میں مال رکھنے اور نکالنے پر مامور تھا سارا دن کام کرنے کے بعد جب معاوضہ ملتا تو وہ استاد کو لاکر دیتا اور استاد جی بس دو وقت کے کھانے کے پیسے نکال کر باقی خیرات کردیتے تھے۔ اس نے ایک دن اس عمل کی حکمت معلوم کرنے کی کوشش کی تو استاد جی نے جواب دیا کے پہلے گیارہ مہینے ایسا ہی کرو پھر اسکا جواب بھی دیدونگا۔چنانچہ اس نے گیارہ مہینے یہ کام کیا مال لوڈ کرتا یا ان لوڈ کرتا پھر گیارہ مہینے پورے ہوگئے۔ تو ایک دن استاد جی نے کہا کہ کل جب تم کام پر جاؤ تو کام نہیں کرنا۔ بلکہ کوئی بھی بہانہ کرکے لیٹ جانا کہ میرے سر میں یا کمر میں درد ہے۔ پھر جب چھٹی کا ٹائم آئے تو اپنا معاوضہ لیکر آجانا۔

                  اس نے ایسا ہی کیا کام پر پہنچ کر ہائے ہائے کرنے لگ گیا اور بہانا کیا کے بہت تکلیف ہے کام تھوڑی دیر میں شروع کرتا ہوں۔ پہلے تھوڑا لیٹ جاتا ہوں تو یہ بول کر وہ لیٹ گیا اور چھٹی تک اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر شام کو معاوضہ لیکر اپنے استاد کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔اب استاد جی نے کہا کہ وہی کرو کہ دو وقت کی روٹی کے پیسے نکال کر باقی خیرات کردو۔ تو جب وہ ایسا کرنے لگا تو اپنی نئی کیفیت پر حیران رہ گیاکہ آج اسکا خیرات کا بلکل دل نہیں کررہا تھا اور ایسا ان گیارہ مہینوں میں پہلی بار ہوا تھا۔

                    پھر وہ کھانے کیلئے بیٹھا اور خوب سیر ہوکر کھایا لیکن اسکی طبیعت اس طرح نہیں بھری۔ جیسے اس سے پہلے سیر ہوتی تھی پھر جب سونے کیلئے لیٹنے لگا تو اس کو انجانے خوف کا احساس ہوا تو اس نے ان گیارہ مہینوں میں پہلی بار کنڈی لگائی۔ اور پھر صبح اٹھا تو بوجھل بوجھل تھا نیند پوری نہیں ہوئی تھی پھر پہلی دفعہ اس کو لگا کہ جسم سے بو آرہی ہے۔ تو اس نے زندگی میں پہلی دفعہ پرفیوم کا استعمال کیا اور پھر نماز پڑھنے گیا تو کوئی لذت کا احساس نہیں ہوا۔
                    اس نے اپنی کیفیات اپنے استاد جی کو بتائیں تو وہ مسکراکر بولے بیٹا ’’یہ سب حرام کھانے کا کمال ہے جو تم نے کل کام نہ کرنے پر پیسے لیکر آگئے تھے۔ حرام آپ کی زندگی کی نعمتوں کا جوہر اڑادیتا ہے۔ آپ انسان سے جانور بن کی طرف چلے جاتے ہیں‘‘ استاد جی نے کہا کہ’’ میرے بچے حرام ہمیشہ بھوک کو بڑھادیتا ہے۔ نیند میں اضافہ کردیتا ہے اور نیند کی لذت اور سکون ختم کردیتا ہے۔ جسم میں بو پیدا کرتا ہے اور دل تنگ کردیتا ہے۔ پھر آپ کو کسی کو کھلانے میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہوگی۔ آپ کا ایک دن کا حرام کھانا آپ کو چالیس دن ستاتا ہے اور ان چالیس دنوں میں آپ جھوٹ کی طرف بھی جائینگے غیبت بھی کرینگے۔ اور آپ کے دل میں لالچ بھی آ جائیگا اور آپ دوسروں کو دھوکا بھی دینگے۔ اور آپ کے اندر کسی بھی طرح امیر بننے کی خواہش ہوگی چاہے کوئی بھی دو نمبر طریقہ ہو ۔
                  یہ سب سن کر وہ ڈرگیا اور اس نے استاد جی سے پوچھا کہ ان سب اثرات سے بچنے کیلئے مجھے کیا کرنا ہوگا تو ان ہوں نے کہا کہ ’’روزہ رکھو اور خاموشی اختیار کرو یہ تمہیں اندر سے پاک کردینگے‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے تو اس نے کہا میں پاکستان سے آیا ہوں کیا میرا سفر رائیگاں جائیگا؟ انہوں نے نفی میں سر ہلایا اور کہا ’’ہرگز نہیں میں نے چالیس سال کی تپسیا کے بعد جو سیکھا وہ میں بتاتا ہوں یہ کائنات ایک صندوق ہے۔ اس پر اسرار کا موٹا تالا پڑا ہے یہ تالا ایک اسم اعظم سے کھلتا ہے اور وہ اسم اعظم ہے حلال ــ‘‘ آپ اپنی زندگی میں حلال شامل کرتے جاؤ تالا اپنے آپ کھلتا جائیگا۔ اس نے پوچھا ’’ حرام کی پہچان کیا ہے؟‘‘ وہ بولے’’ دنیا کی ہر وہ چیز جسے چکھنے‘سننے‘دیکھنے اور چھونے کے بعد آپ کے دل میں لالچ پیدا ہوجائے وہ حرام ہے آپ اس حرام سے بچو یہ آپ کے وجود کو قبرستان بنادیگا یہ آپ کو اندر سے اجاڑ دیگا یہ آپ کو بے جوہر کردیگا ماحول پر چھائی دھند چھٹ گئی اور سورج چمکنے لگا۔

یہ پوسٹ بھی اچھی ہیں

بادشاہ کے تین سوال اور وزیر کے جواب

شطرنج کی ایجاد