Kala Bagh Dam

Kala Bagh Dam

آج کل کالا باغ ڈیم کو لیکر بہت باتیں ہورہی ہیں کیا یہ بن پائیگا؟ کیا اتنا پیسہ جمع ہوگا کہ یہ ڈیم بنے؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ کیوں کالا باغ ڈیم پر سیاست کی جاتی رہی ہے اور واقعی یہ اتنا نقصان دہ ہے کہ اس کی اتنی شدت سے مخالفت ہوتی رہی ہے؟ دوستو سوالات تو بہت ہیں جواب تلاش کرنے ہیں!!!!!!!

اس کی تاریخ کیا ہے؟ یہ مسٔلہ کب شروع ہوا اور کیسے شروع ہوا اس پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ 

Kala Bagh Dam History

قارئین میانوالی شہر سے بیس میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو کالا باغ کہلاتا ہے۔ یہ نام اس لئے پڑا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہاں کیلوں کے بے تحاشہ باغ تھے۔ جو دور سے دیکھنے پر سیاہ بادل جیسے لگتے تھے۔ جسکی وجہ سے اس کا نام کالا باغ ہوگیا!!!!! یہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مشہور ہے۔

دریائے سندھ کالا باغ کے مقام پر آکر ایک نیچرل ڈیم کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس لئے سن ۱۹۵۳ ؁ میں عالمی ماہرین نے اس مقام کو ڈیم کیلئے آئیڈیل قرار دیا تھا۔ 1960 ؁ میں ایوب خان نے انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے دریائے راوی، ستلج کا پانی آٹھ کروڑ میں انڈیا کو بیچ دیا۔ اور اس کے بدلے پاکستان کو کالا باغ ڈیم بنانے کی اجازت مل گئی۔

لیکن پھر یہ اتنا لیٹ کیوں ہوتا رہا کہ اب تک نہ بن پایا!!!!!!!!!!!!!!!؟؟؟؟؟؟؟

کام شروع ہونے سے پہلے ہی ایوب خان کی حکومت کا اینڈ ہوگیا۔ اب اس کے بعد یحییٰ خان کا دور آیا تو پاکستان کا وہ دکھ بھرا واقعہ ہوگیا جس سے ہر پاکستانی غمزدہ ہوجاتا ہے۔ یعنی پاکستان دو لخت ہوگیا ! ٹوٹ گیا پاکستان!!!!!!!!  

پھر ذوالفقار علی بھٹو آئے تو ان کو داخلی سیاست سے فرصت نا مل سکی!!!!  

پھر جنرل ضیا  الحق آئے تو ایک اور ستم افغان جنگ کی صورت میں شروع ہوگیا۔ اور یہی وجہ جو یہ تھی جس سے یہ عظیم منصوبہ التوا کا شکار ہوتا چلاگیا۔  پھر آخر کار  1984 ؁ میں جنرل ضیاالحق نے اس کا کو شروع کیا اور یوں کالا باغ ڈیم بننا شروع ہوا!!!!!!

phir kya huwa ????????? dekhte hen

پھر ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا جس سے یہ عظیم منصوبہ ہمیشہ کیلئے controversy یعنی تنازعہ کا شکار ہوگیا! 

اصل میں  حکومت نے سروے کیلئے ایک برطانوی کمپنی ہائیر کی تھی۔ جب کمپنی نے سروے شروع کیا تو اس کے علم میں ایک بات آئی کہ   1929 ؁ میں دریائے سندھ میں ایک خوفناک سیلاب آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ایک شہر نوشہرہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔ اس کمپنی نے یہ اندازہ لگانے کا پلان کیا کے اس شہر نوشہرہ میں آخر کتنا پانی آیا تھا!!!!!!!!!؟؟؟؟

اور اس کی سطح کیا تھی؟ یہ سب جاننے کیلئے یہ ماہرین اس شہر میں چلے گئے! اب کمپنی نے شہر کا اندازہ لگانے کیلئے مکانوں پر نشانات لگانے شروع کردیئے۔ اب ان نشانوں کو دیکھ کر لوگوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو سارا شہر ڈوب جائیگا!!!!

پھر اسی ٹائم ایک سیاسی جماعت حکومت کے خلاف تھی۔ اور اس کو مخالفت کا ایک بہانہ مل گیا اور کالا باغ ڈیم کو اس افواہ کی بنیاد پر ایشو بنالیا اور اس طرح اس عظیم ڈیم کی تعمیر ایک غلط بات کے ایشو کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے رک گئی۔ پھر اس وقت سے اب تک کافی حکومتوں نے اس ڈیم کو بنانے کا اعلان کیا۔ لیکن بنانے میں ناکام رہیں۔ 

benifits of Kala Bagh Dam

اس کے بننے کے فوائد کی بات کی جائے تو ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ڈیم تعمیر ہوجاتا ہے تو سالانہ تیس ارب سے زیادہ کی آمدن ہوگی۔ اور تقریبا اتنا ہی زرمبادلہ بھی بچے گا۔ نیز یہ چار ہزار تک میگا واٹ تک بجلی دیسکتا ہے۔ یہاں ستر لاکھ ایکڑ مکعب فٹ پانی اسٹور کیا جاسکتا ہے۔

اور یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے تو اس پانی کا پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا!!!!!!!!؟          پاکستان کا سالانہ ضایع ہونے والا پانی جو سمندر میں گرنے کی وجہ سے ضایع ہوتا ہے وہ تقریبا دو لاکھ تیس ہزار ایکڑ مکعب فٹ ہے۔ اس ڈیم سے یہ پانی بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ 

ماہرین یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس ڈیم سے مردان یا نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور اس سے سندھ کی زمینیں بھی متاثر نہیں ہونگی۔ یہ سب سے اہم بات یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی ضرورت بھی ہے۔ کیونکہ اگر یہ ڈیم نا بنا تو اللہ نا کرے پاکستان قحط کا شکار اور بجلی کے بحران کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ 

PTA kya mobile block karraha he 

howmuch cost to build Kala Bagh Dam 

کالا باغ ڈیم ایک قدرتی بنا بنایا ڈیم ہے۔ جو قدرتی پہاڑی سلسلے پر مبنی ہے۔ ان کے درمیان سے دریائے سندھ گزرتا ہے۔ کالا باغ کے بعد میدانی علاقے کا سلسلہ ہے۔ اس کے دونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں۔ صرف پہاڑوں کے درمیان دیوار بناکر کم سے کم خرچے میں یہ ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ  یہاں پہنچنا اور بھاری مشینری پہنچانا بھی آسان ہے ۔ یہ میدانی علاقہ ہے اس لئے یہاں سے نہریں نکال کر دور دراز تک پھیلانا بھی مسٔلہ نہیں ہے۔ اور تقریبا آٹھ لاکھ ایکڑ رقبہ اس سے سیراب کیا جاسکتا ہے۔ اس میں منگلا اور تربیلا جتنا ہی پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ 

بجلی بھی یہاں بنے گی لیکن ایک اضافی فائدہ ؟ وہ یہ کہ یہاں سے سستی بجکی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس ایک ڈیم سے مچھلی کی افزائش کی مد میں بجلی کی مد میں زراعت سے سیاحت سے پیسہ ہی پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

why Kala Bagh Dam only

صرف کالا باغ ڈیم ہی کیوں؟ اسی کے پیچھے کیوں سب پڑے ہیں؟ اصل میں جو فائدے کالا باغ ڈیم کے ہیں وہ فائدے کسی اور ڈیم سے نہیں مل سکتے پھر یہ ایک قدرتی ڈیم ہے جو فورا تیار کیا جاسکتا ہے یعنی پانچ سال کے اندر اور ہمارے پاس زیادہ ٹائم بھی نہیں ہے۔ کیونکہ پرانے ڈیموں کی زندگی کم ہوتی جارہی ہے۔ اور نئے ڈیم بنانے میں کافی وقت لگتا ہے۔

جو ہماری بجلی کی کھپت ہے اور جو پانی کی ضرورت ہے وہ صرف کالا باغ ڈیم ہی پورا کرسکتا ہے۔  اگر اس میں دیر کی گئی تو ہمیں بہت زیادہ پانی اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ 

 

PTA IMEI block mobile by IMEI number

PTA IMEI block mobile by IMEI number

دوستو ایک اہم اعلان جو PTA Pakistan کی جانب سے کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے آپ کے موبائل کو بلاک کردیگا۔ اب اس کو دھیان سے پڑھ لیں شاید آپ کا یا آپ کے دوست کا موبائل بلاک ہونے سے بچ جائے! اب دوست کا نام میں نے اس لئے لیا کہ آپ سب سے پہلے دوست کو ہی تو جاکر اس اہم بات کو شئر کرینگے نا!!!

بہت سے لوگوں کو میسجز آرہے ہیں کہ اگر ان کا موبائل   IMEI compliant نہیں ہے تو  بیس اکتوبر کو بند کردیا جائیگا۔  اب یہ سب کیا ہے اور موبائل کیوں بند ہوگا؟   اب کچھ پیچیدہ بھی ہے لیکن سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی موبائل فونز آتے ہیں ان کا ایک imei نمبر ہوتا ہے۔

ایک آرگنائزیشن ہے   G.S.M.A کے نام سے جو ان موبائل فونز کو  IMEI نمبر دیتی ہے۔ یعنی جو نمبر آپ کے موبائل کا ہے وہ لازمی اس آرگنائزیشن کے پاس بھی ہوگا۔اسی لئے اگر جعلی IMEI نمبر ہے تو وہ ان کے پاس نہیں ہوگا۔جیسا کہ آج کل ہوتا ہے کہ کمپیوٹر سوفٹ ویئر کی مدد سے کسی بھی موبائل کا  IMEI نمبر تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اب ایک ہی  نمبر بہت سے موبائل ڈیوائسز پر ڈال دیا جاتا ہے۔

اب اس سے ہوتا کیا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے اصل میں جب کرائم ہوتے ہیں تو سکیورٹی ادارے اس نمبر کی مدد سے جرائم پیشہ افراد کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر جب ایک ہی IMEI نمبر بہت سی ڈیوائسز پر ہوتا ہے تو وہ ادارے لوکیشن ٹریس نہیں کرپاتے اور اس کا سارا فائدہ یہ جرائم پیشہ عناصر اٹھاتے ہیں۔اسی لئے کسی بھی موبائل کا IMEI نمبر تبدیل کرنا غیر قانونی ہے۔

PTA کیا کرنا چاہ رہی ہے؟

اب اس  IMEI سے اور بھی کام لئے جاتے ہیں۔ جیسے کہ PTA یہ دیکھتی ہے کہ کون سے IMEI پر ٹیکس پے کیا گیا ہے اور کس پر نہیں؟ اب ظاہر ہے کہ جو اسمگل  ہوتے ہیں ان پر ٹیکس پے نہیں کیا گیا ہوتا جو PTA کو کسی صورت برداشت نہیں ہے۔  اصل میں ان موبائلز کے IMEIنمبرز بھی PTA کے پاس نہیں ہوتے تو گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ایسے فونز کے  IMEI نمبرز ان کے پاس موجود ہوں۔

propakistani successfull blog kaise banaye 

تو ایسے میں آپ کو کرنا یہ ہے کہ جو بھی موبائل آپ کے پاس ہے جو ابھی تک استعمال نہیں ہوا اس پر سم لگاکر آن کرلیں بس اس طرح آپ کا ریکارڈ PTA کے پاس چلاجائیگا اور پھر فون میں کوئی مسٔلہ نہیں ہوگا۔یعنی آپ کا فون IMEI Compliant بن جائیگا۔

اب اس کو کیسے چیک کریں کہ آیا موبائل فون comp;iant ہے یا نہیں!!!!!   اسکے کچھ طریقے ہیں جیسے PTA کی ویب سائٹ پر جاکر چیک کیا جاسکتا ہے اور ایک اچھا طریقہ میسج سروس کا بھی ہے جو کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلے آپ اپنے موبائل کا IMEI نمبر معلوم کریں جو آپ کو ڈائل پیڈ پر *#06# اسٹار ہیش صفر   چھ ہیش اینٹر کرنے سے مل جائیگا۔ پھر آپ اس نمبر کو 8484 پر میسج کریں آپ کو بتادیا جائیگا کہ آپ کے موبائل کا کیا اسٹیٹس ہے آیا وہ compliant ہے یا نہیں!!!!   

تو بس اس میں زیادہ بتانے کا کچھ نہیں ہے لیکن جب میسج آئے تو آپ کو بہت احتیاط سے اس میسج کو دیکھنا ہے اور اپنا مسٔلہ حل کرنا ہے ایسا نہ ہو کہ آپ کا مسٔلہ آپ کے حساب سے حل ہوگیا ہولیکن ان کی نظر میں حل نہ ہوا ہو۔!!!!!!!!!

ڈیوائس چیکنگ PTA کے ذریعے

ڈیوائس چیکنگ PTA کے ذریعے

               دوستو  ایک نئی اپڈیٹ کے حوالے سے ہم آج بات کرلیتے ہیں۔ جو آپ کے لئے بہت فائدہ مند ہوسکتی ہے کیونکہ آپ ایک موبائل یوزر تو ہونگے ہی اسکا مجھے نناوے پرسنٹ تک یقین ہے۔ جسکی ہم بات کرینگے اسکا نام تھوڑا لمبا اور مشکل سا ہے لیکن خیر نام ہے Device Identification Registration Bloking System کافی لمبا نام ہے۔ اس کا کام بڑا اہم ہے یہ پاکستان گورنمنٹ نے موبائل چیکنگ کیلئے ڈیویلپ کیا ہے۔ہم اکثر موبائل فون باہر کے استعمال کرتے ہیں جو یا تو ہم ڈائریکٹ اپنے کسی جاننے والے سے جو باہر ہوتا ہے منگواتے ہیں یا کوئی کمپنی یا فرد زیادہ تعداد میں منگواکر یہاں سیل کرتا ہے۔

اب ان سب کی کلیریفکیشن لینی پڑتی ہے۔  یعنی چاہے ایک موبائل ہو یا زیادہ ہوں  NOC آپ کو لازمی لینی پڑتی ہے۔اور یہ سب کام  PTA کرتی ہے اور  IMEI نمبر کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اپروول لیلی جاتی ہے لیکن یہ آپ کو نہیں پتہ چلتا۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ غلط طریقہ استعمال کرکے موبائل منگوائے جاتے ہیں محض ٹیکس سے بچنے کیلئے اس صورتحال میں  PTA کی اپروول نہیں لی جاتی۔  اب کون سا موبائل کب مارکیٹ میں آیا اور سیل ہوا کسی ادارے کو پتہ ہی نہیں چلتا تو اس کے حل کیلئے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

PTA چیکنگ سسٹم

اس سسٹم کے ذریعے آپ اپنے موبائل  کا  IMEI نمبر ڈال کر معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ موبائل Complaint ہے یا non Complaint ہے یا  Bloked  ہے۔ اب  کمپلینٹ کا مطلب یہ ہے کہ چیز منظورشدہ ہے اور این او سی وغیرہ لیلی گئی ہے۔ non Complaint  میں یہ ہے کہ اس کی  NOC  نہیں لی گئی اور اسکا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا گیا۔ اب اس صورتحال میں آپ اس کی کچھ قیمت  ٹیکس کی مد میں ادا کرکے  Complaint بنا سکتے ہیں۔

اس کیٹیگری میں بلاکڈ کا نمبر بھی ہے ۔ اب اس میں یہ ہے کہ چوری شدہ فون یا کسی اور غیر قانونی کام کی وجہ سے بلاک کئے گئے فونز اس کیٹیگری میں آتے ہیں۔  اب آپ کو کرنا یہ ہے کہ اپنے موبائل کے IMEI نمبر کو لینا ہے۔ جو اکثر موبائل پر  *#06# ٹائپ کرنے پر مل جاتا ہے۔ کچھ موبائل میں الگ طریقہ ہے  جو آپ گوگل پر معلوم کرسکتے ہیں۔ اب آپ کو یہ نمبر PTA کی سائٹ پر اینٹر کرنا ہے اور سب رزلٹ آپ کے سامنے آجائیگا۔  کہ آیا یہ موبائل اوکے ہے یا نہیں؟ یہ سب ڈیٹیل آپ کو ایک کلک پر مل سکتی ہیں۔

اس کی ایپ بھی لانچ کردی گئی ہے اگر آپ چاہیں تو اسکو بھی استعمال کرسکتے ہیں اس کا نام  DVS  ہے اس نام سے آپ پلے اسٹور پر تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ بھی ہے جو SMS کے ذریعے کام کرتا ہے اس میں آپ کو IMEI نمبر ڈال کر  8484 پر  SMS کرنا ہوتا ہے۔ جلد ہی آپ کو آپ کے موبائل کا رزلٹ مل جائیگا۔ اگر رزلٹ میں Complaint لکھا آتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر  non Complaint  لکھا آجاتا ہے تو آپ کو اس کا مسٔلہ حل کرنا ہی ہوگا۔کیونکہ پھر نئی پالیسی کے مطابق PTA  ان سب ڈیوائس کو بند کردیگا۔

بٹ کوئین کیا ہے

بٹ کوئین کیا ہے

                    دوستو بٹ کوئین کیا ہے؟ بٹ کوئین کے بارے آپ نے سنا ہی ہوگا یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ جو کہ ایک جاپان کے شخص جسکا نام ستوشی ہے نے بنائی تھی۔ اسکا کوئی فزیکل وجود نہیں ہے یہ نیٹ پر ہی جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ اس کو آپ اپنے ہاتھ یا جیب میں نہیں رکھ سکتے اسکو محفوظ کرنے کیلئے نیٹ پر ہی ایک جگہ لینی پڑتی ہے۔ جسے نیٹ کی زبان میں والٹ کہتے ہیں یہاں آپ کی کوئین محفوظ رہتی ہیں ۔اور اسکا پاسورڈ وغیرہ آپ کو لازمی یاد رکھنا ہوتا ہے ورنہ آپ کی سب کوئین ضایع ہوجائینگی۔ کیونکہ کوئی والٹ بنانے کی سہولت دینے والی کمپنی اس کی ذمہ داری نہیں لیتی ہے اسکی ٹرانزیکشن مخصوص طریقہ سے ہوتی ہے اور پہچان بھی اسی سے ہوتی ہے اس طریقہ کار کو بلاک چین کہتے ہیں۔
                    بٹ کوئین ایک حسابی فارمولے کو حل کرنے سے بنتی ہے۔ اور اس حل کرنے کے عمل کو مائیننگ کہتے ہیں۔ شروع میں بٹ کوئین کو مائن کرنا بہت آسان تھا لیکن وقت کے ساتھ جب بٹ کوئین کافی تعداد میں بن گئیں تو اس کا فارمولا بھی بڑا ہوتا گیا اب حالت یہ ہے کہ اس کو مائن کرنا ایک عام اور چھوٹے کمپیوٹر کے بس میں نہیں رہا۔ اب اگر مائن کرنا ہے تو بہت ہائی پاور کا پروسیسر اور گرافک کارڈ کی ضرورت ہوگی اس لئے اب لوگوں اور کمپنیز نے بہت بڑے بڑے سیٹ اپ لگائے ہیں اور نیٹ پر اس سیٹ اپ کے اشتہار ڈال کر لوگوں کو مائیننگ کی آفر کررہے ہیں۔

                   طریقہ یہ ہے کے آپ ایک مخصوص رقم ادا کرکے اس سیٹ اپ سے کچھ پاور ایک سال یا دوسال کیلئے کرائے پر لیتے ہیں۔ اب جو پاور آپ نے لی ہے اس سے جتنی بٹ کوئین بنے گی وہ کمپنی آپ کو دیگی۔ یہ ایک طریقہ ہے بٹ کوئین کمانے کا جسے بہت لوگ استعمال کررہے ہیں۔ اس کی مقبولیت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہ کسی ادارے یا حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے نہ ہی اسکی ٹرانزیکشن مشکل ہے اسے آپ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بہت آرام اور سکون سے بھیج اور وصول کرسکتے ہیں ۔اسلئے یہ زیادہ تر جرائم پیشہ عناصر ہی استعمال کررہے ہیں ۔

بٹ کوئین کی قیمت

                    شروع میں اس کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم تھی۔ لیکن جب اس کی مانگ میں اضافہ ہوا تو اسکی قیمت بھی بڑھنے لگی اب حالت یہ ہے کہ ایک بٹ کوئین اٹھارہ لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ لیکن اب آٹھ سے دس لاکھ تک کی ہے لیکن اب بھی لوگ اس میں پیسہ لگانا چاہتے ہیں اور لگارہے ہیں۔ کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسکی قیمت آنے والے وقتوں میں بہت بڑھنے والی ہے۔ لیکن اب اس کے علاوہ بھی بہت سی کوئین مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ جیسے ریپل، ایتھیریم،لائٹ کوئین وغیرہ جسے لوگ بٹ کوئین کے متبادل کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

                   ان کوئین کی بھی مارکیٹ میں ایک قیمت اور ویلیو ہے۔ اس کی اہمیت اور بڑھتی ہوئی قیمت اور استعمال میں آسانی دیکھ کر اب اکثر کمپنیز نے اس کو بطور کرنسی قبول کرنا شروع کردیا ہے۔ اور اب بعض بینک اور حکومتیں بھی اس کو ریگولر کرنے کا سوچ رہی ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی ایک انقلاب لاسکتا ہے۔ اس کی ایک خوبی یا خامی یہ ہے کہ یہ کسی ادارے یا کمپنی کے کنٹرول میں نہیں ہے اس لئے یہ ہر قسم کے ٹیکس وغیرہ سے آزاد ہے۔اس کی یہی خصوصیت بھی لوگوں کو اس کی طرف کھینچ لائی ہے ۔
                    نیٹ پر بٹ کوئین یا کوئی اور کوئین کو لیکر فراڈ بھی ہورہے ہیں۔ کوئی سائٹ آپکو مائیننگ کا لالچ دیکر آپ کو پےمنٹ کا کہےگی اور یا بٹ کوئین ڈبل کرنے کا کہے گی کہ آپ اپنی کوئین یہاں انویسٹ کریں۔ اور کچھ عرصے میں ڈبل لیں یا آپ کو کچھ مہنگا آئٹم دکھائیگی جیسے کوئی موبائل پھر اسکی پےمنٹ بٹ کوئین میں کرنے کا کہےگی۔ تو یہ سب کرنے سے پہلے بہت اچھے سے تسلی ضرور کرلیں کہ وہ سائٹ یا کمپنی کی کیا پوزیشن ہے۔ یا ریویوز ضرور دیکھیں پھر اس سے کچھ معاملہ کرنے کا فیصلہ کریں۔

یہ پوسٹ بھی دیکھیں

یو ہی ایس یا انورٹر

بچے کی تربیت کی بنیادی باتیں

یو پی ایس یا انورٹر

یو پی ایس یا انورٹر
                    دوستو پھر گرمیوں کی آمد آمد ہے اور ایک دفعہ پھر لوگ لوڈشیڈنگ سے بچنے کے حل تلاش کررہے ہیں۔ کوئی جنریٹر کی طرف جارہا ہے کوئی یو پی ایس کی طرف یہاں ہم یو پی ایس اور انورٹر کا فرق اور موازنہ کرینگے کہ کیا سہی ہے اور کیا سہی نہیں ہے؟ آج کل کمپنیز انورٹر لیکر مارکیٹ میں آگئی ہیں اور ان کا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ دیسی طور پر بنے ہوئے یو پی ایس سے انورٹر زیادہ بہتر ہیں۔ جو آپ کی ضرورت کو زیادہ بہتر انداز میں پورا کرتے ہیں اور بیٹری کی لائف بھی زیادہ رہتی ہے۔

                   دیسی بنے ہوئے یو پی ایس آپ کی بیٹری پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور اس کی لائف کم کردیتے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ آیا ان کی بات میں کہاں تک سچائی ہے اور آپ کو کیا لینا چاہیئے اور کیا نہیں؟ یو پی ایس اصل میں باہر جس مقصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں وہ کام کو جاری رکھنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی کمپیوٹر پر کام کررہا ہو اور اچانک بجلی چلی جائے یا ٹرپ کرجائے تو یہ یو پی ایس فوری پاور سپلائی کو بحال کردیتے ہیں۔ جس سے کام ضائع نہیں ہوتا اور آپ کو سیو کرنے یا جنریٹر کے اسٹارٹ ہونے کا ٹائم مل جاتا ہے۔ باہر یو پی ایس میں اندر بیٹری لگی ہوتی ہے جو دس یا پندرہ منٹ کا بیک اپ ٹائم دیتی ہے۔

پاکستان میں

                      پاکستان میں اس کو لمبے ٹائم کیلئے بجلی بحال رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس میں الگ سے بیٹری لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر باہر کے انورٹر کی بات کریں تو وہ صرف اسلئے استعمال کئے جاتے ہیں کے اگر کسی بیٹری سے پاور لیکر کسی ڈیوائس یا کمپیوٹر کو منتقل کرنا۔ جبکہ پاکستان میں انورٹر کا کام بجلی کی سپلائی کے ساتھ بیٹری کو چارج بھی کرنا ہوتا ہے۔ تو بنیادی طور پر پاکستان میں انورٹر یو پی ایس ہی کی ایک جدید شکل ہے۔

                    فرق کی بات کی جائے تو نارمل دیسی یو پی ایس میں ٹرانسفارمر لگے ہوتے ہیں۔ اسلئے بڑے ہوتے ہیں جبکہ انورٹر میں کام صرف سرکٹ سے کیا جاتا ہے تو یہ دیکھنے میں بہت چھوٹے لگتے ہیں۔ کیونکہ ان میں ٹرانسفارمر نہیں لگا ہوتا انورٹر عام طور پر ڈیجیٹل طریقے سے آپ کو سروس دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر دیسی یو پی ایس آپ کو بجلی جانے پر فوری سپلائی بحال کرتے ہیں اور آپ کا کمپیوٹر یا کوئی اور ڈیوائس بند نہیں ہونے دیتے۔ لیکن انورٹر والے یو پی ایس بجلی جانے کی صورت میں ایکٹیو ہونے میں کچھ ٹائم لیتے ہیں جس جی وجہ سے آپ کی ڈیوائس بند یا ری اسٹارٹ ہوجاتی ہے۔ اور کوئی کام چل رہا ہو تو اس میں نقصان کا خطرہ رہتا ہے ۔
                  اگر آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کو کیا لینا چاہیئے اور کیا نہیں؟ تو اس کا فیصلہ ایسے کرسکتے ہیں کہ اگر آپ کا کام ایسا ہے جو ریگولر بجلی کی سپلائی مانگتا ہے تو یو پی ایس ہی بہتر ہیں۔ لیکن ااگر آپ کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا تو پھر انورٹر والا یوپی ایس لگالیں کیونکہ انورٹر کو بہرحال ایک کمپنی نے بنایا ہے اور وہ زیادہ بجلی فراہم کریگا بنسبت دیسی یو پی ایس کے اور زیادہ پنکھے وغیرہ چلائے گا۔ پھر کمپنی آپ کو وارنٹی کی اچھی سہولت دیگی جو دیسی یوپی ایس میں نہیں مل سکتی اور پھر انورٹر کی انسٹالیشن بھی بہت آسان ہوتی ہے۔

                   یہاں ایک بات اہم اور جاننا ضروری ہے کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک یو پی ایس یا انورٹر کے ساتھ زیادہ بیٹری لگادینگے تو وہ زیادہ چیزیں چلادیگی تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ یو پی ایس جتنے واٹ کے حساب سپلائی کرنے والا ہے وہ اتنا ہی سپلائی کریگا۔ ہاں زیادہ بیٹری لگانے سے آپ ٹائم بڑھالینگے لیکن زیادہ ڈیوائسز نہیں چلا پائینگے۔

یہ پوسٹ بھی دیکھیں

بچے کی تربیت

بٹ کوئن کے بارے میں

 

 

بچے کی تربیت

بچے کی تربیت
                    بچے اللہ تعالیٰ کا بہترین اور پیارا عطیہ ہیں جنکی اچھی تعلیم و تربیت کرنا فرض بھی ہے۔ آپ کی اور آپ کے بچے کی پرسکون زندگی کی ضرورت بھی بچے جس گھر میں نہیں ہوتے وہاں رہنے والوں سے ان کی قدر و قیمت پتا چلتی ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کی زندگی اچھی ہو اور وہ زندگی میں ایک با عمل مسلمان بنے تو آپ کو ایسا مواد اور کتابیں پڑھنی چاہئیں جو بچے کی تربیت کے حوالے سے ہوں۔

                   یہاں میں کچھ بات ذکر کرتا ہوں جو ہمارے بزرگوں نے بچے کی تربیت کے حوالے سے بتائی ہیں۔ بچے کی تربیت ایک چوبیس گھنٹے کی ملازمت ہے جو والدین کو کرنی ہی پڑتی ہے۔  حدیث میں بھی ذکر ملتا ہے جسکا مفہوم ہے کہ باپ اپنے بچے کو جو بہترین چیز دے سکتا ہے وہ تعلیم و تربیت ہے۔ جب بچہ معاشرے کا ایک اچھا ذمہ دار فرد بنےگا تو ماں باپ ہی کو سب سے زیادہ خوشی ہوگی اور آخرت میں بھی نجات کا باعث ہوگا۔

ایمانی تربیت

                    اسلام نے ہمیں اپنے زیر کفیل لوگوں اور بچوں کی تربیت کا حکم بہت تاکید کے ساتھ دیا ہے۔اور بتایا ہے کے ان لوگوں سے ان کے زیر کفالت لوگوں کی بازپرس ہوگی۔ اس حوالے سے جو احکام اسلام کے حوالے سے ملتے ہیں ان میں سب سے پہلے بچے کو کلمہ سکھانے کا حکم ملتا ہے۔ یعنی جب بچہ کچھ بولنے سمجھنے کے قابل ہوجائے تو اسے سب سے پہلے کلمہ سکھایا جائے۔پھر اس کو عقل و شعور کے آغاز میں ہی حلال اور حرام کی تمیز کرانا شروع کردیا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچہ بڑا ہوگا تو یہ چیزیں اسکے ذہن میں پہلے ہی مضبوطی کے ساتھ بیٹھی ہونگی اور وہ سہی غلط کا بہتر فیصلہ کرنے کے قابل ہوگا۔

                    سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دینے کا حکم ہے اور نہ پڑھنے پر سختی کرنی چاہیئے۔  دس سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کرنے کا ھکم بھی ہے۔اس میں اشارہ ملتا ہے کہ اب آپ بچے پر نگاہ رکھیں کہ کیا کررہا ہے کہاں آ جا رہا ہے کیسے دوست ہیں۔ اگر ابھی سے غلط راہ اور عادات میں پڑگیا تو بعد میں یہ عادت پختہ ہوجائینگی۔جب آپ بچے کو پڑھانے کا فیصلہ کریں تو پہلے ابتدا قرآن پاک سے کرائیں اور بزرگوں کے واقعات سنائیں یہ ان میں اچھی تحریک پیدا کرینگے۔
اخلاقی تربیت
                    اس کے بعد اخلاقی تربیت کی باری آتی ہے یہ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے مراد تمام بنیادی اخلاقی باتیں اور کردار جو بچے کیلئے سیکھنا ضروری ہیں تاکہ جوانی میں قدم رکھے تو اس کیلئے سہی غلط کا فیصلہ اور پہچان آسان ہوجائے۔ پھر آپ کو فکر کرنے کی زیادہ ضرورت نہیں کہ بچہ کیا کررہا ہے کیونکہ وہ سہی غلط کی پہچان کے قابل ہوچکا ہے۔ان میں کچھ ضروری چیزیں ہیں جو آپ کو شروع سے دھیان میں رکھنی چاہیئں جن میں ایک جھوٹ بولنے کی عادت ہے یہ اسلام میں ایک قبیح عادت ہے اور اس کو نفاق کی خصلتوں میں شمار کیا گیا ہے اس لئے اس عادت سے لازمی بچے کو بچانا ہے۔

                    اسی طرح چوری کی عادت بھی بچوں میں نہیں پنپنے دینا چاہئے یہ بھی اگر پختہ ہوجائے تو اخلاق تباہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ بچے کے دل میں یہ بات بچپن سے ڈالدی جائے کے چوری ایک بری عادت ہے۔ جو چیز بھی لی جائے وہ مانگ کر استعمال کی جائے اس کیلئے پہلے بڑوں میں یہ عادت ہونی ضروری ہے۔اس کے بعد ایک اور عادت جو بچپن سے پختہ ہوجاتی ہے وہ ہے گالم گلوچ کی عادت یہ بھی ایک قبیح عادت ہے۔ جو بچے کی شخصیت کو داغ دار کردیتی ہے۔ اس لئے اس پر بھی ایک خاص طریقے سے سختی کی جائے۔

                   اس کے بعدجھوٹ کا نمبر آتا ہے یہ بھی آپ کے بچے کو معاملات میں ایک اچھا انسان نہیں بننے دیگا۔ اس لئے جھوٹ سے نفرت اور اس سے دور رہنے کی تربیت بھی بچپن سے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بچے کو بلکل آزاد چھوڑدینا بھی ٹھیک نہیں ہے بعض مقامات پر سختی اور روک ٹوک ضروری ہے۔ کہ کہاں جانا ہے، کہاں نہیں جانا، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، یہ سب بھی بچے کے ذہن میں پہلے سے ہی بٹھادیں تو بعد میں بہت آسانی ہوجائیگی۔
جسمانی تربیت
                    جسمانی تربیت بھی بہت ضروری ہے آج کل آپ نے دیکھا ہوگا کہ نوجوان لڑکے ہی اپنی صحت کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اور ان میں ایک اہم چیز کمر کا درد بھی ہے جو ہر دوسرے شخص کو ہے جسکی بنیادی وجہ ورزش کا نہ کرنا ہے۔  اس میں بھی ایک اہم وجہ بچپن سے اس کی تربیت نہ کرنا ہے اس کی اہمیت بچے کو نہ بتانا ہے۔ دوسری اہم وجہ والدین اور گھر کے دوسرے افراد کا بھی اس سے دور رہنا ہے بچے ہماری نقل کرتے ہیں۔

                    جب ہم ہی کسی اچھی عادت کے عادی نہیں ہونگے تو بچے کو کیسے اس عادت پر لایا جاسکتا ہے؟ اس لئے کیا کھانا ہے ورزش کب اور کتنی کرنی ہے کیسے سونا ہے یہ سب بھی بچے کو لازمی سکھائیں بچے کو اگر بچپن سے محنت اور ریاضت کا عادی بنادیا جائے تو وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سمیٹے گا نہیں تو آپ اس کے پیچھے پھرتے ہی رہینگے کہ بیٹا یہ کرلو وہ کرلو وغیرہ اس میں ایک اہم چیز بچے آرام طلبی سے بچانا ہے زیادہ عیش اور آرام کی زندگی سے بچے کو دور رکھیں ۔
ذہنی اور عقلی تربیت
                    اس سے مراد علم شرعیہ اور عصری علوم اور نفسیاتی اور فکری سوجھ بوجھ کا ہونا ہے۔ اس میں علم کا ہونا ذہنی اور نفسیاتی پختگی پیدا کرتا ہے ۔ تعلیمی ذمہ داری ، ذہن سازی اور ذہنی تندرستی یہ سب بچے میں منتقل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اسے اچھے تعلیمی ادارے میں پڑھانا قرآن کی تعلیم دینا ہے اور فکری ذہن سازی میں آپ بچے کو یہ تعلیم دیں کہ وہ کون ہے؟ اور ہمارا مذہب کیا ہے؟ اور ہمارا مذہب اور مذہبوں سے بہتر کیوں ہے اور ہمارے نبیﷺ کا کیا مقام ہے۔ اور مسلمانوں کی کیا تاریخ ہے وغیرہ۔

                    اس کے علاوہ ذہنی تندرستی میں ان باتوں کا اہتمام کیا جائے کہ وہ سگریٹ وغیرہ کا عادی نہ ہو شراب سے دور رہے۔ حافظہ قوی ہو اور عقل پختہ ہو ۔ وہ ہر ایک سے بات کرسکے اور شرمیلا پن ایک حد تک تو ٹھیک ہے لیکن زیادہ نہ ہو اور وقت کے ساتھ اسے ختم ہونا چاہیئے۔یہ سب وہ بنیادی باتیں ہیں اگر انکا لحاظ رکھاجائے تو انشأاللہ آپ کا بچہ بڑا ہوکر قابل رشک ہوگا۔ ایک بات یاد رکھیں کہ تعلیم سے پہلے تربیت ضروری ہے اگر آپ نے تعلیم اچھی دیدی۔ لیکن بچہ کسی سے بدتمیزی سے بات کرتا ہے ادب نہیں کرتا یا چوری کرتا ہے آپ سے جھوٹ بولتا ہے یا استادوں کا احترام نہیں کرتا تو ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں یہ آپ بھی بہتر سمجھتے ہیں۔

آپ کو یہ پوسٹ بھی پسند آئیگی

بٹ کوئن کے بارے میں

یو ہی ایس یا انورٹر