چنگیز خان

چنگیز خان

جنگجو چنگیز خان

                    جب تاریخ میں جنگجو بادشاہوں کی بات آتی ہے۔ تو اس میں ایک نام چنگیز خان کا بھی لیا جاتا ہے۔ وہ ایک جنگجو اور ظالم سفاک حکمران گزرا ہے۔ یہ وہ حاکم تھا جس نے بہت کم وقت میں بیشر دنیا کو فتح کیا،اور دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھدیا۔ اسے بربریت اور خوف کی علامت جانا جاتاتھا۔ وہ ایک منگول بادشاہ تھا اس نے فقط ۱۳ سال کی عمر میں تلوار کو ھاتھ میں لے لیا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے چالیس سال کی عمر میں وہ باشاہ کی مسند پر آکر براجمان ہوگیا۔  

                    چنگیز خان ۱۱۶۲ ؁ عیسوی کو پیدا ہوا ۔ اسکا اصل نام تموجن تھا جسکا مطلب لوہے کا کام کرنے والا بنتا ہے۔ جب چنگیز خان ہوا تو اس وقت کے چند دانشوروں  یہ پیش گوئی کی کے یہ جابر حکمران بنے گا۔  قارئین منگول ایک وحشی اور شکاری قوم تھی جو سردی اور برف باری والے علاقے میں رہتی تھی۔ اسلئے ان کو  سردی سے بچنے کیلئے کھال کی ضرورت ہوتی تھی۔ تو یہ لوگ جانور خاص کر بارہ سنگوں کا شکار کرکے اسکا گوشت کھالیتے اور کھال رکھ لیتے۔ اور اسکا خون بھی اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے پی جاتے تھے۔ جب یہ پیدا ہوا تھا اس وقت ان کی  قوم  سینکڑوں  خاندانوں میں تقسیم تھی۔ انکا قبیلہ بھی ناراض تھا۔

چنگیز خان کی تربیت

                    ابھی چنگیز خان چھوٹا ہی تھا کہ اس کے والد کو سازش میں زہر دیکر مار دیا گیا۔  یہی وجہ اسکے چنگیز خان بننے کی بنی کیونکہ اس واقعہ نے اس کا بچپن ختم کردیا اور  اسکے ہاتھ میں تلوار دیدی۔ اور پھر وہ تنہا ہوگیا اور اپنی ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا۔ اس کی ماں اسکو اپنے آباؤ اجداد کے بہادری کے قصے سناتی تھی جس سے وہ بڑا متاثر ہوا۔ اس کے دل سے ڈر خوف جاتا رہا اور وہ چھوٹی عمر میں ہی  بہادر ہوگیا۔  پھر وقت کا پہیہ حرکت میں رہا اور وہ وقت یعنی ۱۱۷۵ ؁ عیسوی بھی آگیا ۔ جب اسکے سر پر بادشاہت کا تاج رکھ دیا گیا۔

              اسکی قوم اور قبائل آپس میں ہی لڑنا شروع ہوگئی۔ اس نے بہت کوشش کی ان کو ایک جھنڈے تلے لانے کی۔ اس کےلئے اس نے سب قبائل کو اکٹھا کیا اور  آپس میں لڑنا بندکرکے  دیگر علاقے اور قبائل  کو فتح کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ جس کو قبائل نے پسند کیا اور تموجن کی دانشمندی کے قائل ہوگئے۔  پھر اس کو یہ اعزاز بخشا کے اس کو اپنا سردار تسلیم کرلیا اور اس کو  چنگیز خان کا خطاب دیا ۔  اس نے اپنے بہترین فیصلوں سے منگول کو ایک مضبوط سلطنت بنادیا۔  اس کے اداروں کو اور فوج کے شعبے کو مضبوط کیا۔  اس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے چینیوں کی کمر توڑ دی اور اس پر قابض ہوگیا۔

اہم واقعہ

                    یہاں ایک اہم واقعہ رونما ہوا   ۱۹۱۲ ؁ میں  اس کے سفیروں کو مختلف ممالک میں قتل کردیا گیا۔  اس واقعے نے چنگیز خان کو دنیا فتح کرنے کیلئے نکلنے پر ابھارا اور وہ دنیا فتح کرنے نکل کھڑا ہوا۔  پھر اس نے شمالی چین اور افغانستان کی سرحد کے علاقے فتح کئے۔ اور اس کے علاوہ بخارا، ثمر قند، شاہ پور، ترکستان، ہرات، تبریز اور آذربائیجان سے جنگ کرکے فتح کرلئے۔ اس نے جنوبی روس اور شمالی ہند تک  یلغار کی اور کافی بڑے رقبے کا مالک بن گیا۔ اس نے یہ رقبہ حاصل کرنے کیلئے تقریبا پچاسی لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتاردئیے۔  اس وجہ سے یہ سفاک حکمران جانا جاتا ہے۔لیکن یہ اتنی کامیابیوں کا مالک کیسے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ 

                    قارئین چنگیز خان  نے دو حکمت عملی یا دو فارمولوں  پر عمل کیا اور دنیا کو فتح کیا۔  پہلی حکمت عملی رفتار تھی  اس نے اپنے لشکر کی رفتار بڑھانے کیلئے پیدل لشکر ختم کردئیے ۔ ساری فوج کو گھوڑوں پر منتقل کیا اور یہی نہیں بلکہ ہر سپاہی کو تین گھوڑے دئیے۔  اب جب ایک گھوڑا تھک جاتا تو اس کو کاٹ کر اسکا خون دوسرے گھوڑوں کو  پلادیا جاتا اور اسکا گوشت محفوظ کرلیا جاتا۔ اور سپاہی دوسرے گھوڑے پر سوار ہوجاتا  اور یہ بغیر رکے آگے بڑتے رہتے۔ اب دوسری حکمت عملی تکنیکی ہے یعنی تاتاری یا منگول وہ پہلے لوگ تھے  اس وقت کے جو گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے تیر اندازی کیا کرتے تھے۔ اور یہ تکنیک اس وقت کسی اور کے پاس نہیں تھی۔

                   یہ لشکر ظالم تھا  اسلئے جب بھی یہ کسی علاقے کو فتح کرتے تو وہاں قتل ہونے والے افراد  کی کھوپڑیوں کا مینار بنایا کرتے تھے۔  اور صرف جوانوں کو نہیں بلکہ بچوں، بوڑھوں اور جانوروں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے۔ خوب لوٹ مار کرتے تھے اور عورتوں کی عصمت دری کرتے تھے۔  دوستوں چنگیز خان ۱۲۲۷ ؁ عیسوی کو ایک جنگ میں مارا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کے بیٹوں نے اس کی بیویوں، غلاموں اور گھوڑوں کے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی قبر آٹھ سو سال  تک معمہ  بنی رہی۔ پھر ۲۰۰۴ ؁ کو اسکا مقبرہ دریافت ہوا اور اسکی سہی امارت کا اندازہ لوگوں کو ہوا۔ چنگیز خان کہا کرتا تھا کہ میں نے دنیا فتح کی ہے لیکن اپنی تقدیر کو فتح نہ کرسکا۔ انسان کبھی اپنی تقدیر اور موت کو شکست نہیں دے سکتا۔

ہماری یہ پوسٹ بھی دیکھیں

ہٹلر کی تاریخ

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

 

ہٹلر

ہٹلر کی تاریخ

                  دوستو ہٹلر تاریخ کا ایک ظالم اور بھیانک کردار گزرا ہے۔ جسے آج بھی لوگ ظلم کی مثال دینے کیلئے اسکا نام استعمال کرے ہیں۔ یہ شخص جنگ عظیم دوم کی وجہ بنا تھا اور لاکھوں انسانوں کا قاتل تھا۔ اسکا پورا نام ایڈولف ہٹلر تھا اور اپریل ۱۸۸۹؁ کو آسٹریلیا میں پیدا ہوا یہ سفاک ترین لیڈر تھا۔ یہ شروع میں فوج میں نہیں جانا چاہتا تھا بلکہ اسکو فائن آرٹ میں دلچسپی تھی اور وہ اس میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتا تھا ۔ لیکن اس نے فائن آرٹ میں داخلے کیلئے دو مرتبہ کوشش کی لیکن دونوں دفعہ ریجیکٹ کردیا گیا۔ پھر اس میں ناکامی کے بعد ہٹلر اس شہر سے چلاگیا۔ پھر اس نے فوج میں شمولیت کیلئے درخواست دی اور اسطرح وہ جرمن فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوگیا۔ پھر ایک جنگ میں یہ لڑتے ہوئے زخمی ہوا جس کی وجہ سے اسے بہادری دکھانے پر دو ایوارڈ بھی دئیے گئے۔

                    ہٹلر کو اس وقت بہت غصہ آیا اور بہت دکھی تھا جب ۱۹۱۸؁ میں جرمنی نے ایک جنگ میں ہتھیار ڈالدئیے کیونکہ اسے جرمنی سے بہت محبت تھی اور وہ جرمنی کی یہ ذلت برداشت نہیں کرپارہا تھا۔ وہ اسکا ذمہ دار جرمنی کے اس وقت کے لیڈر کو سمجھ رہا تھا کے انہوں نے اپنے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔پھر اس پہلی جنگ عظیم کے بعد ہٹلر واپس چلاگیا اور ملٹری کیلئے ایک افسر کے طور پر فرائض پورے کرتا رہا لیکن دل میں ابھی بھی اس شکست کا غم تھا۔ وہ اپنے فرائض میں جو کام کرتا تھا وہ جرمن ورکر پارٹی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا تھا پھر وہ اس کے کام اور پالیسیوں سے بہت متاثر ہوا لہذا اس نے ۱۹۱۹؁ میں اسی میں شمولیت لے لی ۔ اس کے کچھ عرصے بعد پارٹی نے نام تبدیل کردیا اسکا نیا نام نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکر پارٹی رکھدیا اور اسکا سمبل ہٹلر نے خود بنایا اور اس پارٹی کو نازی بھی کہا جانے لگا۔

ہٹلر کی تقاریر

                    ہٹلر بات اور تقریر کرنے کے ہنر کو جاننے والا شخص تھا۔ جس نے اپنی دھواں دار تقریروں سے جرمن عوام کو یہ احساس دلایا کے وہ فاتح قوم ہیں اور طاقتور ہیں۔اس طرح ہٹلر جرمن عوام کے دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب ہوگیا وہ جب ہزاروں لاکھوں کے مجمعے میں بات کرتا تو لوگ اس کی باتوں کے سحر میں کھوجاتے۔پھر اپنی قابلیت کی بنا پر وہ پارٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا۔ پھر اسی دور میں اس پر بغاوت کا الزام لگا اور جیل میں ڈالدیا گیا لیکن وہ ان چیزوں سے نہیں گھبرایا اور جیل میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے سازشی عناصرکے چہروں سے نقاب ہٹایا اس کتاب کا نام مائی اسٹرگل تھا۔ اس کتاب میں اس نے بتایا کے یہ لوگ جرمنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور یہ بھی لکھا کہ کیسے جرمنی کو آگے ترقی کی راہ پر لایا جاسکتا ہے۔

                    اس کے بعد ہٹلر صدر کے عہدے کیلئے الیکشن میں کھڑا ہوا اور مخالف کو بھاری اکثریت سے شکست دی۔اس کو چانسلر بنادیا گیا اس نے اپنے اختیارات کو بڑھانے کیلئے ایک قانون بنایا جس سے اس کو تقریبا تمام اختیارات مل گئے اب وہ آئین کے خلاف بھی فیصلے کرسکتا تھا۔پھر اس نے ملک میں صرف اپنی پارٹی کو طاقتور بنانے کیلئے مخالف پارٹی پر دباؤ ڈالے اور اسطرح ۱۹۳۳؁ صرف نازی پارٹی ہی جرمنی کی پارٹی رہ گئی۔ اس کے مقابل آنے والوں سے ہٹلر کا رویہ سخت ہوتا تھا پھر ایک وقت آیا کہ فوج کے اختیارات بھی ہٹلر کے قبضے میں آگئے اور یوں وہ جرمنی کے سیاہ سفید کا مالک ہوگیا۔

دوسری جنگ عظیم کا آغاز

                    قارئین ہٹلر کو یہودیوں سے سخت نفرت تھی اور اس نے جرمنی میں ان کیلئے سخت قوانین بنائے اور ان کو دباؤ میں رکھا انکو کاروبار کرنے سے روکا گیا اور ان کے بچوں کو بھی اسکول جانے سے روکا گیا اور حد مقرر کردی گئی اور ان کے پاسپورٹ پر بھی نشانی لگادی گئئ جس سے ان کی الگ پہچان واضح ہو۔ پھر اس نے یہودیوں کو قتل کرنا بھی شروع کیا اور پھر اس نے پولینڈ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا کیونکہ پولینڈ نے اس کی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔لیکن اس سے پہلے پولینڈ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرچکا تھا اسلئے اسکے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی پر حملہ کردیا۔ اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔

                    اس جنگ میں ہٹلر نے یہودیوں کو چن چن کر مارا اور اس طرح اسکا نام یہودیوں میں خوف کی علامت بن گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے کافی ممالک پر حملہ کرکے قبضہ کئے اور پھر اس نے سوویت یونین پر حملہ کرنے کیلئے فوج بھیجی اور کافی حصہ پر قبضہ کرلیا۔ اسی دوران جاپان نے ہٹلر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور اس سے ہٹلر کی اور ہمت بڑھی اور اس نے سوویت یونین اور برطانیہ وغیرہ پر حملے کا ارادہ کیا۔ لیکن یہ تینوں بہت طاقتور ممالک تھے سوویت یونین کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی اور برطانیہ اس وقت کا سب سے بڑا ملک تھا اور امریکہ ایٹمی طاقت تھا اس کا اندازہ ہٹلر کو بھی تھا کہ اب سامنا طاقتور دشمن سے ہے۔

                    ہٹلر کی فوج کو پے در پے شکست ہونے لگی اور جرمن کے بہت سے لیڈر کو لگنے لگا تھا کہ ہٹلر اب ہارنے کے قریب ہے اور وہ صرف اسی کو سارے معاملے کا سزاوار ٹھہراتے تھے۔ پھر ہٹلر پر اسکے اپنے ہی لوگوں کی طرف سے قاتلانہ حملے بھی ہوئے لیکن یہ ہر بار بچ گیا پھر وہ وقت بھی آگیا جب اتحادی افواج نے جرمنی پر حملہ کردیا اور ہٹلر زیر زمین چھپ گیا ۲۹ اپریل ۱۹۴۵؁ کو ہٹلر نے اپنی دوست سے شادی کرلی اور اگلے دن ۳۰ اپریل کو نا معلوم وجوہات پر خود کشی کرلی۔ یہاں اسکی کہانی ختم ہوتی ہے لیکن ایک بات جو کہنی چاہئے وہ یہ کہ کچھ بھی ہو وہ ایک ذہین شخص تھا جو اپنے گیم کو اپنے حساب سے کھیلنے کا ماہر تھا اور اس کی معاشی اصلاحات نے جرمنی کو ایک معاشی طاقت بنادیا تھا اس کی یہی اصلاحات اسکی مقبولیت کی وجہ بنی۔

یہ مضمون بھی آپ کو پسند آئینگے

جوزف کے اصول

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

جوزف کیسے کامیاب ہے

کاروبار میں خود سے وفاداری

جوزف کے اصول

                    جوزف رافیل ایک بزنس مین ہے اور فاسٹ فوڈ کی ایک بہت بڑی چین کا مالک ہے۔ شہر میں اسکے پچاس سے زیادہ ریسٹورینٹ ہیں ۔ وہ دن میں اپنے ریستوران میں گھومتا رہتا اور وہاں کام کرنے والوں سے ملتا گپ شپ کرتا پھر کچھ دیر میں دوسرے ریستوران کی طرف نکل جاتا۔ پھر شام کو ایک جگہ بیٹھ کر چائے کافی وغیرہ پیتا اور دوستوں سے ملتا پھر اپنے گھر چلاجاتا یہ اسکا روز کا معمول تھا۔ جوزف کے پاس جب کوئی ایک دفعہ جاب پر آجاتا تو مشکل تھا کہ پھر وہ جاب چھوڑکر چلاجائے پندرہ سال سے زیادہ پرانے لوگ اس کے پاس کام کررہے تھے۔ حالانکہ یورپ وغیرہ میں ایک نوکری سے چپکے رہنے کو نفسیاتی مسٔلہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک ملازم سے پوچھا گیا کہ تم یہاں سے کام کیوں نہیں چھوڑتے اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ خود جوزف ہے پھر اس نے کہا کہ جوزف یہ سب کیسے کرتا ہے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
                     جوزف کا ملازم رکھنے کا اپنا طریقہ ہے اگر کوئی شخص اس کے پاس ملازمت کیلئے آتا ہے تو وہ اس سے کچھ سوالات کرتا ہے ۔اگر وہ ان سوالات میں پورا اترتا ہے تو ملازمت کا اہل ہوتا ہے۔ نہیں تو جوزف معذرت کرلیتا ہے وہ سوالات یہ ہیں!
۱۔ جوزف اس سے پوچھتا ہوں کہ وہ عبادت کرتا ہے؟ اگر وہ ہاں کرتا ہے تو وہ میرے پہلے امتحان میں پاس ہوجاتا ہے یعنی اگر مسلمان ہے تو مسجد جاتا ہے یا ہندو ہے تو کیا مندر جاتا ہے اسی طرح عیسائی کا چرچ جانا جو جس مذہب سے تعلق رکھتا ہو لیکن ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے تعلق بنائے رکھے۔
۲۔جوزف پوچھتا ہے کہ کیا وہ شادی شدہ ہے اگر نہیں تو اس کو پابند کرتا ہے کہ ایک سال کے اندر تمہیں شادی کرنی ہوگی اور اگر کوئی پہلے سے شادی شدہ ہے تو اس سے اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں فیملی کو کتنا ٹائم دیتا ہے اگر روز کے چار گھنٹے اور ہفتے میں دو دن کہتا ہے تو ٹھیک ورنہ جوزف اس کو منع کردیتا ہے۔
۳۔ جوزف کہتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ سال میں چھٹیاں لیتا ہے اور فیملی کے ساتھ کہیں جاتا ہے اور دوستوں میں وقت گزارتا ہے اور یہ کہ وہ اوور ٹائم تو نہیں لگارہا اگر وہ اوور ٹائم لگاتا ہے اور فیملی کو سال میں ایک دفعہ کہیں لیکر نہیں جاتا تو جوزف اس کو بھی ملازم نہیں رکھتا۔
۴۔ جوزف معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ایکسر سائز کرتا ہے جاگنگ وغیرہ یا جم جاتا ہے یا نہیں اگر اس کا جواب نفی میں ہوتا ہے تو جوزف اس سے معذرت کرلیتا ہے۔
۵۔ اور آخر میں جوزف یہ معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ مطالعہ کرتا ہے روزانہ کے اخبارات یا کوئی اچھی کتاب پڑھتا ہے اگر ہاں تو اس کو رکھ لیتا ہوں نہیں تو منع کردیتا ہوں۔

کاروباری یا ذاتی سوالات؟

                    اب دیکھا جائے تو یہ سب باتیں ذاتیات میں آتی ہیں اور ملازمت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن جوزف کا کہنا ہے کہ یہ ذاتی چیزیں ضرور ہیں لیکن ان سے پتا چلتا ہے کہ ایک شخص اپنے آپ سے کتنا وفادار ہے۔ جب اپنی فیملی کو ٹائم دیگا تو کام میں بھی سہی ٹائم دے پائے گا اور جب اپنی صحت کا خیال رکھیگا تو دوسروں کی صحت کی بھی فکر کریگا۔ اور کام میں کارکردگی بھی اچھی دکھائیگا اور جب مطالعہ کریگا تو کچھ نیا سیکھے گا اور نیا کرکے دکھائے گا اور جو اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا تو وہ اپنے کام سے کیسے وفا کریگا۔
                   جو شخص اپنے ساتھ وفادار نہیں وہ کسی سے یا اپنے کام سے کیسے وفادار ہوگا۔ ہر انسان کی وفا کا آغاز پہلے اس کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اگر وہ اپنے آپ سے اور اپنے اللہ سے دھوکہ کررہا ہے تو پھر کسی سے بھی دھوکہ کرسکتا ہے۔ اور جو خود اچھی عادات سے محروم ہو تو وہ اپنی فیملی اور گھر والوں کو کیسے نوازسکتا ہے ان کو اچھائی کی طرف کیسے لیجاسکتا ہے؟ جوزف یہ سب عادات اور کوالٹیز دیکھ کر کسی کو اپنی کمپنی میں ملازمت دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی پتا چل گئی ہوگی کہ لوگ جوزف کو چھوڑنے کو کیوں تیا ر نہیں ہیں اور عرصہ دراز سے وہیں کام کئے جارہے ہیں۔

ہماری یہ پوسٹ بھی دیکھیں

ہٹلر کی تاریخ

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

اسٹیفن ہاکنگ

اسٹیفن ہاکنگ

                    اسٹیفن ہاکنگ اپنے شعبے میں ایک بہت عظیم سائنسدان تھے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے شعبے میں اتنے آگے تک جا پاتے ہیں گہرائی کو سمجھ پاتے ہیں اور اپنے شعبے سے انصاف کرپاتے ہیں۔ ان ناموں میں اسٹیفن ہاکنگ کا نام بھی لیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا کو وہ بتایا جو وہ نہیں جانتی تھی اور کسطرح بتایا یہ بھی حیران کن ہے۔وہ بچپن میں اور لوگوں کی طرح پڑھائی میں نارمل ہی تھے البتہ کچھ چیزوں کی وجہ سے دوست انہیں آئن اسٹائن بلاتے تھے۔ اسکول لائف میں وہ کمزور تھے اور تقریبا آٹھ یا نو سال تک وہ اچھی طرح انگلش سیکھ پائے۔ 

                ۱۳ سال کے بعد انہوں نے اپنے جوہر دکھانا شروع کئے لیکن پڑھائی میں ابھی بھی زیادہ اچھے نہیں مانے جاتے تھے۔ وہ اپنے حساب کے استاد سے بہت متاثر تھے لیکن باپ کی خواہش تھی کہ وہ میڈیکل میں ایڈمیشن لیں لیکن وہ چونکہ حساب میں دلچسپی رکھتے تھے ۔تو انہوں نے حساب کا انتخاب کیا ۔ان کے بڑے کارناموں میں سے ایک اس بلیک ہول کی دریافت ہے جس سے نئے سیارے بننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ان سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جن سے کائنات میں بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہیں۔ ان شعاعوں کو ان کی نسبت سے ’’ہاکنگ ریڈی ایشن ‘‘ کہا جاتا ہے۔

               وہ جب اپنی پی ایچ ڈی کی پڑھائی کررہے تھے کیمبرج یونیورسٹی میں تو ایک دن وہ وہاں سیڑھیوں سے پھسل گئے۔ اور جب ان کو ہسپتال لیجایا گیا اور ڈاکٹرز نے انکا پورا طبی معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کے وہ ایک بہت پیچیدہ بیماری ’’موٹر نیوران ڈزیز‘‘ میں مبتلا ہیں۔ جو ان کو محتاجگی کی طرف لیگئی اور پھر پہلے وہ وہیل چیئر پر آئے اس کے بعد ان کی گردن نے بھی کام کرنا بند کردیا۔ اور دھیرے دھیرے وہ واش روم وغیرہ کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے پورا جسم مفلوج ہوگیا صرف ایک آنکھ کی پلک میں تھوڑی زندگی باقی تھی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرز نے ان کو جواب دیدیا تھا لیکن وہ اس پلک کی حرکت اور جنبش سے وہ کام کرگئے کہ دنیا حیران ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر کے جواب دینے پر بھی ہار ماننے سے انکار کردیا اور کائنات کے ان رازوں سے پردہ اٹھایا جو اب تک دنیا سے اوجھل تھا ۔

              اسٹیفن ہاکنگ کیلئے کیمبرج کے ماہرین نے ایک کمپیوٹر بنایا جو ان کی پلک کی جنبش کو سمجھتا تھا اور اس کو ٹائپ کرتا تھا۔ اور اسپیکر میں بولتا بھی تھا اسطرح وہ اپنی بات کہتے تھے۔ وہ واحد انسان تھے جو پلکوں سے بولتے اور دنیا انہیں سنتی تھی انہوں نے پھر اس پلکوں کی حرکت سے کافی کتابیں لکھیں۔ ان سے انہوں نے کائنات کو پرکھنے کا نیا فلسفہ دیا ۔ ان کی ایک کتاب ’’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘‘ نے دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ اس شاہکار کتاب نے ۲۳۷ ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر ہونے کا اعزاز پایا اور لوگوں نے اس کو ایک عظیم کتاب کے طور پر پڑھا۔
              انہوں نے ایک کام اور کیا وہ لوگوں کو زندگی کی خوبصورتی پر لیکچر دینے لگے۔ بڑی بڑی کمپنیاں انہیں بلاتیں اور وہ وہیل چیئر پر آتے اور بات کرتے دنیا ان کو سنتی۔ انکا کہنا تھا کہ ’’ اگر میں اپنی معذوری کے باوجود یہ سب کرسکتا ہوں تو وہ لوگ جو سہی ہیں آجا سکتے ہیں کھا پی سکتے ہیں مسکرا سکتے ہیں اور بہت کچھ لائف میں کرسکتے ہیں تو وہ مایوس کیوں ہیں۔

یہ بھی اچھی پوسٹ ہیں

جوزف کی کامیابی

ہٹلر کی تاریخ