Mind power and control in urdu

Mind power and control in urdu

            میرے دوستو یہ ایک اہم اور دلچسپ موضوع ہے جو آپ کو آپ کا دماغ قابو کرنا سکھادیگا۔ یہ خاص کر آج کے ٹینشن بھرے دور میں بہت ضروری ہے۔ کیونکہ آج کل حوصلہ توڑنے والے اور آپ کی کامیابی سے جل کر یا کسی بھی وجہ سے آپ پر باتیں  کسنے والے بہت ملینگے ۔ یا کبھی آپ کچھ کرنا چاہرہے ہیں اور ہمت نہیں ہورہی یا کچھ پرانی دکھ بھری یادیں آپ کے موڈ اور کام پر اثر انداز ہیں تو ضروری ہے کے ان کو ختم کیا جائے۔

             دیکھئے اب بہت سے لوگ ایسا کہتے ہیں کہ ذہن کو کنٹرول کرو اور اپنے آپ کو چینج کرو۔ ایسا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں اور ویسے بھی ذہن کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں ہوتا۔ مائنڈ ایک دوڑتا ہوا گھوڑا ہے جو بہت ہی کم لوگوں کے قابو آتا ہے ۔ اس کے لئے لوگ تپسیا وغیرہ کرتے ہیں۔ اب آپ بھی کسی یوگی کی طرح سب کام چھوڑ کر کسی پہاڑ یا جنگل میں تپسیا کرنے چلے گئے تو باقی کام گھر کے کون کریگا؟ تو ایسا کچھ نہیں کرنا ہے تو پھر کیا کرنا ہے؟

کچھ باتیں کسی سے نہ کریں

وہ خامی جو ناکامی کی ذمہ دار ہے۔ 

mind memory storage

             یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارا دماغ  جذبات ،چیزیں یا واقعات   محفوظ کرنے کی جگہ ہے۔ اب اس میں یہ سب پڑا ہوا ہے جس میں اچھے واقعات برے واقعات اچھے جذبات یا منفی جذبات یا لوگوں کی چبھنے والی باتیں سب آپ کے دماغ میں ہیں۔ اب کرنا آپ کو یہ ہے کہ آپ کا دماغ ان باتوں میں سے منفی باتوں کو لیکر ٹینشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ تو آپ کیا کریں کے ان منفی باتوں کو  ذہن سے  ہٹانے کیلئے ان مثبت باتوں کو سوچیں اور ان منفی باتوں سے ری پلیس کردیں۔

             مثلا اس وقت کو سوچیں جب آپ نے کوئی بہت اچھی اور بڑی کامیابی حاصل کی تھی یا کوئی وقت بہت اچھا گزرا تھا۔ تو جب یہ آپ اپنے ذہن میں ری کال کرینگے تو آپ کو بہت اچھا محسوس ہوگا اور آپ کا موڈ اچھا ہوجائیگا۔ اور پھر سے آپ زندگی کو اچھا محسوس کرنا شروع کردینگے۔ اور جو کام یا کاروبار کرنا چاہرے ہیں اس پر پھر ایک نئے جذبے سے لگ جائینگے۔ کیونکہ یاد رکھیں خیالات آنا نہیں ہیں مائنڈ میں بلکہ لانا ہیں وہ جو آپ چاہتے ہیں۔ یہی طریقہ ہے یعنی آپ کو ذہن سے خیالات نکالنا نہیں ہے کیونکہ اس میں آپ ناکام ہوجائینگے بلکہ ان خیالات کو اچھے خیالات سے بدل دینا ہے۔

کچھ باتیں کسی سے شیئر نہ کریں apni kuch baten kisi ko na batain

کچھ باتیں کسی سے شیئر نہ کریں apni kuch baten kisi ko na batain

           کچھ باتیں کسی سے کبھی بھی شیئر نہیں کرنا چاہئیں۔ کیونکہ یہ آپ کو اس کے سامنے کسی موقع پر کمزور کرسکتا ہے کیونکہ وہ آپ کے ایسے راز جان گیا ہے جو آپ سماج کے سامنے نہیں لانا چاہتے ہیں۔اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوست یا شخص جس کے سامنے آپ نے اپنی ذاتی باتیں شیئر کی ہیں وہ آپ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ یا دشمن ہے بلکہ اس کو آپ کی ان باتوں کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔وہ نہیں جانتا کہ ان باتوں کے لوگوں کے سامنے آنے سے آپ کی زندگی پر کیا اثر ہوگا۔

            اس نے جانتے بوجھتے یا انجانے میں کسی کے سامنے آپ کی پرسنل باتیں شیئر کردی تو اس سے ہوگا کیا کہ ایک تو آپ کی زندگی ڈسٹرب ہوجائیگی۔ اور دوسرے آپ کا اعتماد اس دوست پر ختم ہوجائیگا اور آپ بلاوجہ اس کے بارے میں غلط سوچنا شروع کردینگے۔ اس لئے آپ کیلئے یہ ہی بہتر ہے کے اپنی حساس باتیں اپنے تک ہی رکھیں۔

اپنے مقاصد   aims and goals

             اپنے مقاصد کو بھی کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ ایک تو آج کل کوئی کسی کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ دوسرا پھر اگر آپ اس کام یا مقصد میں ناکام ہوگئے تو یہ لوگ آپ کو سوال کرکر کے سر میں درد ہی کردینگے۔ اس لیے بہتر ہے کے اپنے کاموں کو خاموشی سے پورا کریں اگر وہ کام کامیاب ہوگیا تو لوگوں کے سامنے خود ہی آجائیگا۔ اور اگر ناکام ہوگیا تو بھی کوئی بات نہیں کسی کے سوالوں کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔

وہ خامی جو ناکامی کی ذمہ دار ہے

آپ کی اچھی عادتیں

اپنی اچھی باتیں

            اپنی اچھی باتیں بھی شیئر نہ کریں۔ ایک تو یہ ویسے بھی اچھی بات نہیں اس سے خود نمائی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ اور دوسرے اس سے سامنے والا بور ہوجاتا ہے کیونکہ وہ ان باتوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتا اور بہانے سے آپ سے جان چھڑانے کی کرتا ہے۔ اور پھر کسی اور کے سامنے آپ کی اس عادت کو مذاق اور ہنسی میں پیش کرتا ہے جو آپ کی شخصیت کیلئے بلکل بھی اچھا نہیں ہے۔

            یہاں بس آپ کسی کے ساتھ نیکی کریں اور بھول جائیں اسی میں بہتری ہے۔ اور ویسے بھی وقت ایک سا نہیں رہتا آپ اپنی اچھائیوں کا ڈنکا خود بجاتے ہیں لیکن پھر اچانک کچھ ایسے حالات آجاتے ہیں کہ آپ خود کسی کی مدد کے محتاج ہوجاتے ہیں۔ پھر اس وقت بڑی شرمندگی ہوتی ہے اور اس شخص کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے جس کے سامنے ڈینگیں ماری گئی ہوتی ہیں۔

اپنا خرچہ اور بینک بیلینس

             یہ بھی ایک اہم بات ہے جو صرف آپ کو ہی معلوم ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس سے بھی آپ پریشانی میں آسکتے ہیں جیسے کہ آپ نے اپنے کسی دوست یا جاننے والے کو اپنے بیلینس کے بارے میں بتایا ہوا ہے۔ تو بعد میں اگر وہ آپ سے پیسے ادھار مانگے تو آپ ینکار نہیں کرپائینگے اور اگر انکار کردیا تو دوست بھی جائیگا۔ کیونکہ آپ نے پیسے کے ہوتے ہوئے بھی اسکی مدد نہیں کی۔ یہ کچھ باتیں تھیں جو آپ کو بہت سوچ سمجھ کر کرنی ہیں یا بلکل نہ کریں یہی بہتر ہے۔

            

کامیاب تو ہوجاتے ہیں پر خوشی? why are you unhappy

کامیاب تو ہوجاتے ہیں پر خوشی? why are you unhappy 

             تو جناب عالی آج کا موضوع یہ ہے کہ کیوں انسان سب کچھ پالینے کے بعد بھی نا خوش رہتا ہے۔ اس کو وہ خوشی نہیں ملتی جس کیلئے اس نے یہ سب محنت کی تھی۔ آپ نے بڑے لوگ دیکھے ہونگے جو ڈاکٹرز اور انجینئر وغیرہ بننے کے بعد بھی خوش نہیں ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔

             دیکھیں سب سے پہلے تو یہ کہ ہم نے خوشی کو چیزوں کے ساتھ جوڑا ہوتا ہے۔ جیسے آپ کے پاس سائیکل تھی پھر بائک آئی تو خوشی ہوئی پھر کار آئی تو اور خوشی ہوئی۔ اسی طرح گھر کا معاملہ بھی ہے اور دیگر چیزوں میں بھی یہی فارمولا ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی خوشی نہیں ہے کیونکہ چیزوں سے جڑی خوشی عارضی ہوتی ہے جیسے بچے کو کوئی نیا کھلونا دیدیں تو وہ بہت خوش ہوتا ہے پھر ایک ٹائم کے بعد اسکا عادی ہوجاتا ہے اور وہ کھلونا جو ایک ٹائم میں اس کیلئے خاص تھا۔ اب نارمل ہوجاتاہے۔ اب اس کو اس کھلونے سے مزہ نہیں آرہا ہوتا ہے۔

             یہی حال دوستو انسانوں کا بھی ہے جب جب وہ نئی نئی چیز کا عادی ہوتا جاتا ہے اس چیز میں اسکی دلچسپی اور مزہ ختم ہوتا جاتا ہے۔ تو خوشی بھی باقی نہیں رہتی تو اب دائمی خوشی کیسے حاصل ہو؟  اس وقت دنیا میں آٹھ ہزار سے زیادہ خوشی کے موضوع پر کتابیں موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ کیسے خوش رہا جائے۔ اب ایسے سات طریقے دیکھے گئے ہیں جو خوشی کیلئے ضروری ہیں۔ وہ ایک ایک کرکے دیکھ لیتے ہیں۔

شکرگزاری

             سب سے پہلے شکر کرنے والا شخص ہے جو خوش رہتا ہے اگر آپ کے پاس سب کچھ ہے اور آپ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے تو آپ کا خوش رہنا مشکل ہے۔ یہ احساس ضروری ہے کہ جو مجھے ملا ہے اس میں میرا کمال کم اور اللہ کی مہربانی زیادہ ہے۔ 

معاف کرنا

             دوسرا  وہ شخص خوش رہتا ہے جو معاف کردیتا ہے معاف کرنا جانتا ہے۔ اللہ کو ایسے بندے سے بہت پیار ہے جو معاف کرنے والا ہو۔

بھول جاؤ

            جو شخص تکلیف دینے والی باتیں اور واقعات بھول جاتا ہے وہ خوش رہتا ہے۔ اب اس میں یہ ہے کہ جو بات نہیں بھولتی اس کو ذہن میں خود سے یاد نہ کرے بلکہ کسی اور طرف سوچ کو لیجائے۔ کیونکہ انسان اور واقعات تکلیف دیتے ہیں اور اس کا بہترین حل یہی ہے کہ معاملہ اللہ پر چھوڑکر آگے بڑھ جاؤ۔ 

سفر کریں

            انسان سفر کرنے سے جب نئی نئی چیزیں دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے اس لئے سفر بھی ایک اچھا ذریعہ ہے خوشی حاصل کرنے کا۔

سیکھتے رہیں

             جو سیکھتا رہتا ہے نئی نئی چیزیں وہ خوش رہتا ہے۔یعنی آپ اپنے ذہن کو کہیں نہ کہیں نئی نئی چیزوں میں مرکوز رکھیں۔ جو آپ کے ذہن کو مصروف رکھیگا اور آپ کو نئی چیز سیکھنے کی خوشی بھی محسوس ہوگی۔ کچھ بھی سیکھیں جیسے کوئی زبان یا ڈرائیونگ یا تیراکی کچھ بھی سیکھتے رہیں ۔

اپنی رائے کی اہمیت

علم کس کا ہے؟

بچے کی تربیت

رشتہ داری

             اب رشتے ناتے بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ آپ کو خوش رکھتے ہیں۔ اس لئے جب بھی موقع ملے اپنے پیاروں کے ساتھ وقت ضرور بتائیں یہ آپ کو اندر سے خوشی دیگا۔

ایمان 

             انسان  کی خوشی  کیلئے ایمان بھی بہت ضروری ہے۔ جب ایمان ہوتا ہے تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کچھ ملنا کچھ چھننا یہ سب اللہ کی حکمتیں ہیں۔ تو ہمارا غم دور ہوجاتا ہے اور ہم سکون میں آجاتے ہیں تو جناب اللہ پر یقین اور ایمان کو بڑھائیں یہ آپ کو خوشی دیگا ۔

اپنی رائے کو اہمیت دلوائیں apni khud ki raiy banain

اپنی رائے کو اہمیت دلوائیں apni khud ki raiy banain

            دوستو  شاہ صاحب کہتے ہیں کہ اپنی خود کی رائے بناؤ۔ یہ آپ کی پہچان بنے گی۔ اب رائے کی تعریف کیا ہے پہلے تو اس کو سمجھ لو رائے مطلب کسی بھی چیز پر آپ نے کام کیا ہو پھر اس پر اپنا تجربہ بیان کیا ہو یہ اصل رائے ہے۔ اور ضروری نہیں کہ سہی ہو غلط بھی ہوسکتی ہے لیکن اہم یہ کہ آپ نے رائے دی۔ وہ آگے چل کر آپ اور بہتر کرلینگے لیکن اس پر کام اور ورک کرتے رہیں۔ ایک وقت میں آپ کی رائے کسی خاص شعبے میں وزن والی مانی جائیگی اور آپ کی پہچان بنےگی۔

            مثلا ایک ٹائم میں بلکہ آج بھی زیادہ تر سفر کو تفریح کیلئے کیا جاتا ہے لیکن سفر علم کیلئے بھی ہوتا ہے تعلیمی بھی ہوتا ہے۔ کسی خاص شخص سے ملاقات اور اس کے تجربے سے استفادے کیلئے بھی ہوسکتا ہے۔ جو آپ کو آپ کی رائے بنانے میں کردار ادا کریگا آپ کا ذہن سفر کے بارے میں ایک تجربے کے بعد ایک رائے قائم کریگا جسکی اہمیت ہوگی اور سفر کے حوالے سے آپ کی رائے کی اہمیت ہوگی۔ 

             اب رائے بنانے کا ایک خاص طریقہ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے کتابیں پڑھنا یار آپ کتابیں پڑھنا شروع کریں آپ کا ذہن سو نئے زاویے سے سوچنا شروع کردیگا اور آپ کسی چیز یا معاملے کو عام آدمی کے مقابلے میں زیادہ زاویے سے دیکھ پائینگے اور بہتر رائے قائم کر پائینگے۔ کتاب تو ویسے بھی ایک بہت ہی فائدہ مند چیز ہے آپ کو کسی بھی سفر میں گورے کے ہاتھ میں موبائل نظر آئے یا نہ آئے کتاب ضرور نظر آئیگی کیونکہ وہ اسکی کی اہمیت سے واقف ہے۔ تو آپ کو ذہن کے دریچے کھولنے ہیں تو پڑھنا شروع کردو ۔ چاہے دو صفحے ہی سہی لیکن پڑھو دو صفحوں میں مشکل سے تین  چار منٹ لگینگے پھر پڑھنے کی عادت خود ہی آپ کو زیادہ پڑھنے پر اکسائیگی۔

امیر بننے کیلئے ضروری چیزیں

محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے

زیتون کا کاروبار

            اگر کسی کو دیکھنا ہے کے وہ کتنا قابل ہے اس کی رائے دیکھو مختلف چیزوں پر وہ آپ کو اس کی قابلیت کھول کر سامنے رکھدیگی۔ انسان کی زبان کے پیچھے قابلیت چھپی ہوتی ہے سنا ہوگا آپ نے؟   ایک دوسرا طریقہ رائے بنانے کا یہ ہے کہ آپ نئے دوست بنائیں یا نئے لوگوں سے ملیں جن کے نئے تجربات اور علم آپ کو بہت فائدہ دیگا۔ 

              اس کے علاوہ آپ کو اپنی رائے بنانی ہے اور اس کو بہتر کرنا ہے تو آپ کو غور و خوض کرنا ہوگا اب اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے آپ کسی جگہ بیٹھ کر گھنٹوں سوچے چلے جارہے ہیں اور ادھر گھر والے آپ کو کسی نفسیاتی ہسپتال میں داخلے کا سوچ رہے ہوں۔ اس کا مطلب آپ چلتے پھرتے کسی مسٔلے پر ہلکا پھلکا سوچتے رہیں تاکہ اس کے بارے میں نئی سوچ اور زاویے ذہن میں آتے رہیں۔  بس اس بات کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں کہ کسی نے کہا ہے علم اپنی لاعلمی کے احساس کا نام ہے۔

 

امیر بننے کیلئے کیا ضروری ہے ameer kaise bane

امیر بننے کیلئے کیا ضروری ہے ameer kaise bane

            اگر آپ کا یہ ماننا ہے کہ امیر اور بڑا بننے کیلئے زیادہ علم اور کوالیفکیشن چاہئے تو یہ درست نہیں ہے اور اگر آپ کا یہ ماننا ہے کہ زیادہ تیز دماغ چاہئے تو یہ بھی سہی نہیں ہے۔ مشاہدے میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کبھی زیادہ پڑھے لکھے لوگ زندگی میں فیل ہوتے دیکھے گئے ہیں اور کم پڑھے لیکھے لوگ ترقیوں کی بلندی پر پہنچ گئے ہیں۔ 

             دنیا کے زیادہ تر کامیاب لوگ کم پڑھے لکھے ہیں اور یہاں میں ان کو جو کم پڑھے لکھے ہیں یا ذہن میں اتنے تیز نہیں ہیں ان کوحوصلہ اور راستہ دکھانا چاہتا ہوں۔ تاکہ وہ بھی نئے سرے سے اپنے آپ کو زندگی کی دوڑ میں شامل کرلیں اور کامیابیاں سمیٹیں۔ دنیا کے بڑے بڑے نام جیسے بالی ووڈ کے عامر خان اور سلمان خان یا انڈیا کے کامیاب کاروباری شخصیات اور بہت سے کامیاب کرکٹر جیسے سچن وغیرہ اپنی اسٹدی کو مکمل نہ کرسکے لیکن انہوں نے اس کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اور اپنے آپ کو اس جگہ پہنچایا جہاں کوئی بہت زیادہ پڑھے لکھے شخص کو ہونا چاہئے۔ 

محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے

خطرناک سیاحتی مقامات

              اس میں ایک بات جو اہم ہے وہ یہ کہ زیادہ پڑھے لکھے لوگ زیادہ سوچتے ہیں جب بھی وہ کچھ بڑا کرنے کا پلان کرینگے ان کی تعلیم ان کو ہر زاویہ سے سوچنے پر مجبور کریگی۔ جیسے اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا یا بڑا فیصلہ ہے تھوڑا تحقیق کرنی چاہئے یا اس میں تو پہلے ہی اتنے لوگ کام کررہے ہیں تو میرے چانسز بہت کم ہیں کامیاب ہونے کے وغیرہ وغیرہ۔

             اس کے مقابلے میں کم پڑھا لکھا تھوڑا کم سوچے گا کیونکہ اس کے پاس سوچ کے زیادہ زاویے ہی نہیں ہیں تو وہ فورا ایکشن لیگا اور نتیجہ ایکشن سے ہی نکلتا ہے۔ اس بات سے بہت لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے کہ میں شاید پڑھائی کے خلاف ہوں۔ ایسا نہیں ہے بھائی میں بس ایک نظریہ اور تحقیق بتارہا ہوں۔ اور جن کا مقصد کسی بڑی پوسٹ پر پہنچنا ہے جہاں کوالیفکیشن ریکوائرڈ ہے تو ان کیلئے تو پڑھائی ہی ضروری ہے اور یہ ہی ان کی کامیابی ہے۔ یاد رکھیں جناب ہر ایک کی نظر میں کامیابی کی تعریف الگ ہوتی ہے۔

محنت کاصلہ ضرور ملتا ہے mehnat ka sila

محنت کاصلہ ضرور ملتا ہے mehnat ka sila

            دوستو آج کا موضوع بھی بڑا دلچسپ ہے جو بہت سی کنفیوژن دور کردیگا آپ کی محنت کے حوالے سے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ  اللہ محنت کبھی ضایع نہیں کرتا وہ محنت کا صلہ ضرور دیتا ہے۔ اب اس کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ جیسے میٹرک میں اگر نمبر محنت کے حساب سے نہیں آتے تو اس میں پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہوسکتا ہے اللہ آپ کو اس کا صلہ آگے چل کر کسی اور شکل دینا چاہتا ہو جو آپ کیلئے زیادہ بہتر ہو۔اس لئے جلد بازی اور غم کرنا سہی نہیں بلکہ یہ موقع صبر کا ہے۔

             اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کا صلہ برکت کی شکل میں بھی دیتا ہے جو نمبر کم ہونے کے باوجود بھی آپ کو زیادہ کامیابی دلاتا ہے۔بس آپ کو یہ یقین رکھنا ہے کہ اللہ کے نظام میں آپکی محنت ضایع نہیں جاتی۔ وہ اس کو بڑھاکر واپس کرتا ہے۔یاد رکھیں زیادہ نمبر اور کامیابی ذہین کے حصے میں نہیں بلکہ محنت کرنے والے اور پختہ یقین والے کے حصے میں آتی ہے۔محنت کرنے والے کو کسی بات کا ڈر یا غم نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کو مطمئن ہونا چاہئے کیونکہ محنت کرنے والا جسم و جان بذات خود اللہ کا انعام ہے۔ 

کامیاب لوگوں کی عادتیں

اپنا اعتماد کو کیسے بڑھائیں

اپنی ذات کی خوبیاں

آپ کا ایمان اور آپ کی کامیابی

            آپ کا ایمان اور یقین آپ کی کامیابی میں اہم کردارادا کرتا ہے۔ آپ کے پاس جو اختیار ہے وہ بہت طاقتور ہے اس کو استعمال کرکے آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔آپ کو جو خواب دیکھنا ہے دیکھیں اور اللہ پر ایمان اور یقین رکھیں کہ وہ آپ کے خواب کو آپکی محنت کے بل بوتے ضرور پورا کریگا۔

             مثال بننا زیادہ بہتر ہے یا جو کامیاب ہوگیا ہے اس کی مثال سننا زیادہ بہتر ہے؟ یقینن مثال بننا زیادہ بہتر ہے تو آپ محنت کو اپناکر مثال بن سکتے ہو۔تاکہ آپ کی کایابی کی مثال لوگ دیں اور  آپ کی کامیابی کی کہانی لوگ سننا چاہیں۔ ایسی کامیابی آپ کو حاصل کرنی ہے۔

            ایک نقطہ آپ اپنے ذہن میں صاف کرلیں کہ زیادہ ذہین کامیابی کی علامت نہیں ہے یہ تحقیق سے ثابت ہے کہ ذہانت سے زیادہ محنت کامیابی کیلئے ذمہ دار ہے۔ اس لئے یہ کوئی معنیٰ نہیں رکھتی کے آپ ذہین ہیں یا عام ذہانت رکھتے ہیں۔

             اگلی بات یہ کہ خدمت کرنا سیکھیں جو انکساری اورخدمت گار نہیں بنتا وہ کامیابی سے دور ہوجاتا ہے۔ اس لئےآپ کبھی خانقاہ گئے ہوں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ نئے آنے والے جو کچھ سیکھنے آتا ہے اس کو خدمت کے کام پر لگاتے ہیں۔ تاکہ اس کے اندر کی ’’میں‘‘ کو ماریں اور اس کو جھکنا سکھائیں یہ بھی ضروری ہے۔ ترقی کیلئے جھکنا،خدمت کرنا اورادب کرنا آپ کو آنا چاہئے۔ 

             

کامیاب لوگوں کی صبح کی عادتیں morning habits ameer logon ki

کامیاب لوگوں کی صبح کی عادتیں morning habits ameer logon ki

              ایک واقعہ اپنا مضمون شروع کرنے سے پہلے سناتا ہوں جو آپ کو حوصلہ افزا کریگا۔ ایک شخص تھا جو اچھے سے اپنی زندگی گزاررہا تھا۔ پھر اچانک ایک دن کام سے آتے ہوئے اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا جو بہت سیریس تھا ۔ اس کی ٹانگ اور ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ مرتے مرتے بچا۔ یہاں تک کہ کچھ دن کومہ میں بھی رہا لیکن پھر اس کو ہوش آیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کا برین ڈیمج ہوگیا ہے اب وہ وہیل چیئر کے بغیر نہیں چل سکتا۔

             اب یہ سن کر وہ کافی افسردہ ہوا اور برا فیل کیا کہ یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ لیکن بس کچھ دیر تک اس کا ماننا تھا کہ اگر لائف میں کچھ برا ہوجائے تو بس کچھ دیر کیلئے ہی غم کرو زور زور سے رو چلاؤ لیکن پھر نارمل ہوکر آگے کی سوچو کیونکہ اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب اس نے یہ ہی کیا اور آگے کی سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا ہے۔

             اب اس نے اپنے سارے غم اور دکھ کو اپنے اندر سے ختم کردیا اور خوش رہنے لگے۔ اپنے اس رویہ سے اس نے اتنی جلدی صحت یابی حاصل کی کے ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے اور اس نے ڈاکٹر کو بھی غلط ثابت کیا اور کچھ عرصے میں چلنا بھی شروع کردیا۔اب وہ بلکل ٹھیک ہوگیا اور اپنی نارمل زندگی میں واپس آگیا۔ اس کے بعد وہ اور زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے کام پر آیا اور پہلے سے بہتر کام کرکے سب کو حیران کردیا۔

            اب اس نے اپنی کچھ عادات کو اپنی لائف کا حصہ بنالیا جو بہت فائدہ مند تھیں اور یہی ذکر کرنا مقصد ہے۔

جاگنگ

            دیکھو کہا جاتا ہے کہ جو اپنی صبح کو جیت لیتا ہے وہ اپنے پورے دن کو جیت لیتا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کبھی آپ نے اس کاتجربہ نہیں کیا ہوگا۔ لیکن ایک دفعہ کرکے ضرور دیکھو بہت مزہ آئیگا اور پورا دن تازہ تازہ رہوگے۔دیکھو یہ عادتیں اگر آپ کرتے ہیں تو آپ کو اندر سے ایک خوشی کا احساس ہوگا یہ اس کا ایکسٹرا فائدہ ہے فزیکل فائدے تو الگ ہیں جو آپ بھی سمجھتے ہیں۔

مراقبہ 

            مراقبہ ایک ایسی چیز ہے جسے بڑے بڑے کامیاب لوگ اپنی کامیابی کی وجہ مانتے ہیں۔ اور اس کو صبح ایک بہت ضروری چیز سمجھ کر کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے آپ اس کو مستقل مزاجی سے ایک ہفتہ بھی کرلیں تو یہ آپ کے کام کی پرفارمنس کو بڑھادیگا۔ یہ کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اپنے آپ کو مثبت ہونے کی ہدایات دینا

            آپ روز صبح کو اپنے آپ سے یہ کہیں کہ کچھ بھی ہو کیسی بھی سچویشن ہو مجھے مثبت رہنا ہے۔ تو جب ایسا بار بار کہتے ہیں اور روز کہتے ہیں تو دماغ اس چیز کو تسلیم کرلیتا ہے اور آپ کو کسی بھی خراب سے خراب سچویشن میں بھی منفی ہونے نہیں دیتا۔ یہ چیز آپ کی صلاحیتوں کو چار چاند لگادیتی ہیں۔

ورزش   exercise

            ورزش کے بارے میں آپ کو کہنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ آپ بہت پہلے سے بہت اچھی طرح جانتے ہو تو اس کو بھی لازم پکڑو۔

اپنا اعتماد بڑھائیں

اپنی ذات کی خوبیاں

تخلیقی شخص مار نہیں کھاتا

بک پڑھنا

           یہاں میری مراد نیوز پیپر پڑھنے سے نہیں ہے جو آپ روز پڑھتے ہیں اور کچھ مثبت کچھ منفی  خبروں سے اپنے آپ کو کچھ ٹینشن اور کچھ اچھا محسوس کرواتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد کوئی کتاب جو کردار سازی  سیلف  موٹیویشن سے متعلق ہو اس کا کچھ حصہ  پڑھنا ہے۔ جو آپ کو حوصلہ دیگی دن کے معاملات  حل کرنے میں۔ 

لکھنا   writing

             یہ عادت آپ کے بہت کام آنے والی ہے۔ دیکھو روز آپ کے مائنڈ میں نئے اور اچھے خیالات آتے ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں۔ کچھ اتنے اچھے ہوتے ہیں کے ان پر عمل کرنے کا دل کرتا ہے یا کسی سے شئر کرنے کا دل کرتا ہے۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ ٹائم نہیں ہوتا اور آپ کام میں بزی ہوجاتے ہو۔ اور آخر وہ بات یا آئیڈیا ذہن سے نکل جاتا ہے اگر یہ آپ لکھ لو تو ایسی کتنی اچھی باتیں اور آئیڈیاز جو آپکے مائنڈ میں آتے ہیں۔ آپ کو یا دوسرے کو فائدہ دیسکتے ہیں۔ اسلئے لکھنے کی عادت ڈالو۔

امید ہے یہ مضمون آپ کو پسند آیا ہوگا تو لائک اور شئر ضرور کریں۔ شکریہ

اپنا اعتماد بڑھائیں apna confidence increase kren

اپنا اعتماد بڑھائیں apna confidence increase kren

            دوستو آج کا موضوع بہت اہم ہے جو خود اعتمادی پر ہے۔ آپ اپنی ذاتی ترقی سے لیکر اچھا ذمہ دار شہری بننے تک سب میں ایک چیز ضروری ہے وہ ہے اعتماد۔ آپ کا اعتماد بتاتا ہے کہ آپ کتنا آگے جاسکتے ہو یا کتنا اچھا تعلق اپنے آس پاس کے لوگوں سے قائم رکھ سکتے ہو۔ یا کیا کیا اپنی لائف میں نیا کرسکتے ہو یہ سب آپ کے اعتماد پر منحصر ہوتا ہے۔

            آج اسی پر بات کرینگے کہ کیسے آپ اپنا اعتماد بڑھاکر اپنے آپ کو بہتر کرسکتے ہو اور اپنی لائف میں کامیابی اور امپروومنٹ لاسکتے ہو۔ آپ کی اپنے بارے میں کیا سوچ ہے کیا احساسات ہیں یہ سب فیصلہ کرتے ہیں آپ کی ترقی اور بہتر لائف کا۔

اپنا علم بڑھاؤ

            دیکھو یارو آپ کا کسی چیز پر علم کم ہوگا تو آپ اس چیز یا شخص کے بارے میں زیادہ اعتماد سے بات نہیں کرپائینگے اور اگر کر بھی لی تو آگے چل کر غلط ہونے کا امکان ہے۔ جو آپ کو لوگوں کے سامنے شرمندہ کراسکتا ہے۔ اور لوگوں کا بھروسہ بھی آپ پر سے اٹھ جائیگا کہ یہ شخص سہی بات نہیں کرتا۔

             اس لئے آپ کو اس بارے میں خاموش رہنا چاہئے جس بارے میں علم نہ ہو۔ اور پھر اس پر اپنا علم بڑھانا چاہئے۔ ویسے بھی ہر انسان ہر موضوع پر بات نہیں کرسکتا یہ وہ ہی کرتا ہے جو بس بے تکان بولنے کا عادی ہوتا ہے۔ زیادہ بولنا آپ کی شخصیت کو گہنا دیتا ہے۔

سچ ہی بولو

            ہمارا دین اسلام بھی اس کی بہت ترغیب دیتا ہے اور اسلام کا ہر ہر حکم انسان کے اپنے فائدے کیلئے ہے۔ سچ بولنا آپ کی لوگوں میں عزت بڑھادیگا اور جب لوگ آپ کی عزت کرینگے تو آپ کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ جھوٹ انسان کی شخسیت کو داغدار کردیتا ہے۔ جھوٹے انسان کے دل میں چور ہوتا ہے۔ اور سچا انسان صاف دل کا ہوتا ہے کسی بھی کا ڈر اسکے دل میں نہیں ہوتا۔ اس لئے جب وہ بات کرتا ہے تو اعتماد سے اور پرتاثیر لہجے میں بات کرتا ہے۔

اللہ پر ایمان

              یار آپ اللہ پر اعتماد اور بھروسہ بڑھاؤ اور تعلق مضبوط کرو اللہ سے پھر آپ کے اندر ایک عجیب سا اعتماد اور بے خوفی پیدا ہوجائیگی۔ جو آپ سے وہ بڑے بڑے کام کرالیگی کہ جب آپ بعد میں سوچوگے تو اپنے آپ پر حیرانی ہوگی کہ یہ کام میں نے کئے ہیں؟  

دماغ کو حال میں حاضر رکھیں

            دیکھو دماغ کا حاضر رہنا بہت ضروری اور اہم ہے۔ ہم اپنا ذہن حال میں رہتے ہوئے کہیں اور لیجاتے ہیں۔ سوچوں کا محور خیالی دنیا ہوتی ہے اور اس میں پتہ ہی نہیں چلتا کے دن کہاں گیا کب ٹائم پاس ہوا۔ اس کے برعکس اگر آپ کسی نئی جگہ جاتے ہیں تو آپ کو وہاں بہت کچھ نیا دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جسکی وجہ سے آپ کا دماغ حال میں ہی حاضر رہتا ہے اور اسی وجہ سے آپ کو دن کچھ بڑا اور لنبا محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت آپ کو دن گزرنے کا پتہ چل رہا ہوتا ہے۔

             یعنی اگر آپ دماغ حاضر رکھتے ہیں تو آپ کو ایک ایک پل گزرنے کا احساس ہوتا ہے۔یہ چیز ہمیں اپنے اندر لانے کی ضرورت ہے جو اعتماد کو بڑھاتی ہے اور آج میں فوکس کرکے بہت سے نئے نئے کام کروانے کیلئے اکساتی ہے۔ اگر آپ حاضر نہیں ہیں تو آج میں ہونے والے واقعات سے تجربہ کیسے لینگے اور اپنے آپ کو یا گھر والوں کو بہتر ٹائم کیسے دینگے؟

خود جیسے ہو ویسا مانو

            دیکھو اس بات کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ایک لڑکا ہے جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہے۔ اور اس کو ان پمپلز اور دانوں کا سامنا ہے جو اس موقع پر چہرے پر نکلتے ہیں۔ اب وہ اس سے بہت پریشان ہوجاتا ہے۔ اور سب سے چھپتا پھرتا ہے۔ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ ایک فطری چیز ہے جو وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتی ہے۔

           یہی بات آپ کو سمجھ کر چلنی ہے کہ جیسے آپ ہو اسی میں پراعتماد رہو ۔ زبردستی اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرو یہ آپ کو اور زیادہ پریشان اور اعتماد سے کردیگی۔ بس جیسے آپ ہو اسی میں لوگوں میں گھل مل کر رہو اور جو آپ سے دور جانے کی کوشش کررہا ہے اس کی ٹینشن نہ لو۔

            دیکھو یہاں ایک اہم بات یہ کہ آپ جو تبدیل کرسکتے ہو تو ضرور کرو یا اس کیلئے کوشش کرو ۔ اور جو نہیں کرسکتے اس کو مان لو۔ جیسے آپ کا وزن زیادہ ہے تو اس کو آپ اپنے ایکشن سے کم کرسکتے ہے۔ لیکن اگر آپ کا قد چھوٹا ہے اور آپ عمر کے اس حصے میں آچکے ہو جب قد کا بڑھنا رک جاتا ہے تو اب اس کو مان لو اور فضول ادویات میں اپنا ٹائم،پیسہ اور ذہن برباد نہ کرو۔

اعتدال

             دیکھیں دو طرح کے لوگ ہیں ایک غصہ والے اور دوسرے بہت نرم طبیت۔ اب غصے والے سے لوگ دور رہتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی خراب صورتحال میں چیخنے چلانے لگتے ہیں اور بد اخلاق ہوجاتے ہیں گالیاں دینے لگتے ہیں۔ جبکہ نرم مزاج کا لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی بات کو زیادہ نہیں توجہ دیتے۔ یہ دونوں ٹھیک نہیں  اب آپ کو کیا کرنا ہے؟

            آپ کو اعتدال کی راہ اختیار کرنی ہے یعنی جب آپ کے مزاج کے خلاف صورحال ہو تو ٹھنڈے دماغ سے یا موقع کی مناسبت سے کچھ سختی سے معاملے کو ہیندل کرنا ہے۔ اور جب لوگ آپ کو نرم مزاج اور چپ رہنے والا سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں تو ان کو بھی اعتماد اور پیار سے انکار کردینا ہے۔ اگر اس معاملے میں آپکا کوئی نقصان ہے تو۔ اگر نہیں تو آپ چاہیں تو اپنی خوشی سے سامنے والے کی مدد کرسکتے ہیں۔یہ رویہ آپ کا اعتماد اور لوگوں میں عزت کو بڑھائیگا۔

اپنی ذات کی خوبیاں

اپنی بات سمجھانا

دھوکا کون کھاتے ہیں

ڈر   fear

             یہ بھی ایک چیز ہے جو آپ کو کچھ اچھا اور نیا کرنے سے روکتی ہے۔آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کام میں مجھے فائدہ ہے اور اس سے میں ترقی کرسکتا ہوں۔ لیکن پھر اندر کا ڈر آپ کو وہ کرنے سے روک دیتا ہے کہ ناکام ہوا تو کیا ہوگا لوگ کیا کہینگے۔ پیسوں کا نقصان ہوگا وہ الگ وغیرہ۔ 

             یاد رکھیں کہ جس کام یا عمل سے ڈر لگتا ہے وہ کام کرنے سے ہی وہ ڈر آپ کے اندر سے نکلتا ہے۔ اور بار بار کرنے سے پوری طرح ختم ہوجاتا ہے۔ آپ اگر بائیک چلاتے ہیں تو آپ کو یاد ہوگا کہ سب سے پہلے آپ نے بائیک چلائی تو آپ اتنے پر اعتماد نہیں تھے۔ لیکن پھر دوبارہ چلائی تو آپ کا ڈر کم ہوچکا تھا اور اب آپ بلکل بے خوف اور اعتماد سے بائیک چلاتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس کام سے ڈر لگتا ہے وہی کام کرنے سے انسان کا اعتماد بڑھتا ہے۔

اپنی ذمہ داری اٹھانے کی کوشش کرو

             اگر آپ کسی بھی ٹینشن والی صورتحال سے بھاگنے کی کرتے ہو تو یقین کرلو جیسے آپ آج ہو اگلے پچاس سال میں بھی ایسے ہی رہنے والے ہو۔ مطلب یہ کہ کوئی بھی صورتحال ہو آپ کی اپنی وجہ سے یا کسی اور کی وجہ سے اس پر توجہ دیکر اپنے دماغ اور لوگوں کے مشورے سے حل کرنے کی کوشش کرو۔ یہ آپ کو ہر صورتحال سے نمٹنے کا حوصلہ دیگی اور کسی بھی صورتحال میں آپ نارمل رہوگے۔ کیونکہ ایسی  صورتحال کا سامنا کرکرکے آپ نے اپنے آپ کو مضبوط کرلیا ہوتا ہے۔

عام طور پر کون دھوکا کھاتے ہیں dhoka kon khate hen

عام طور پر کون دھوکا کھاتے ہیں dhoka kon khate hen

             آپ نے کبھی دھوکا کھایا ہے؟ اکثر کا جواب ہاں میں ہوگا۔بلکہ کچھ لوگ تو بار بار بھی دھوکا کھاجاتے ہیں۔ اب ایسا کیوں ہوتا ہے اس مضمون میں جان لیتے ہیں۔ کچھ میجر وجوہات ہیں دھوکا کھانے کی اگر آپ ان کو سمجھ جائیں تو  آپ کے دھوکا کھانے کے چانس بہت ہی کم یا ختم ہوجاتے ہیں۔

آپ سادہ ہیں

             یہاں مراد آپ کے کم معاملہ فہم ہونے کی ہے۔ دیکھیں آپ اگر سادہ زندگی گزارتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اگر آپ معاملہ سمجھنے میں سادہ ہیں تو اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کسی پر فوراََ بھروسہ کرلیتے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں اور اگر آپ بلکل بھی کسی پر بھروسہ نہیں کرتے تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔ ان دونوں کے درمیان اعتدال رکھنے کا نام سمجھداری ہے۔ یعنی آپ پہلے معاملہ سنتے ہیں دیکھتے ہیں پھر اپنے دماغ میں تجزیہ کرتے ہیں یا مشورہ کرتے ہیں پھر اس کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔

لالچ

             دھوکا کھانے کی ایک بڑی وجہ لالچ بھی ہے۔ اب یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ لوگ یا کمپنیز کیسے لوگوں کو سبز باغ دکھاکر پیسہ بٹورتی ہیں پھر نظر بھی نہیں آتیں۔ ماضی میں اسکی کئی مثال ہیں جن میں ایک ڈبل شاہ کی ہے جس نے لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ 

             اب جیسے ایک ٹائم میں جعلی مسجز کے ذریعے لوگوں نے بڑے فراڈ کئے کے آپ کا یہ انعام نکلا ہے یا اتنے پیسے آپ کو بینظیر انکم سپورٹ سے نکلے ہیں۔ اب انکو آپ تک پہنچانے کیلئے کچھ فیس لگے گی۔ اب لوگ بنا سوچے سمجھے پیسے ایزی پیسہ کردیتے تھے۔ جو لالچ کی وجہ سے تھا۔ دھوکا دینے والے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

لوگوں سے کام نکالنا

اللہ کس کو زیادہ دیتا ہے

انسان زمینی مخلوق؟

 شاطر لوگ

            اب یہ لوگ دھیرے دھیرے آپ کا بھروسہ جیتتے ہیں۔ مثلاََ پہلے آپ کے ساتھ تعلق بنائینگے پھر دوستی پھر آپ کو چائے بھی پلائینگے۔  اور کبھی کسی کو ایک روپیہ نہ دینے والے آپ کے سامنے سو پچاس روپیہ دیدینگے۔ تاکہ آپ کا بھروسہ جیت جائیں پھر ایک دن آپ کو کوئی کاروبار یا انویسٹ منٹ پلان بتائینگے اور سبز باغ دکھائینگے۔ اب آپ پہلے ہی اس پر بھروسہ کرنے لگ گئے ہیں تو ان کے پلان پر جس میں پیسہ بھی نظر آرہا ہے تو آمادہ ہوجائینگے پھر آپ کو اپنا پیسا اور وہ آدمی دونوں کہیں نظر نہیں آتے۔

اپنے بارے میں جانیں

             یہ سب سے اہم وجہ جانی جاتی ہے۔ یعنی آپ اپنے بارے میں جاننے کیلئے دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ جیسے آپ کوئی کام کرسکتے ہیں لیکن کوئی آپ سے آکر کہہ دے کے آپ سے یہ کام نہیں ہوگا۔ تو آپ کا اعتماد ایک دم کم ہوجائیگا اور آپ سوچنا شروع کردینگے کہ شاید یہ شخص ٹھیک کہہ رہا ہے۔

             اسی طرح آپ طاقتور ہیں لیکن کوئی آپ سے کہے کہ آپ اتنا وزن نہیں اٹھاسکتے تو آپ اگر اس کی بات پر یقین کرلیتے ہیں تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ اپنے بارے میں کم جانتے ہیں۔ اور ضرورت ہے اس بات کی کہ آپ لوگوں کی باتوں کی بجائے اپنے آپ پر یقین رکھیں۔اور اپنے بارے میں جانیں اور کسی جگہ بیٹھ کر کبھی کبھار اپنے بارے میں اور لوگوں کی باتوں میں تجزیہ کرلیا کریں۔