History of youtube

History of youtube

             دوستو آپ اگر نیٹ استعمال کرتے ہیں تو آپ یوٹیوب سے ضرور واقف ہونگے بلکہ استعمال بھی کیا ہوگا لیکن کیا آپ کو اس کے پیچھے کی دلچسپ کہانی معلوم ہے؟ چلیں دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کیسے شروع ہوا اور کون اس کے اونر ہیں۔ History of youtube ایک بہت اچھا معلوماتی مضمون ہے۔

             آج یوٹیوب ایک بہت بڑا اور دنیا میں دوسرے نمبر پر آنے والا سرچ انجن ہے جس نے یاہو جیسے بڑے بڑے سرچ انجن کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔  دوستو بارہ سال ہوگئے ہیں اب تک یوٹیوب کو بنے ہوئے۔ paypal جو ایک نیٹ پر موجود پیسے ٹرانسفر کرنے اور recieve کرنے کی کمپنی ہے۔ اس کے تین ملازم ایک رات کو جمع تھے جن کے نام   chad hurley, steve chen, اور  jawed krim  ان لوگوں  نے سوچا کے ایک پلیٹ فارم ہونا چاہئے جہاں لوگ اپنی وڈیوز کو لوگوں کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ 

             اور اس کے بعد پھر انہوں نے ایک ڈومین نیم جو  youtube.com تھا رجسٹر کروایا اور ایک ویب سائٹ بنا ڈالی۔  پھر اس کے بعد بہت لوگ اس میں وڈیوز اپلوڈ کرنے لگے تو ایک مسٔلہ سامنے آیا کے لوگ کسی کا بھی کنٹینٹ  content اٹھاکر اپلوڈ کردیتے تھے تو لوگوں کی شکایات آنے لگیں۔ پھر یہ کے اتنے بڑے setup کو مینج کرنا بہت مشکل ہوتا جارہا تھا تو ان تینوں نے یہ سائٹ گوگل کو سیل کردی۔

             اب گوگل نے اس کو اپنے طریقے سے مینج کرنا شروع کیا تو اس کو گویا پر لگ گئے گوگل اس کو اس جگہ لےگیا جہاں شاید وہ تینوں دوست نہ لیجا سکتے تھے۔ اور آج یوٹیوب آپ کے سامنے ہے۔تو اس کی کامیابی کی وجہ ایک مسٔلے کا حل نکالنا ہوا۔ آج بھی بڑے ٹاپ کے کاروباری ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ اگر آپ مارکیٹ میں آسانی سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ایسی پروڈکٹ مارکیٹ میں لائیں۔ جو لوگوں کی کسی بھی مسٔلے کو حل کرتی ہو اس سے بغیر کسی اشتہار بازی کے لوگوں میں آپ کی پروڈکٹ کامیابی حاصل کرلیگی۔

             

خطرناک سیا حتی مقامات

خطرناک سیا حتی مقامات

            کیسے ہو دوستو  ۔۔۔۔۔ دوستو دنیا میں سیر و تفریح کے ہزاروں مقامات ہیں ۔ جہاں آپ گئے ہونگے یا جانے کا ارادہ ہوگا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں جانے کیلئے ہمت اور دل چاہئے۔ یہاں انسان خود اپنی مرضی سے جاتا ہے کیونکہ یہ مقامات خود سے دعوت دیں ایسے نہیں ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں جان لیتے ہیں۔

وولکینو سفرنگ اسپورٹ   volcano suffring sport

            اصل میں جیسا ہیڈنگ میں بتایا ہے وولکینو یعنی لاوا لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ یعنی لاوے میں سفرنگ نہیں ہوتی بلکہ لاوے سے بھرے پہاڑ سے ایک میٹل کے بورڈ پر پینتالیس ٖڈگری پر پھسلا جاتا ہے۔ جس کی رفتار  چھیاسی کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔یہ دنیا کے چند علاقوں میں ہی کھیلا جاتا ہے۔اس میں سب سے زیادہ مشہور پہاڑ امریکہ میں ہے۔  اور یہ آخری دفعہ بیس سال پہلے پھٹا تھا لیکن اب خاموش ہے اور لوگوں نے اس جگہ کو تفریح کا ذریعہ بنالیا ہے۔

            اس کی انہی خصوصیات کی بنا پر کوئی کمزور دل شخص یہ اسپورٹ نہیں کھیل سکتا کیونکہ کمال مہارت کے ساتھ حواس کا موقعہ پر بحال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ نہیں تو جان بھی جاسکتی ہے۔ پھر یہ لاوے کے پہاڑ پر ہے جہاں لاوے والی مٹی آپ کی جلد پر الرجی بھی پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن ابھی تک خوش قسمتی سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ 

بہار میں تفریح کی جگہیں

دہلی کی دس جگہیں

نیو کلئیر بم

خوفناک پل چائنا میں

            چائنا کے ایک صوبے ہونان میں یہ پل موجود ہے۔ یہ ایک عام پل نہیں بلکہ گلاس کی زمین رکھنے والا پل ہے۔  پہلے یہ لکڑی کا تھا لیکن پھر چائنا نے ایک اسرائیلی کمپنی کی مدد سے اس کو گلاس پل میں تبدیل کردیا جب سے یہ ٹورسٹس کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگر آپ اس پر کھڑے ہوکر نیچے دیکھیں تو آپ کو اپنے گرنے کا احساس ہوگا جو بڑے سے بڑے دل والے کو بھی حواس باختہ کرسکتا ہے۔

            اس پل کو گلاس کی مضبوط قسم سے کافی لئیرز میں بنایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ہتھوڑے کے زوردار وار کو اور ٹنوں وزن بھی برداشت کرلیتا ہے۔ لہٰذا کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔یہ چار ہزار سات سو فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ جسے 2016 ؁ کو عام عوام کیلئے کھولدیا گیا تھا۔اگر آپ کو اونچائی سے خوف آتا ہے تو پھر یہ آپ کیلئے نہیں ہے۔

فیوریئس بیکو  Furius baco

            یہ اسپین میں موجود ہے اور ایک رولر کوسٹر ہے۔ یہ انتہائی تیز رفتاری سے اونچائی سے ٹنل سے اور درختوں کے درمیان سے گزرتی ہے تو اچھے اچھے لوگ بھی چیخنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کی خاص بات اس کی سیٹس کا ایک دوسرے سے الگ الگ ہونا بھی ہے۔ جو ہوا میں آپ کو ایک الگ تنہا ہی محسوس کراتی ہیں۔ جو زیادہ سنسنی خیز ہے۔ 

زپ ورلڈ ویلوسٹی   Zip World Velocity

             یہ برطانیہ کے شہر ویلز میں موجود ہے۔یہ اصل میں آپ کو قدرتی پہاڑ سے ایک مضبوط رسی کی مدد سے نیچے کی طرف چھوڑتے ہیں۔ یہ سفر ایک منٹ کا ہوتا ہے لیکن اس ایک منٹ میں آپ ہوا میں اڑنے کے مزے لیسکتے ہیں۔  جو تقریبا ڈیڑھ کلو میٹر لمبا ہوتا ہے۔ یہ اتنی تیزی سے آپ کو لیکر جاتا ہے کہ ڈیڑھ کلو میٹر کا سفر محض ایک منٹ میں طے کرادیگا۔ یہ بھی ایک فل ایڈونچر تفریح ہے۔ 

نیو کلیئر بمز

نیو کلیئر بمز

        قارئین سائنس  کی ہر شعبے میں ترقی نے زندگی کو آسان اور محفوظ بنادیا ہے وہیں کہیں کہیں غیر محفوظ بھی بنادیا ہے۔ جیسے ایک شعبہ ہے ڈیفنس اب سننے میں یہ ڈیفنس ہے لیکن اس ڈیفنس کی وجہ سے وہ وہ اسلحے اور بمز آگئے ہیں کہ لگتا ہے یہ سب دنیا کے ساتھ مذاق ہورہا ہے ڈیفنس کے نام پر۔

             انسان کتنا بھی مہذب ہوجائے اس میں دنیا کے خزانے اور وسائل حاصل کرنے کی ہوس ختم نہیں ہوتی اور یہ چیز اس کو خود غرض بناتی ہے۔ اس وجہ سےیہ اپنی حدیں محفوظ بنانے پر مجبور ہے۔ اسی کا نتیجہ آج نیو کلیئر بمز کی صورت میں نکلا ہےجو فائدے مند کتنے اور نقصان دہ کتنے ہیں یہ آپ سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔آج حالت یہ ہے کہ جو بم انسان نے اپنی حفاظت کیلئے بنائے تھے سب سے بڑا خطرہ وہی ہیں انسان کے وجود کیلئے۔

کل بمز دنیا میں

bomb image
bomb image

             آج دنیا میں اتنے بمز ہیں کہ دس سے زیادہ دفعہ یہ دنیا کو تباہ کرسکتے ہیں۔ ان کو اب تک جنگ میں دو دفعہ استعمال کیا جاچکا ہے۔ لیکن ہم اس پر بات کرینگے کہ آخر اس کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ اور اسکا مستقبل کیا ہے۔ اس کی شروعات 1939؁ ؁  سے ہوئی تھی۔ جب اس وقت کی دو سپر پاور امریکہ اور روس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے بمز بنانے کی ریس شروع ہوئی۔  

کیونکہ ان کو اپنی دفاعی برتری دنیا کو دکھانی تھی۔اب ان دونوں میں سے پہلے یہ بم امریکہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ اور اس نے جنگ عظیم دوم میں اس کو جاپان پر گرایا اور بے پناہ تباہی مچائی لاکھوں لوگ منٹوں میں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ لیکن جو اس وقت جاپان پر بمز گرائے گئے وہ یقینا بہت طاقتور تھے لیکن آج کا ایٹم بم ان بمز سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہے۔ 

انسان زمینی مخلوق؟

کرائے کے قاتل

oppo F9

           اس کے بعد سوویت یونین نے ایک بم ٹیسٹ کیا جو ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم سے تین ہزار گناہ زیادہ طاقتور تھا۔ یعنی وہ پچپن کلو میٹر کے علاقے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے قابل تھا۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی آج کے دور میں جو بمز ان طاقتوں کے پاس ہیں وہ کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔

             اس کی ایک جدید شکل جو ان ایٹم بمز سے زیادہ خطرناک ہے وہ ہائیڈروجن بمز ہیں۔ جو انرجی کی وہ قسم خارج کرتے ہیں جو سورج کی تہہ میں پیدا ہوتی ہے۔ ان کو اگر کہیں گرایا جائے تو لگ بھگ تیس چالیس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ افراد کو موت کی نیند سلانے کیلئے کافی ہے۔ اور سائیڈ افیکٹس الگ ہونگے جو کینسر اوردوسری خطرناک بیماریاں پیدا کرینگے اس کے علاوہ جو اس بم سے زخمی ہوئے تو ان کی پیدا ہونے والی اولاد معذور ہوگی۔

             بظاہر سائنس کی ترقی انسان کیلئے آسانیاں پیدا کرتی ہے اور یہی اسکا مقصد بھی ہے۔ لیکن جانے انجانے میں اس کو غلط استعمال کرکے انسان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا گیا ہے اور اس کے اصل ذمہ دار سپر طاقتیں ہیں جو اپنی پاور کے بڑھانے کے جنون میں پاگل ہوئی جارہی ہیں۔

   امید ہے یہ مضمون آپ کو اچھا لگا ہوا اگر کوئی رائے دینی ہے تو نیچے کمنٹ کریں اور نوٹیفکیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ای میل  کو ایڈ کرکے فالو کریں۔

اہرام مصر

اہرام مصر

         دوستو اہرام مصر انسانی تاریخ کا سات ہزار سالہ پرانا مومعمہ ہے جو سلجھ نہیں سکا ہے۔ آج بھی اسکو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ناکامی ہی مقدر بنی رہتی ہے۔ اس کو کس نےاور کیوں تعمیر کیا اسکا بھی کوئی نپا تلا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ اس کو فرعونوں کی ممی محفوظ کرنے کیلئے تعمیر کئے گئے ہیں۔ اندر سے ملنے والی ممیاں بھی اس کی دلیل دیتی نظر آتی ہیں لیکن شاید یہ پورا سچ نہیں ہے۔اس کے پیچھے اور بھی بہت سے راز ہیں جو معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔

         آج کے ترقی یافتہ دور میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی اپنے عروج پر دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی دنیا میں ایک بھی ایسی تعمیراتی کمپنی نہیں جو اہرام بنا سکے۔ جی یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ دور میں بننے والے اہرام کا مقابلہ کرنے کیلئے آج کے زمانے کی کوئی کمپنی نہیں ہے۔ اس کی تعمیر کس طرح ہوئی اس پر بات کرلیتے ہیں تاکہ آپ کو بھی اندازہ ہو کے یہ کیا عجوبہ ہیں۔

پروپیگنڈا کی تاریخ

اہرام مصر کی تعمیر

         دوستو سب سے بڑے اہرام کی بات کی جائے تو اس میں سو سو وزنی پتھر اس مہارت اور ترتیب سے رکھے گئے ہیں کہ ان میں جوڑ تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ اس کی بلندی 485 فٹ بتائی جاتی ہے اور اسکا رقبہ تقریبا ۱۳ ایکڑ ہے۔ اور وزن کی بات کی جائے تو یہ 65 لاکھ ٹن بیان کیا جاتا ہے۔ سائنس اس بات کو لیکر حیران ہے کہ یہ پتھر بغیر کسی مشینری کے کس طرح کاٹے گئے اور کتنے لوگوں نے یہ کام کیا تھا۔ 

         یہ جس جگہ تعمیر ہیں وہاں پتھر لانا بھی ایک مسٔلہ تھا وہ کیسے حل کیا گیا ہوگا؟  اور یہ پتھر اگر دس کی تعداد سے روز لگائے جائیں تو بھی ان کی تعمیر 680 سالوں میں مکمل ہوتی ہے۔  پھر یہ کہ اگر کوئی بھی چیز مثلث کی شکل میں آئیگی اس پر ہوا میں موجود مقناطیسی لہریں مرکوز ہوجائینگی جس کی وجہ سے ان میں کوئی بھی چیز گلنے سڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔ اور لگتا یہی ہے کہ فرعونوں کی لاشوں کو بوسیدگی سے بچانے کیلئے ایسا کیا گیا لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ ان کو اس بات کا علم تھا جدید آلات کے نہ ہوتے ہوئے بھی۔ 

         اہرام مصر کی تعداد 120 سے 140 تک ہوسکتی ہے۔دوستو کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اہرام کے انسانی ہاتھوں کی تعمیر کا قائل ہی نہیں ہے۔ اس طبقے کے مطابق ان کو شیاطین نے تعمیر کیا ہے۔دوستو ان اہرام کا گہرا تعلق ایلومیناتی تنظیم سے بتایا جاتا ہے جو اپنے آپ میں ایک پراسرار تنظیم ہے جس کو ایک الگ مضمون میں بتانے کی کوشش کرونگا۔

3g,4g,5g کیا ہے؟

3g,4g,5g کیا ہے؟

         قارئین  آپ نے موبائل استعمال کئے ہیں اور آپ نے انٹرنیٹ بھی استعمال کیا ہے۔ تو یہ نام آپ نے سنے ہونگے 4g,3g وغیرہ تو ان کے بارے میں معلومات کرلیتے ہیں کہ آیا یہ کیا بلا ہیں؟  یہ نیٹ ورک کی اسپیڈ کی الگ الگ قسمیں ہیں الگ الگ ٹیکنالوجی ہیں۔اور ایک کے بعد ایک ٹیکنالوجی آتی جارہی ہے۔ہم بات کرتے ہیں کہ پہلے کیا ٹیکنالوجی تھی اب کیا ہے اور اب آگے کیسے بڑھ رہی ہے۔ 

         تو دوستو جب 1G ٹیکنالوجی آئی تھی  تو وہ 1980 میں آئی تھی جو ڈیجیٹل سگنل والی نہیں تھی۔اور اس سے صرف آپ فون پر باتیں ہی کرسکتے تھے میسج بھی کرنے کی پوزیشن میں آپ نہیں تھے۔نیٹ چلانا تو بہت دور کی بات ہے۔ پھر قریبا دس سال بعد 2G ٹیکنالوجی آئی اب اس میں ایکسٹرا یہ تھا کہ آپ میسج بھیج سکتے تھے۔ لیکن اس دوران نیٹ بھی آگیا تھا لیکن نہ ہونے والی اسپیڈ کے ساتھ جو آپ کے صبر کا امتحان لے شاید 64kb اسپیڈ ہوتی تھی۔

         اس کے بعد جب  3G آیا تو تھوڑا سا انقلاب آیا کیونکہ اس کے آنے سے وڈیو کالنگ کا آپشن استعمال میں آیا۔ اور لائیو اسٹریمنگ کی سہولت متعارف ہوئی۔ اور دیکھا جائے تو یوٹیوب بھی اس کے آنے کے بعد زیادہ مقبول ہوا کیونکہ اب بغیر کسی بفرنگ کے آپ ہائی کوالٹی میں وڈیو دیکھ سکتے تھے۔ پھر اب 4G ہے اس میں یہ ہی سب کام آپ HD میں کرسکتے ہیں۔ آنلائن موویز دیکھنا ہو یا وڈیو کال کرنی ہے وغیرہ اس نے آپ کو ایک بہت اچھی اسپیڈ فراہم کردی ہے۔

کونسا نیٹ استعمال کریں؟

         اب یہاں ایک اہم سوال آتا ہے کہ ایک عام آدمی کونسا نیٹ استعمال کرے کہ اسکا ٹائم بھی زیادہ نہ لگے اور رقم بھی کم لگے ۔ تو اگر آپ کا استعمال صرف یوٹیوب تک ہے تو آپ 3G ہی استعمال کریں دیکھیں اگر آپ 4G LTE استعمال کرتے ہیں تو اس میں جب یوٹیوب چلاتے ہیں تو وہ فورا لوڈ ہوجاتی ہے۔ اور 3G میں آپ وڈیو دیکھتے جاتے ہیں اور آگے وہ تھوڑی تھوڑی لوڈ ہوتی رہتی ہے۔ اب اسکا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی MB کم استعمال ہوتی ہے۔

         مثلا اگر آپ کوئی وڈیو آدھی یا تھوڑی سی دیکھ کر چھوڑدیتے ہیں تو آپ کی MB کا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ وہ لوڈ ہی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن 4G میں وہ وڈیو شروع میں ہی پوری لوڈ ہوچکی ہوتی ہے تو اگر آپ وڈیو اسکپ کرتے ہیں تو جو MB پہلے سے لوڈ ہوگئی ہے وہ ضائع جاتی ہے۔ اس لئے اگر آپ کا کام کوئی ہائی لیول کا پروفیشنل نہیں ہے تو آپ 3G ہی استعمال کریں۔

5G ٹیکنالوجی

         دوستو انسان کی ضرورتیں بڑھتی رہتی ہیں وہ ایک چیز پر خوش نہیں رہتا اور نہ اکتفا کرتا ہے۔ اب یہاں بھی دیکھیں کہ 4GLTE ایک بہت اچھا اور تیز نیٹ ہے لیکن یہاں بھی اب کچھ چیزیں ایسی آگئی ہیں جو یہ ٹیکنالوجی بھی پورا نہیں کرپارہی ہے۔ اور اب 5G  ٹیکنالوجی لائے جانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اس کی اسپیڈ 4G کے مقابلے میں کافی تیز ہے جو شروع ہی 28 GHz سے ہوتی ہے۔ 

         اب اسکا فائدہ اور نقصان کیا ہے وہ دیکھ لیتے ہیں دوستو جب ہم فریکوئینسی کو بڑھاتے ہیں تو ایک فائدہ ملتا ہے کہ ہم اپنا کام جلد کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ چاہے وڈیو ڈاؤنلوڈ کرنا ہو یا سرفنگ وغیرہ یا فائل بھیجنی ہو تو یہ کام ہم فٹافٹ سے کرسکتے ہیں۔  اب اسکا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسکی رینج کم ہوجاتی ہے کیونکہ جب فریکوئینسی بڑھتی ہے تو رینج پر فرق پڑتا ہے۔ اس سے سگنل پرابلم بہت ہونے کا امکان ہے کیونکہ اگر بارش بھی ہوگئی تو اس کی اسپیڈ اور سگنل میں فرق آنے کا خطرہ ہے۔

        لیکن ہر چیز کا حل نکالا جاسکتا ہے تو کمپنیز نے اس کے بارے میں بھی ضرور کچھ سوچ کر رکھا ہوگا۔ اسلئے یہ ان کا درد سر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں کیا ٹاور کی تعداد بڑھاتے ہیں یا اب تک صرف چھت پر ٹاور نظر آتے تھے تو کیا اب بلڈنگ کے اندر بھی چھوٹے ٹاور نظر آئینگے؟ ایسا کچھ سامنے آتا ہے یا نہیں اس کے لئے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔

VPN کیا ہے

VPN کیا ہے

             قارئین VPN کیا ہے ؟ اور کیسے کام کرتا ہے؟ اور اسکو آپ اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل کیسے استعمال کرکے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ان سب پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں۔   سب سے پہلے اسکا مطلب جان لیتے ہیں جو بنتا ہے virtual private neywork اب یہ کیا ہوتا ہے اس پر بات کرلیتے ہیں۔  جیسے آپ کے پاس ایک موبائل ہے ایک لیپ ٹاپ ہے اور ایک کمپیوٹر ہے۔ اب اگر آپ ایک موبائل سے  لیپ ٹاپ پر یا کمپیوٹر پر کوئی ڈیٹا بھیجتے ہیں تو یہ آپ کا ایک  internal network کہلائیگا۔  اسی طرح اگر آپ ایک ویب سائٹ پر جاتے ہیں اور اسے کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کہاں سے کھلے گی؟  وہ کہیں نہ کہیں محفوظ ہے۔

اب یہ چاہے امریکہ میں لگے سرور پر محفوظ ہو یا پاکستان میں یا پھر کسی اور ملک میں لیکن یہ محفوظ ضرور ہے۔ پھر اسی جگہ سے آپ کوئی خاص سائٹ یا وڈیو دیکھ پاتے ہیں۔ جسکا طریقہ کار یہ ہے کہ جب آپ کوئی ایڈریس ٹائپ کرتے ہیں تو پہلے اس کی ریکویسٹ اس  سرور پر جاتی ہے پھر وہاں سے آپ کی ریکویسٹ پر عمل ہوتا ہے تو آپ وہ چیز دیکھ پاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ہر وڈیو یا سائٹ یا کوئی اور کو ایک خاص ایڈریس پہلے سے دیا گیا ہوتا ہے جو اس تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

ان سب کا کچھ نقصان بھی ہے جیسے آپ جب بھی کسی سائٹ پر جاتے ہیں تو اسکا ریکارڈ بھی کہیں محفوظ ہوتا ہے۔ آپ کی انفارمیشن یا آپ کا کریڈٹ کارڈ نمبر وغیرہ۔ جیسے آپ کسی کا فری  وائی فائی استعمال کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کا ریکارڈ ہیک کرلے ۔ تو ان چیزوں میں کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ نیٹ سے کنیکٹ ہوگئے تو آپ چھپے ہوئے یا آپ کی معلومات چھپی ہوئی نہیں رہتیں۔

VPN کا استعمال

دوستو کسی خاص جگہ پر یا ملک میں کچھ خاص انفارمیشن ہوتی ہیں جو صرف ان ممالک میں ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ یا جیسے آپ نے کوئی سائٹ بنائی یا وڈیو بنائی ۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ یہ صرف پاکستان میں ہی دیکھی جائے تو آپ ایک مخصوص سیٹنگ  سے سرور کو پابند کردینگے کہ اس کو صرف پاکستان میں دکھایا جائے۔ اب یہاں VPN کا استعمال کیا جاتا ہے یہ آپ کی پہچان چھپادیتا ہے یا ایسا کردیتا ہے کہ سرور کو لگتا ہے کہ یہ ریکویسٹ پاکستان سے ہی آئی ہے ۔ کسی باہر کو ملک سے نہیں آئی تو وہ اس جگہ تک رسائی دیدیتا ہے۔

ہیش ٹیگ کیا ہے؟

ہیش ٹیگ کیا ہے؟

              ہیش ٹیگ کیا ہے؟  قارئین آپ نے نیٹ پر سوشل میڈیا تو استعمال کیا ہی ہوگا۔ اس میں ایک  چیز آپ کی نظر سے گزری ہوگی کے  hash tag happy,hash tag sad  اور بہت سے ہیش ٹیگ اس کے علاوہ ۔ ہیش ٹیگ[#] یہ نشان ہوتا ہے۔ اب اس کو الفاظ کے ساتھ کیوں لگایا جاتا ہے اس کا کیا مطلب نکلتا ہے اس پر بات کرلیتے ہیں۔ یہ صرف فیس بک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس کو آپ انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک نشان ہے اب اس نشان یا سمبل کو آپ کسی بھی نام سے پہلے استعمال کرسکتے ہیں۔جب اس سمبل کے ساتھ کوئی نام جوڑتے ہیں تو یہ ہیش ٹیگ بن جاتا ہے۔

اب اس کا استعمال دیکھتے ہیں کہ کیسے ہوتا ہے۔ قارئین فرض کریں کی ورلڈ کپ کے میچز ہورہے ہیں اب کوئی بھی شخص کسی بھی سوشل میڈیا پر ورلڈ کپ کے حوالے سے پوسٹ کریگا تو وہ ورلڈ کپ ہیش ٹیگ کا استعمال کریگا۔ اب اگر میں ورلڈ کپ کی پوسٹ دیکھ رہا ہوں اور مزید بھی دیکھنا چاہتا ہوں تو میں اس پوسٹ کے ساتھ لگے اس ہیش ٹیگ پر کلک کردونگا۔ اب اس سے ہوگا یہ کہ جس کسی نے بھی اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کوئی پوسٹ کی ہوگی وہ سب ایک ساتھ میرے سامنے کھل جائینگی۔ مجھے ادھر ادھر بھاگنا اور مزید پوسٹ کھوجنا نہیں پڑیگا۔

یہ ایک بہت طاقتور ٹول مانا جاتا ہے اپنی بات کہنے میں یا کسی اہم مسٔلے پر اپنی رائے دینے میں یا کسی برانڈ کی مشہوری کے سلسلے میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔اس سے آپ کی بات بہت جلد زیادہ لوگوں تک پہنچ جائیگی۔  اب آپ چاہتے ہیں کہ لوگ کسی مخصوص شخصیت یا مخصوص برانڈ کو لیکر کیا سوچ رہے ہیں یا کیا رائے دیرہے ہیں تو بس آپ اس نام کے ہیش ٹیگ کو تلاش کریں اور کلک کردیں تو آپ بہت کم وقت میں اچھی معلومات تک پہنچ جائینگے۔

              اب اسکا استعمال تو معلوم ہوگیا اب اس کو کہاں استعمال نہیں کرنا ہے وہ دیکھ لیتے ہیں۔  دیکھئے آپ دن میں اگر زیادہ فیس بک استعمال کرتے ہیں اور کافی پوسٹ کرتے ہیں تو آپ اس میں سے صرف اس ٹاپک پر ہیش ٹیگ  لگائیے جس پر آپ کچھ خاص رائے لوگوں سے جاننا چاہ رہے ہیں۔ اگر آپ ہر پوسٹ پر عجیب عجیب ہیش ٹیگ لگاکر پوسٹ کیئے جارہے ہیں تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا اس لیئے یہ صرف اہم موضوع پر استعمال کیجئے۔ اس کو کمپنیز فیڈ بیک کیلئے بھی استعمال کرتی ہیں یعنی اگر کمپنی کوئی موبائل لانچ کرتی ہے تو اسکا ایک ہیش ٹیگ بنالیتی ہے۔ پھر جب اس ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگ کمنٹ کرتے ہیں تو وہ سب کمپنی تک آسانی سے پہنچ جاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ریم کے بارے میں جانئے