ماں بچے کو بہتر کیسے بنائے؟

ماں بچے کو بہتر کیسے بنائے؟

            ایک مثال ہے کہ سخی ماں کا بچہ سخی ہوتا ہے۔ بچہ کتابیں پڑھ کر سخی یا اچھا نہیں ہوتا ماں کی تربیت اسے اچھا یا برا بناتی ہے۔ بچہ جتنا ماں سے سیکھتا ہے کسی اور سے نہیں سیکھتا وہ دیکھتا ہے کہ ماں سخی ہے تو اس کے اندر بھی یہی جذبہ پیدا ہوگا۔  یاد رکھیں بچے کو پیسے کی اہمیت بندے کی اہمیت سے زیادہ نہ سکھائیں۔

            مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جس بچے کو پیسہ ہی کمانا سکھایا گیا ہے اور رشتوں کی اہمیت نہیں بتائی گئی۔ انسانی قدریں نہیں سکھائیں یا ان کو دوسرے نمبر پر رکھ کر سکھایا گیا ہے۔ وہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ بچہ ماں یا باپ کی دوائی بھی گھر نہیں لاتا کہ پیسے بچانے ہیں اسے یا پیسے کی زیادہ اہمیت اس کو والدین کیلئے دوائی خریدنے سے روک دیتی ہے۔ کیونکہ اس نے یہی سیکھا ہے باپ کا کفن دفن کے وقت بھی بچوں کو ادھر ادھر ہوتے دیکھا گیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے لیکن اس میں زیادہ تربیت ہی کا ہاتھ ہے۔

             یاد رکھیں کہ جو اچھی عادتیں آپ بچے میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ آپ کو خود اپنانا ہونگی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچہ لوگوں کی مدد کرنے والا ہو تو اس کے سامنے اور اس کے ہاتھ سے صدقہ دینے کی عادت ڈالیں۔ اگر اسکا حوصلہ بڑھانا چاہتے ہیں تو اس سے اس کی عمر کے حساب سے بڑے کام کروائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ جو بانٹوگے وہ بڑھاؤنگا تو اس چیز پر ایمان رکھنا ہے۔ بچے کا بھی اسی پر ایمان بڑھانا ہے۔  

ترقی کا راز

انڈیا بہار میں تفریح کی جگہیں 

پہلا رویہ

           مثال کے طور پر ایک درخت لگا ہے۔اب اس کی چھاؤں میں ایک شخص آکر بیٹھتا ہے اور اسکا پھل کھاتا ہے۔ اس کے نیچے آرام کرتا ہے پھر اٹھ کر چل دیتا ہےاور مڑ کر بھی نہیں دیکھتا کہ کوئی درخت تھا پھل تھا یا کیا تھا۔ یہ رویہ آپ کو عام ملیگا معاشرے میں۔یعنی لوگوں سے اپنا پورا فائدہ اٹھاؤ اور ان کو بعد میں پوچھو بھی نہیں کہ اس نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔

دوسرا رویہ

            یہاں ایک بندہ آتا ہے اور چھاؤں اور پھل لیتا ہے پھر اس کے بعد اسی درخت کو کاتنا شروع کردینا ہے۔ یہ بھی ایک عام رویہ ہے معاشرے کا۔ یعنی جس سے فائدہ لو بعد میں اسی کی جڑیں کاٹو۔

تیسرا رویہ

            تیسرے رویہ والے پھر بھی کچھ بہتر ہیں یہ درخت سے فائدہ اٹھاتے ہیں پھر دوسروں کو بھی بتاتے ہیں کہ کتنا اچھا درخت ہے۔ کتنا فائدہ دیتا ہے۔

چوتھا رویہ

             یہ رویہ ان سب سے بہتر رویہ ہے۔ اس میں شخص آتا ہے پھر اس سے فائدہ لینے یعنی پھل کھانے اور چھاؤں لینے کے بعد سوچتا ہے کہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔ تاکہ میری طرح اور لوگ بھی اسکا فائدہ اٹھاسکیں ۔ آپ اپنے بچوں کو ایسا بنائیں کے وہ یہ والی سوچ اپنائیں۔ تاکہ بعد میں وہ آپ کے اپنے لئے اور معاشرے کیلئے بھی ایک کارآمد شہری بن سکے۔