کروز میزائل بمقابلہ بیلیسٹک میزائل

کروز میزائل بمقابلہ بیلیسٹک میزائل

         دوستو آپ کو معلوم ہی ہے کہ آج کل میزائل کی دوڑ میں ملک کیسے جنونی اور پاگل ہوئے ہیں۔ ہر ملک یہی چاہتا ہے کہ اسکا میزائل سب سے تیز اور جدید ہو۔ اس کے لئے یہ ممالک نت نئے تجربے کرتے رہتے ہیں اس میں آپ نے دو طرح کے میزائل کا نام سنا ہوگا۔ ایک کروز میزائل اور دوسرا بیلیسٹک میزائل اب ان میں کیا فرق ہے وہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہوسکے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اس وقت کون سے میزائل کس تعداد اور رینج میں موجود ہیں۔

         ہم بات کرتے ہیں اگر پاکستان کی آرمی کی تو اسکا شمار دنیا کی بہترین آرمی میں ہوتا ہے۔ ماشااللہ۔ اور ہمارے جو میزائل ہیں وہ بھی بہترین ٹیکنالوجی کے حامل مانے جاتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں کے ان دونوں میزائل میں کیا فرق ہے اور ان کا آرمی کے پاس ہونا آج کے دور میں کیوں ضروری ہے۔ اگر بات کی جائے بیلیسٹک میزائل کی تو اس کی ٹیکنالوجی کروز کے مقابلے میں سادہ ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اگر اس کو ایک بار ہدف کے کیلئے چھوڑدیا جائے تو پھر اس کو کنٹرول کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا ہے۔

یعنی جیسے آپ نے کبھی بچپن میں شرلی یا جو بھی آپ نام دیں چلائی ہوگی جو ماچس دکھاتے ہی سیدھی اوپر کی جانب جاتی ہے اور کہاں جاکر گرنا ہے کچھ پتا نہیں ہوتا اسی طرح بیلیسٹک میزائل ہے اس کا بھی کنفرم پتا نہیں ہوتا کہ اس کا کیا ہدف ہے۔ بس ایک حساب سے اس کو سیٹ کرلیا جاتا ہے۔ جس کے بعد یہ اپنے ہدف کا تعاقب کرتا ہے۔

کروز میزائل

          اس کے مقابلے میں اگر ہم کروز میزائل کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی بہت جدید ہےجو ایک راکٹ کی طرح کام کرتی ہے۔  اس کو گائیڈڈ میزائل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی کو میزائل کے فائر کرنے کے بعد بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے جسکی وجہ سے یہ بیلیسٹک میزائل کے مقابلے میں زیادہ اثر انداز ہے اور ٹارگٹ کو ہٹ کرنے میں بہترین ہے۔ اس کی ڈائریکشن چینج کی جاسکتی ہے جگہ تبدیل کی جاسکتی ہےجہاں انہیں فائر ہونا ہوتا ہے۔

اب ان کے راستے کی بات کی جائے تو جو بیلیسٹک میزائل ہوتے ہیں وہ باقاعدہ خلا میں چلے جاتے ہیں اور جب ان کا فیول ختم ہوجاتا ہے تو یہ واپس نیچے اپنے ٹارگٹ کی طرف آرہے ہوتے ہیں۔جبکہ اگر کروز میزائل کی بات کی جائے تو یہ زمین سے کافی قریب رہ کر اپنا راستہ طے کرتے ہیں اس کی وجہ سے یہ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے میں کافی بہتر ہوتے ہیں۔  

استعمال کہاں کیا جاتا ہے؟

           بیلیسٹک میزائل کو عام طور پر جب استعمال کیا جاتا ہے جب کسی ملک میں باقاعدہ جنگ شروع ہوجائے۔ جبکہ کروز میزائل کو کسی خاص جگہ کو ٹارگٹ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے یا کسی سرجیکل اسٹرائک کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگران کی مسافت کی بات کی جائے تو  بیلیسٹک میزائل 10000km کلو میٹر تک جاسکتا ہے۔اس کی اتنی لمبی رینج کی وجہ یہ ہے کہ یہ اسپیس میں سفر کررہے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے ان کو ہوا کا پریشر اور رگڑ برداشت نہیں کرنی پڑتی تو یہ لمبا سفر بھی آسانی سے طے کرلیتے ہیں۔

اب اس کے مقابلے میں کروز میزائل کو جو زمین سے کافی قریب رہ کر اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کررہے ہوتے ہیں ان کو ہوا کا پریشر اور رگڑ برداشت کرنی پڑرہی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی اسپیڈ اور رینج کافی کم ہوجاتی ہے۔ یہ تقریبا 6000 کلو میٹر کی رینج تک سفر کرپاتے ہیں لیکن آگے چل کر ان کی رینج اور بڑھائی جاسکتی ہے۔

بیلیسٹک میزائل کو اگر روکنے کی بات کریں تو ان کوایک اندازے کے مطابق روکا جاسکتا ہے جیسے کہ یہ ایک مخصوص راستے میں ایک مخصوص اسپیڈ کے ساتھ سفر کررہے ہوتے ہیں ۔ ان کو ایک حساب سے ایک اور میزائل مارا جاتا ہے جو ان کو ہوا میں ہی تباہ کردیتا ہے۔ جبکہ کروز میزائل کو روکنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کو ہروقت کنٹرول کیا جارہا ہوتا ہے۔ اور ان کی لوکیشن کو آسانی سے تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس کا روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کے سسٹم کو ہیک کرکے اس کی ٹارگٹ کو تبدیل کرکے کہیں اور گرادیا جائے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

دوستو امید ہے یہ معلوماتی آرٹیکل آپ کو پسند آیا ہوگا کمنٹ میں ضرور بتائیں تاکہ اس طرح کے اور آرٹیکل لکھنے کا حوصلہ ہو۔

 

         

آئی فون بمقابلہ اینڈرائیڈ فون

آئی فون بمقابلہ اینڈرائیڈ فون

         قارئین جب  آپ بات کرتے ہیں موبائل لینے کی یا موازنہ کرنے کی تو کنفیوژن سی ہوجاتی ہے کہ کیا  اینڈرائیڈ اچھا ہے یا آئی فون اچھا ہے؟ میں یہاں اسی پر موازنہ کرنے والا ہوں کہ کن خصوصیات میں آئی فون اچھا ہے۔ کن خصوصیات میں اینڈرائیڈ اچھا ہے۔ اس میں ہم پہلے اینڈرائیڈ کو دیکھ لیتے ہیں کہ وہ آئی فون سے کس کام میں بہتر ہے۔ اس میں پہلی چیز جو آتی ہے وہ ہے کسٹمائزیشن[customization] آئی فون میں آپ زیادہ کچھ کسٹمائز نہیں کرسکتے ہیں۔ بس کچھ آئکنز ادھر ادھر کردیں یافولڈر بنالیں وغیرہ۔

         لیکن جب آپ اس کے مقابلے میں اینڈرائیڈ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو اس میں بہت آپشن مل جاتے ہیں۔ جیسے آپ وجیٹس لگائیں لانچر تبدیل کریں یا لاک اسکرین بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ آپ روم بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ یعنی جیسا آپ چاہیں وہ کرسکتے ہیں۔ مطلب جو کنٹرول آپ کو اینڈرائیڈ میں ملیگا وہ آئی فون میں نہیں ملیگا۔ پھر ایک اور اہم چیز کے اینڈرائیڈ ڈیوائس آپ کو کم قیمت سے مہنگی قیمت تک مل جاتے ہیں۔ یعنی یہاں بھی آپ کے پاس آپشن ہے کہ آپ کی جیب جو فون برداشت کرسکتی ہے وہ آپ لیسکتے ہیں۔ لیکن آئی فون میں ایسا نہیں ہے وہ آپ کو مہنگا ہی ملےگا۔

اس کو بھی پڑھیں۔۔۔۔

انٹرنیت اسپیڈ کے بارے میں

          پھر آپ اپنے مرضی کے فنکشن والا اینڈرائیڈ فون لےسکتے ہیں۔ مثلا اگر آپ کو فنگر پرنٹ کا آپشن چاہئے تو وہ بھی سستے میں مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اگر آپ کو کیمرہ موبائل میں اچھا چاہئے تو وہ بھی دستیاب ہے۔ یا آپ بیٹری اچھی چاہتے ہیں یا سیلفی کے شوقین ہیں تو یہ سب آپ کو اینڈرائیڈ میں مارکیٹ میں مل جائیگا۔ لیکن آئی فون میں اس پر بھی کافی پابندیاں ہیں  مطلب آپ زیادہ پیسے دیکر بھی اپنی پسند کے آپشن نہیں لے سکتے ہیں جو انہوں نے دیا وہ لینا ہی ہوگا۔ 

         ایک اور چیز جو آپ اینڈرائیڈ فون میں آسانی سے کرسکتے ہیں وہ ہے فائل شیئرنگ۔ آپ فون میں ایک جگہ یا ایپ سے دوسری جگہ یا فون سے باہر کہیں بھی فائل شیئرنگ کررہے ہیں تو آسانی سے کرسکتے ہیں۔ جیسے wifi کا استعمال جتنا آسانی سے اینڈرائیڈ میں ہوسکتا ہے وہ آئی فون میں نہیں ہوسکتا۔

ملٹی ٹاسکنگ

         اس کے بعد ایک اور چیز وہ ہے ملٹی ونڈو یا ملٹی ٹاسکنگ[multi tasking] یہ کام بھی آپ اینڈرائیڈ میں آسانی سے کرسکتے ہیں۔ لیکن آئی فون میں نہیں کرسکتے ہیں۔ دوستو میں نے اینڈرائیڈ کی کچھ زیادہ ہی تعریف کردی ہے۔ لیکن جو سچ ہے وہی بتایا ہے ہاں آئی فون میں ہینگ پرابلم نہیں ہے اسکی اپڈیٹ اچھے سے اور زیادہ عرصے تک ملتی ہے۔ یہ جس طرح کام کرتا ہے جو اسکا پروسیسر ہے وہ کمال ہے ابھی اینڈرائیڈ اس سے کوسوں دور ہے۔

         اس کے علاوہ OTG کا آپشن جسکی مدد سے آپ اپنے فون میں مائک لگاتے ہیں یا اسپیکر لگاتے ہیں یا USB حب لگاتے ہیں یہ سب اینڈرائیڈ میں آسانی سے لگاسکتے ہیں اگر آپ کے اینڈرائیڈ فون میں OTG کا آپشن ہے تو۔ آئی فون میں بھی آپ کو شOTG کا آپشن ملجاتا ہے لیکن اس میں آپ بہت محدود کام کرسکتے ہیں، اینڈرائیڈ کی طرح فری یوز نہیں کرسکتے ہیں۔ دوستو آپ کو کافی معلومات مل گئی ہوگی اور اب آپ آسانی سے فیصلہ کرپائینگے کہ آپ کو آئی فون لینا ہے یا اینڈرائیڈ فون؟ کیا خیال ہے؟۔۔۔۔

اہرام مصر

اہرام مصر

         دوستو اہرام مصر انسانی تاریخ کا سات ہزار سالہ پرانا مومعمہ ہے جو سلجھ نہیں سکا ہے۔ آج بھی اسکو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ناکامی ہی مقدر بنی رہتی ہے۔ اس کو کس نےاور کیوں تعمیر کیا اسکا بھی کوئی نپا تلا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ اس کو فرعونوں کی ممی محفوظ کرنے کیلئے تعمیر کئے گئے ہیں۔ اندر سے ملنے والی ممیاں بھی اس کی دلیل دیتی نظر آتی ہیں لیکن شاید یہ پورا سچ نہیں ہے۔اس کے پیچھے اور بھی بہت سے راز ہیں جو معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔

         آج کے ترقی یافتہ دور میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی اپنے عروج پر دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی دنیا میں ایک بھی ایسی تعمیراتی کمپنی نہیں جو اہرام بنا سکے۔ جی یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ دور میں بننے والے اہرام کا مقابلہ کرنے کیلئے آج کے زمانے کی کوئی کمپنی نہیں ہے۔ اس کی تعمیر کس طرح ہوئی اس پر بات کرلیتے ہیں تاکہ آپ کو بھی اندازہ ہو کے یہ کیا عجوبہ ہیں۔

پروپیگنڈا کی تاریخ

اہرام مصر کی تعمیر

         دوستو سب سے بڑے اہرام کی بات کی جائے تو اس میں سو سو وزنی پتھر اس مہارت اور ترتیب سے رکھے گئے ہیں کہ ان میں جوڑ تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ اس کی بلندی 485 فٹ بتائی جاتی ہے اور اسکا رقبہ تقریبا ۱۳ ایکڑ ہے۔ اور وزن کی بات کی جائے تو یہ 65 لاکھ ٹن بیان کیا جاتا ہے۔ سائنس اس بات کو لیکر حیران ہے کہ یہ پتھر بغیر کسی مشینری کے کس طرح کاٹے گئے اور کتنے لوگوں نے یہ کام کیا تھا۔ 

         یہ جس جگہ تعمیر ہیں وہاں پتھر لانا بھی ایک مسٔلہ تھا وہ کیسے حل کیا گیا ہوگا؟  اور یہ پتھر اگر دس کی تعداد سے روز لگائے جائیں تو بھی ان کی تعمیر 680 سالوں میں مکمل ہوتی ہے۔  پھر یہ کہ اگر کوئی بھی چیز مثلث کی شکل میں آئیگی اس پر ہوا میں موجود مقناطیسی لہریں مرکوز ہوجائینگی جس کی وجہ سے ان میں کوئی بھی چیز گلنے سڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔ اور لگتا یہی ہے کہ فرعونوں کی لاشوں کو بوسیدگی سے بچانے کیلئے ایسا کیا گیا لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ ان کو اس بات کا علم تھا جدید آلات کے نہ ہوتے ہوئے بھی۔ 

         اہرام مصر کی تعداد 120 سے 140 تک ہوسکتی ہے۔دوستو کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اہرام کے انسانی ہاتھوں کی تعمیر کا قائل ہی نہیں ہے۔ اس طبقے کے مطابق ان کو شیاطین نے تعمیر کیا ہے۔دوستو ان اہرام کا گہرا تعلق ایلومیناتی تنظیم سے بتایا جاتا ہے جو اپنے آپ میں ایک پراسرار تنظیم ہے جس کو ایک الگ مضمون میں بتانے کی کوشش کرونگا۔

3g,4g,5g کیا ہے؟

3g,4g,5g کیا ہے؟

         قارئین  آپ نے موبائل استعمال کئے ہیں اور آپ نے انٹرنیٹ بھی استعمال کیا ہے۔ تو یہ نام آپ نے سنے ہونگے 4g,3g وغیرہ تو ان کے بارے میں معلومات کرلیتے ہیں کہ آیا یہ کیا بلا ہیں؟  یہ نیٹ ورک کی اسپیڈ کی الگ الگ قسمیں ہیں الگ الگ ٹیکنالوجی ہیں۔اور ایک کے بعد ایک ٹیکنالوجی آتی جارہی ہے۔ہم بات کرتے ہیں کہ پہلے کیا ٹیکنالوجی تھی اب کیا ہے اور اب آگے کیسے بڑھ رہی ہے۔ 

         تو دوستو جب 1G ٹیکنالوجی آئی تھی  تو وہ 1980 میں آئی تھی جو ڈیجیٹل سگنل والی نہیں تھی۔اور اس سے صرف آپ فون پر باتیں ہی کرسکتے تھے میسج بھی کرنے کی پوزیشن میں آپ نہیں تھے۔نیٹ چلانا تو بہت دور کی بات ہے۔ پھر قریبا دس سال بعد 2G ٹیکنالوجی آئی اب اس میں ایکسٹرا یہ تھا کہ آپ میسج بھیج سکتے تھے۔ لیکن اس دوران نیٹ بھی آگیا تھا لیکن نہ ہونے والی اسپیڈ کے ساتھ جو آپ کے صبر کا امتحان لے شاید 64kb اسپیڈ ہوتی تھی۔

         اس کے بعد جب  3G آیا تو تھوڑا سا انقلاب آیا کیونکہ اس کے آنے سے وڈیو کالنگ کا آپشن استعمال میں آیا۔ اور لائیو اسٹریمنگ کی سہولت متعارف ہوئی۔ اور دیکھا جائے تو یوٹیوب بھی اس کے آنے کے بعد زیادہ مقبول ہوا کیونکہ اب بغیر کسی بفرنگ کے آپ ہائی کوالٹی میں وڈیو دیکھ سکتے تھے۔ پھر اب 4G ہے اس میں یہ ہی سب کام آپ HD میں کرسکتے ہیں۔ آنلائن موویز دیکھنا ہو یا وڈیو کال کرنی ہے وغیرہ اس نے آپ کو ایک بہت اچھی اسپیڈ فراہم کردی ہے۔

کونسا نیٹ استعمال کریں؟

         اب یہاں ایک اہم سوال آتا ہے کہ ایک عام آدمی کونسا نیٹ استعمال کرے کہ اسکا ٹائم بھی زیادہ نہ لگے اور رقم بھی کم لگے ۔ تو اگر آپ کا استعمال صرف یوٹیوب تک ہے تو آپ 3G ہی استعمال کریں دیکھیں اگر آپ 4G LTE استعمال کرتے ہیں تو اس میں جب یوٹیوب چلاتے ہیں تو وہ فورا لوڈ ہوجاتی ہے۔ اور 3G میں آپ وڈیو دیکھتے جاتے ہیں اور آگے وہ تھوڑی تھوڑی لوڈ ہوتی رہتی ہے۔ اب اسکا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی MB کم استعمال ہوتی ہے۔

         مثلا اگر آپ کوئی وڈیو آدھی یا تھوڑی سی دیکھ کر چھوڑدیتے ہیں تو آپ کی MB کا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ وہ لوڈ ہی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن 4G میں وہ وڈیو شروع میں ہی پوری لوڈ ہوچکی ہوتی ہے تو اگر آپ وڈیو اسکپ کرتے ہیں تو جو MB پہلے سے لوڈ ہوگئی ہے وہ ضائع جاتی ہے۔ اس لئے اگر آپ کا کام کوئی ہائی لیول کا پروفیشنل نہیں ہے تو آپ 3G ہی استعمال کریں۔

5G ٹیکنالوجی

         دوستو انسان کی ضرورتیں بڑھتی رہتی ہیں وہ ایک چیز پر خوش نہیں رہتا اور نہ اکتفا کرتا ہے۔ اب یہاں بھی دیکھیں کہ 4GLTE ایک بہت اچھا اور تیز نیٹ ہے لیکن یہاں بھی اب کچھ چیزیں ایسی آگئی ہیں جو یہ ٹیکنالوجی بھی پورا نہیں کرپارہی ہے۔ اور اب 5G  ٹیکنالوجی لائے جانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اس کی اسپیڈ 4G کے مقابلے میں کافی تیز ہے جو شروع ہی 28 GHz سے ہوتی ہے۔ 

         اب اسکا فائدہ اور نقصان کیا ہے وہ دیکھ لیتے ہیں دوستو جب ہم فریکوئینسی کو بڑھاتے ہیں تو ایک فائدہ ملتا ہے کہ ہم اپنا کام جلد کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ چاہے وڈیو ڈاؤنلوڈ کرنا ہو یا سرفنگ وغیرہ یا فائل بھیجنی ہو تو یہ کام ہم فٹافٹ سے کرسکتے ہیں۔  اب اسکا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اسکی رینج کم ہوجاتی ہے کیونکہ جب فریکوئینسی بڑھتی ہے تو رینج پر فرق پڑتا ہے۔ اس سے سگنل پرابلم بہت ہونے کا امکان ہے کیونکہ اگر بارش بھی ہوگئی تو اس کی اسپیڈ اور سگنل میں فرق آنے کا خطرہ ہے۔

        لیکن ہر چیز کا حل نکالا جاسکتا ہے تو کمپنیز نے اس کے بارے میں بھی ضرور کچھ سوچ کر رکھا ہوگا۔ اسلئے یہ ان کا درد سر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں کیا ٹاور کی تعداد بڑھاتے ہیں یا اب تک صرف چھت پر ٹاور نظر آتے تھے تو کیا اب بلڈنگ کے اندر بھی چھوٹے ٹاور نظر آئینگے؟ ایسا کچھ سامنے آتا ہے یا نہیں اس کے لئے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔

پروپیگنڈا کی تاریخ

پروپیگنڈا کی تاریخ

       

پروپیگنڈا
پروپیگنڈا

  دوستو آپ میں سے زیادہ تر لفظ پروپیگنڈا سے واقف ہی ہونگے۔ اسکا مطلب جو نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی خبر یا اطلاع کو دور تک پھیلادینا۔یہ ۱۹۳۶ ؁ تک محض ایک لفظ ہی تھا۔ لیکن پھر ایک جرمن فلاسفر نے اسے ایک سائنس اور آرٹ کی شکل میں ڈھال دیا۔اس فلاسفر کا نام پال جوزف تھا وہ ہٹلر کا قریبی ساتھی تھا۔ہٹلر نے جب دیکھا کہ یہ ایک باصلاحیت شخص ہے تو اس نے اسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور ایک عجیب وزارت تاریخ میں پہلی بار قائم کی جسکا نام پروپیگنڈا وزارت تھا۔ 

                  یہ جوزف اس وزارت کا وزیر تھا۔ اس نے اخبارات، ڈرامے، وغیرہ کو پہلی بار پروپیگنڈا کیلئے استعمال کیا۔ اور ایک مشہور فلسفہ کے جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کے وہ سچ لگنے لگے اسی کا تھا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ سچ کو جھوٹ ثابت نہیں کرسکتے تو کوئی بات نہیں آپ سچ میں ایسا شک کا بیج بو دیں کہ لوگ کنفیوژ ہوجائیں تو سمجھیں آپ کا آدھا کام ہوگیا۔ قارئین جوزف نے یہ چیزیں سیکھی کہاں سے تھیں؟ اسکے پیچھے ایک کہانی ہے۔

ہٹلر کی تاریخ

شطرنج کی ایجاد

اس کے پیچھے دلچسپ واقعہ

                  جوزف کے والد جرمنی کی ایک فیکٹری میں ملازم تھے۔ وہ ایک بار والد سے ملنے فیکٹری گیا اور والد نے اسے مشینوں والا سیکشن دکھایا۔ پھر اس کے والد نے اسے مشینوں کے بارے میں بتانا شروع کیا ادھر مشینوں کا شور بھی تھا۔ اس لئے جوزف کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ والد صاحب کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ لیکن اس نے اس سے اپنے مطلب کی یہ بات ضرور نکالی کے اگر دو آدمی اگر سچی بات کررہے ہوں تو انکی بات کے آس پاس الٹی سیدھی غلط باتوں کا شور پیدا کردیا جائے تو اس سچی بات کو کہیں دبایا یا چھپایا جاسکتا ہے۔اور گفتگو کسی کے سمجھ نہیں آئے گی۔ 

                  قارئین جوزف نے اسی کو بنیاد بناکر ایسا فلسفہ تخلیق کیا جو آج بھی اس کے نام کے ساتھ مشہور ہے۔ اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اطلاعات و نشریات کا شعبہ قائم ہے جو اس کے فلسفے پر کام کررہا ہے۔ دوستو اسکا کہنا تھا کہ سیاست ایک ایسا گورکھ دھندہ  ہے جس میں حقائق تلاش کرنا بےحد مشکل ہے۔ اس میں اگر سیاست دان مشرق کو مشرق بھی کہے تو یقین نہیں کرنا چاہئے۔ 

اس کا انجام

              اس کا انجام بڑا دردناک تھا۔ وہ جنگ عظیم دوئم کے آخری دنوں میں ہٹلر کے ساتھ ہوگیا تھا۔ پھر ہٹلر کی خودکشی کے بعد وہ اور اس کی بیوی اپنے چھ بچوں کو زہر دینے کے بعد ین کے سرہانے بیٹھ گئے۔ پھر ان کے مرنے کے بعد جوزف نے گارڈ کو ان دونوں میاں بیوی کو گولی مارنے کا حکم دیا۔ اور گارڈ نے اس کے حکم کی تعمیل کی اور انہیں گولی ماردی۔ یہ انکا انجام تھا جو کسی طرح بھی اچھا نہ تھا۔

            دوستو  مرنے سے پہلے   اس نے وہی کہا جو کہنا چاہئے تھا اور اس کو پہلے سمجھنا چاہئے تھا۔ اس کہا کہ ’’ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سچ سچ ہوتا ہے۔ جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے وقتی طور پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھایا جاسکتا ہے لیکن یہ آپ مستقل نہیں کرسکتے ہیں۔ایک نا ایک دن سچ سچ ہوکر رہتا ہے۔ اور جھوٹ جھوٹ ہوکر رہتا ہے۔ اس لئے میرا  مشورہ ہے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ رہنے دیں۔‘‘ یہ تھا اس کا انجام جو اس کے کرتوتوں کے حساب سے ہونا ہی تھا لیکن اس میں عبرت کا سامان ہے دیدۂ بینا کیلئے!۔

 

VPN کیا ہے

VPN کیا ہے

             قارئین VPN کیا ہے ؟ اور کیسے کام کرتا ہے؟ اور اسکو آپ اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل کیسے استعمال کرکے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ان سب پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں۔   سب سے پہلے اسکا مطلب جان لیتے ہیں جو بنتا ہے virtual private neywork اب یہ کیا ہوتا ہے اس پر بات کرلیتے ہیں۔  جیسے آپ کے پاس ایک موبائل ہے ایک لیپ ٹاپ ہے اور ایک کمپیوٹر ہے۔ اب اگر آپ ایک موبائل سے  لیپ ٹاپ پر یا کمپیوٹر پر کوئی ڈیٹا بھیجتے ہیں تو یہ آپ کا ایک  internal network کہلائیگا۔  اسی طرح اگر آپ ایک ویب سائٹ پر جاتے ہیں اور اسے کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کہاں سے کھلے گی؟  وہ کہیں نہ کہیں محفوظ ہے۔

اب یہ چاہے امریکہ میں لگے سرور پر محفوظ ہو یا پاکستان میں یا پھر کسی اور ملک میں لیکن یہ محفوظ ضرور ہے۔ پھر اسی جگہ سے آپ کوئی خاص سائٹ یا وڈیو دیکھ پاتے ہیں۔ جسکا طریقہ کار یہ ہے کہ جب آپ کوئی ایڈریس ٹائپ کرتے ہیں تو پہلے اس کی ریکویسٹ اس  سرور پر جاتی ہے پھر وہاں سے آپ کی ریکویسٹ پر عمل ہوتا ہے تو آپ وہ چیز دیکھ پاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ہر وڈیو یا سائٹ یا کوئی اور کو ایک خاص ایڈریس پہلے سے دیا گیا ہوتا ہے جو اس تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

ان سب کا کچھ نقصان بھی ہے جیسے آپ جب بھی کسی سائٹ پر جاتے ہیں تو اسکا ریکارڈ بھی کہیں محفوظ ہوتا ہے۔ آپ کی انفارمیشن یا آپ کا کریڈٹ کارڈ نمبر وغیرہ۔ جیسے آپ کسی کا فری  وائی فائی استعمال کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کا ریکارڈ ہیک کرلے ۔ تو ان چیزوں میں کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ نیٹ سے کنیکٹ ہوگئے تو آپ چھپے ہوئے یا آپ کی معلومات چھپی ہوئی نہیں رہتیں۔

VPN کا استعمال

دوستو کسی خاص جگہ پر یا ملک میں کچھ خاص انفارمیشن ہوتی ہیں جو صرف ان ممالک میں ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ یا جیسے آپ نے کوئی سائٹ بنائی یا وڈیو بنائی ۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ یہ صرف پاکستان میں ہی دیکھی جائے تو آپ ایک مخصوص سیٹنگ  سے سرور کو پابند کردینگے کہ اس کو صرف پاکستان میں دکھایا جائے۔ اب یہاں VPN کا استعمال کیا جاتا ہے یہ آپ کی پہچان چھپادیتا ہے یا ایسا کردیتا ہے کہ سرور کو لگتا ہے کہ یہ ریکویسٹ پاکستان سے ہی آئی ہے ۔ کسی باہر کو ملک سے نہیں آئی تو وہ اس جگہ تک رسائی دیدیتا ہے۔

ہیش ٹیگ کیا ہے؟

ہیش ٹیگ کیا ہے؟

              ہیش ٹیگ کیا ہے؟  قارئین آپ نے نیٹ پر سوشل میڈیا تو استعمال کیا ہی ہوگا۔ اس میں ایک  چیز آپ کی نظر سے گزری ہوگی کے  hash tag happy,hash tag sad  اور بہت سے ہیش ٹیگ اس کے علاوہ ۔ ہیش ٹیگ[#] یہ نشان ہوتا ہے۔ اب اس کو الفاظ کے ساتھ کیوں لگایا جاتا ہے اس کا کیا مطلب نکلتا ہے اس پر بات کرلیتے ہیں۔ یہ صرف فیس بک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس کو آپ انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک نشان ہے اب اس نشان یا سمبل کو آپ کسی بھی نام سے پہلے استعمال کرسکتے ہیں۔جب اس سمبل کے ساتھ کوئی نام جوڑتے ہیں تو یہ ہیش ٹیگ بن جاتا ہے۔

اب اس کا استعمال دیکھتے ہیں کہ کیسے ہوتا ہے۔ قارئین فرض کریں کی ورلڈ کپ کے میچز ہورہے ہیں اب کوئی بھی شخص کسی بھی سوشل میڈیا پر ورلڈ کپ کے حوالے سے پوسٹ کریگا تو وہ ورلڈ کپ ہیش ٹیگ کا استعمال کریگا۔ اب اگر میں ورلڈ کپ کی پوسٹ دیکھ رہا ہوں اور مزید بھی دیکھنا چاہتا ہوں تو میں اس پوسٹ کے ساتھ لگے اس ہیش ٹیگ پر کلک کردونگا۔ اب اس سے ہوگا یہ کہ جس کسی نے بھی اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کوئی پوسٹ کی ہوگی وہ سب ایک ساتھ میرے سامنے کھل جائینگی۔ مجھے ادھر ادھر بھاگنا اور مزید پوسٹ کھوجنا نہیں پڑیگا۔

یہ ایک بہت طاقتور ٹول مانا جاتا ہے اپنی بات کہنے میں یا کسی اہم مسٔلے پر اپنی رائے دینے میں یا کسی برانڈ کی مشہوری کے سلسلے میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔اس سے آپ کی بات بہت جلد زیادہ لوگوں تک پہنچ جائیگی۔  اب آپ چاہتے ہیں کہ لوگ کسی مخصوص شخصیت یا مخصوص برانڈ کو لیکر کیا سوچ رہے ہیں یا کیا رائے دیرہے ہیں تو بس آپ اس نام کے ہیش ٹیگ کو تلاش کریں اور کلک کردیں تو آپ بہت کم وقت میں اچھی معلومات تک پہنچ جائینگے۔

              اب اسکا استعمال تو معلوم ہوگیا اب اس کو کہاں استعمال نہیں کرنا ہے وہ دیکھ لیتے ہیں۔  دیکھئے آپ دن میں اگر زیادہ فیس بک استعمال کرتے ہیں اور کافی پوسٹ کرتے ہیں تو آپ اس میں سے صرف اس ٹاپک پر ہیش ٹیگ  لگائیے جس پر آپ کچھ خاص رائے لوگوں سے جاننا چاہ رہے ہیں۔ اگر آپ ہر پوسٹ پر عجیب عجیب ہیش ٹیگ لگاکر پوسٹ کیئے جارہے ہیں تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا اس لیئے یہ صرف اہم موضوع پر استعمال کیجئے۔ اس کو کمپنیز فیڈ بیک کیلئے بھی استعمال کرتی ہیں یعنی اگر کمپنی کوئی موبائل لانچ کرتی ہے تو اسکا ایک ہیش ٹیگ بنالیتی ہے۔ پھر جب اس ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگ کمنٹ کرتے ہیں تو وہ سب کمپنی تک آسانی سے پہنچ جاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ریم کے بارے میں جانئے