ڈیوائس چیکنگ PTA کے ذریعے

ڈیوائس چیکنگ PTA کے ذریعے

               دوستو  ایک نئی اپڈیٹ کے حوالے سے ہم آج بات کرلیتے ہیں۔ جو آپ کے لئے بہت فائدہ مند ہوسکتی ہے کیونکہ آپ ایک موبائل یوزر تو ہونگے ہی اسکا مجھے نناوے پرسنٹ تک یقین ہے۔ جسکی ہم بات کرینگے اسکا نام تھوڑا لمبا اور مشکل سا ہے لیکن خیر نام ہے Device Identification Registration Bloking System کافی لمبا نام ہے۔ اس کا کام بڑا اہم ہے یہ پاکستان گورنمنٹ نے موبائل چیکنگ کیلئے ڈیویلپ کیا ہے۔ہم اکثر موبائل فون باہر کے استعمال کرتے ہیں جو یا تو ہم ڈائریکٹ اپنے کسی جاننے والے سے جو باہر ہوتا ہے منگواتے ہیں یا کوئی کمپنی یا فرد زیادہ تعداد میں منگواکر یہاں سیل کرتا ہے۔

اب ان سب کی کلیریفکیشن لینی پڑتی ہے۔  یعنی چاہے ایک موبائل ہو یا زیادہ ہوں  NOC آپ کو لازمی لینی پڑتی ہے۔اور یہ سب کام  PTA کرتی ہے اور  IMEI نمبر کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اپروول لیلی جاتی ہے لیکن یہ آپ کو نہیں پتہ چلتا۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ غلط طریقہ استعمال کرکے موبائل منگوائے جاتے ہیں محض ٹیکس سے بچنے کیلئے اس صورتحال میں  PTA کی اپروول نہیں لی جاتی۔  اب کون سا موبائل کب مارکیٹ میں آیا اور سیل ہوا کسی ادارے کو پتہ ہی نہیں چلتا تو اس کے حل کیلئے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

PTA چیکنگ سسٹم

اس سسٹم کے ذریعے آپ اپنے موبائل  کا  IMEI نمبر ڈال کر معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ موبائل Complaint ہے یا non Complaint ہے یا  Bloked  ہے۔ اب  کمپلینٹ کا مطلب یہ ہے کہ چیز منظورشدہ ہے اور این او سی وغیرہ لیلی گئی ہے۔ non Complaint  میں یہ ہے کہ اس کی  NOC  نہیں لی گئی اور اسکا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا گیا۔ اب اس صورتحال میں آپ اس کی کچھ قیمت  ٹیکس کی مد میں ادا کرکے  Complaint بنا سکتے ہیں۔

اس کیٹیگری میں بلاکڈ کا نمبر بھی ہے ۔ اب اس میں یہ ہے کہ چوری شدہ فون یا کسی اور غیر قانونی کام کی وجہ سے بلاک کئے گئے فونز اس کیٹیگری میں آتے ہیں۔  اب آپ کو کرنا یہ ہے کہ اپنے موبائل کے IMEI نمبر کو لینا ہے۔ جو اکثر موبائل پر  *#06# ٹائپ کرنے پر مل جاتا ہے۔ کچھ موبائل میں الگ طریقہ ہے  جو آپ گوگل پر معلوم کرسکتے ہیں۔ اب آپ کو یہ نمبر PTA کی سائٹ پر اینٹر کرنا ہے اور سب رزلٹ آپ کے سامنے آجائیگا۔  کہ آیا یہ موبائل اوکے ہے یا نہیں؟ یہ سب ڈیٹیل آپ کو ایک کلک پر مل سکتی ہیں۔

اس کی ایپ بھی لانچ کردی گئی ہے اگر آپ چاہیں تو اسکو بھی استعمال کرسکتے ہیں اس کا نام  DVS  ہے اس نام سے آپ پلے اسٹور پر تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ بھی ہے جو SMS کے ذریعے کام کرتا ہے اس میں آپ کو IMEI نمبر ڈال کر  8484 پر  SMS کرنا ہوتا ہے۔ جلد ہی آپ کو آپ کے موبائل کا رزلٹ مل جائیگا۔ اگر رزلٹ میں Complaint لکھا آتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر  non Complaint  لکھا آجاتا ہے تو آپ کو اس کا مسٔلہ حل کرنا ہی ہوگا۔کیونکہ پھر نئی پالیسی کے مطابق PTA  ان سب ڈیوائس کو بند کردیگا۔

کیا اپڈیٹ کرنے سے موبائل slow ہوجاتا ہے؟

کیا اپڈیٹ کرنے سے موبائل slow ہوجاتا ہے؟

                    اکثر یہ پوچھا جاتا ہےکہ کیا موبائل slow ہوجاتا ہے اپڈیٹ کرنے سے؟ اس حوالے سے لوگ کنفیوژن کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگ اس وجہ سے اپڈیٹ نہیں کرتے اور اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر وہ کچھ نئی چیزیں اور فیچر جو کمپنیز لانچ کرتی ہیں وہ استعمال نہیں کرپاتے۔ کیونکہ نئے فیچر پرانے ورژن پر چل نہیں پاتے اس وجہ سے یہ صاف ہونا ضروری ہے کہ کیا اس سے فرق پڑتا ہے یا نہیں؟ اب اس کی وجہ میں ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب آپ اپنے موبائل کو اپڈیٹ کرتے ہیں تو لامحالہ اس کے ساتھ کچھ نئے فیچر آرہے ہوتے ہیں۔ اب یہ ضروری نہیں کہ وہ ایپ کی شکل میں ہوں۔بلکہ یہ آپکی ڈیوائس کے بیک پر کام کرسکتے ہیں جسکا آپ کو پتا بھی نہیں ہوتا۔

                    اس کے علاوہ ایک اور وجہ جو عام طور پر نہیں بتائی جاتی  وہ یہ کہ جب بھی کمپنی موبائل لانچ کرتی ہے۔ تو وہ یہ ذہن میں رکھتی ہے کہ یہ موبائل کتنے عرصے مارکیٹ میں رکھنا ہے۔ اس لئے کچھ پلاننگ پہلے سے اس طرح سے کرلی جاتی ہے کہ ایک خاص عرصے بعد وہ موبائل میں کچھ مسٔلہ نظر آنا شروع ہوجاتا ہے اب چاہے وہ اپڈیٹ کی شکل میں ہو یا کسی اور وجہ سے ہو۔ کیونکہ کمپنی کو نیا موبائل لانچ کرنا ہوتا ہے جسکی وجہ سے پرانے کی ویلیو کم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

                    ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک ایشو ایپل آئی فون کا بھی سامنے آیا تھا۔ جس میں یہی کہا گیا تھا کہ ایپل اپنے آئی فون کو جان بوجھ کر اپڈیٹ کی آڑ میں سلو کررہا ہے۔ اس پر کافی بحث بھی ہوئی تھی۔ یہ کہا جارہا تھا کہ اس تیکنیک سے ایپل اپنے  نئے فون زیادہ تعداد سیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔لیکن اس میں کچھ اتنی زیادہ سچائی نہیں تھی۔پھر اتنا سب ہونے کے بعد ایپل کی طرف سے ایک اسٹیٹ منٹ سامنے آئی۔جس میں انہوں نے کہا کہ موبائل سلو ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ جب ہم موبائل استعمال کرتے ہیں تو اس کی بیٹری کمزور ہوتی جاتی ہے۔

یعنی اگر ہم موبائل کو سلو نہ کریں تو کمزور بیٹری کی وجہ سے موبائل کے فنکشن سہی کام نہ کرینگے۔ جس کی وجہ سے اس کے کریش ہونے کے چانس بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے ہم سلو کرتے ہیں تاکہ یہ خطرہ کم ہوجائے اگر دیکھا جائے تو یہ بات بھی ایپل کی درست ہے۔ اس لئے ایپل اپڈیٹنگ کے ذریعے ایپل فون کے پروسیسر کو سلو کردیتے ہیں۔ اب ایک بات اور ایپل نے کہی ہے کہ نئے فونز میں ہم ایک ایسی ایپ یا پروگرام لوڈ کردینگے جو آپ کو آپ کے فون کی بیٹری کی پرفارمنس کے بارے میں اپڈیٹ کرتی رہے گی۔ جس سے آپ کو سمجھنے میں آسا نی رہے گی کے آیا ابھی بیٹری سہی ہے یا کمزور ہوگئی ہے۔

اس کو ساتھ ساتھ انہوں نے ایک اور اختیار بھی آپ کو دیدیا کہ اگر آپ چاہیں تو فون کو مکمل کارکردگی پر چلا سکتے ہیں۔ لیکن پھر ایپل کی کوئی گارنٹی نہیں کہ اگر وہ کریش ہوتا ہے تو۔  ایک اور اہم وجہ موبائل سلو ہونے کی یہ ہے کہ جب کوئی اپڈیٹ آپ کے موبائل پر ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے وہ اگلے آنے والے فون کیلئے ہو۔ کیونکہ جو نیا فون کمپنی کا مارکیٹ میں ہوتا ہے اس کو ذہن میں رکھ کر ہی اپڈیٹ کی جاتی ہے۔اس لئے اگر آپ کے پاس پرانا فون ہے تو اس اپڈیٹ سے وہ سلو ہوسکتا ہے۔ 

اس لئے ان باتوں کو ضرور ذہن میں رکھیں۔ اگر آپ کے پاس آئی فون ہے تو وہ کچھ دن کیلئے یہ سہولت آپ کو دیتا ہے کہ اگر آپ کا فون سلو ہورہا ہے۔ یا ایسا آپ کو لگ رہا ہے تو کچھ دن کے اندر اندر اپنے فون کو آپ پرانے ورژن پر واپس لاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈرائیڈ کے استعمال کرنے والے بھی بڑی آسانی سے اپنے فون کو پرانے ورژن پر لاسکتے ہیں۔

آپ کو یہ پوسٹ بھی اچھی لگےگی

LED اور LCD میں فرق

DDR کیا ہے

LCD بمقابلہ LED

LCD بمقابلہ LED

               قارئین آپ نے بہت سنا ہوگا کہ یہ LCD ہے۔ یہ plasma ہے۔ یہ LED ہے۔ اب ان میں فرق کیا ہے اس پر بات کرلیتے ہیں کہ آیا کیا بہتر ہے کیا نہیں اور کونسی ٹیکنالوجی نئی ہے اور کون سی پرانی؟ تاکہ آپ کو ان میں سے کچھ خریدنا پڑجائے تو فیصلہ کرنے میں پریشانی نہ ہو۔ سب سے پہلے جان لیتے ہیں LCD کے بارے میں اس کا مطلب liquid crystal display ہے۔ اس میں سامنے ایک liquid display ہوتا ہے جس میں آپ کو الگ الگ رنگ نظر آتے ہیں۔ پھر اس کے پیچھے کی طرف  CCFL لائٹ لگی ہوتی ہے جو روشن ہوتی ہے تو آپ کچھ دیکھ پاتے ہیں۔یہ تھوڑے موٹے ہوتے ہیں کیونکہ اس میں لائٹ کی جگہ دینی ہوتی ہے۔

                    اسی ٹیکنالوجی کو اور اچھا  کیا گیا تو وجود میں آیا LED جس میں اور LCD میں ایک فرق ہے کہ جہاں LCD میں CCFL لائٹ استعمال کی جاتی تھی اس کی جگہ LED  میں ایک LED light panel استعمال کیا جاتا ہے۔جسکی وجہ سے یہ پتلا اور سلم ہوجاتا ہے اور دوسرے یہ کہ پاور کم استعمال کرتا ہے۔ اب اگر کارکردگی کی بات کی جائے تو  لوگ سمجھتے ہیں کہ بہت فرق ہوتا ہے LED میں LCD کے مقابلے میں لیکن ایسا کچھ نہیں ہے بس ایک چھوٹا سا فرق ہے پیچھے استعمال ہونے والی لائٹ کا۔ 

OLED کیا ہے

                    اب ان دونوں کے مقابلے میں بات کی جائے OLED کی تو یہ بلکل مختلف ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں پیچھے LED Light بھی استعمال نہیں ہوئی ہے اس کی جگہ ایک جدید طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی اس کے ہر pixels کی الگ Light ہے جس کی وجہ سے یہ بہت مہنگی ہے۔  لیکن فائدہ بھی زیادہ ہے یعنی ایک تو بجلی کا استعمال بہت کم رہ جاتا ہے دوسرے یہ بہت زیادہ پتلے ہیں۔ قارئین اب آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہاں ٹیکنالوجی ختم ہے ۔ ابھی اس سے آگے ایک اور چیز ہے جسے quantam dot tv کہا جاتا ہے۔ اس میں رنگ جس جگہ جونسا دکھانا ہے ٹھیک وہی رنگ آپ دیکھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بہت ہی کمال کا display دیتے ہیں۔ 

                  یہ quantom tv  کوالٹی کے معاملے میں بہت آگے ہیں۔ ان کا ابھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ جو اس کو ایک دفعہ استعمال کرلے تو پھر اس کا کسی اور ڈیوائس میں مزہ نہیں آتا۔ لیکن جیسی اس کی کوالٹی ہے ویسے ہی ان کی قیمت ہے۔ یہ قیمت میں OLED سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ اس لئے یہ ابھی ہر شخص کی رینج میں نہیں ہیں لیکن آنے والے وقتوں میں امید ہے ان کی قیمت بھی کم ہوجائیگی۔ اس کے علاوہ اگر ہم بات کریں plasma کی تو وہ اب مقبول نہیں ہے۔ یہ بجلی بھی زیادہ استعمال کرتی ہے اور  LCD بہتر ہے لیکن باقیوں سے بہتر نہیں پھر اس کی قیمت بھی زیادہ ہے تو یہ فیل ہیں۔

                  دوستو ان موازنوں سے آپ کو ان ڈیوائسز کا فرق تو یقینا سمجھ آگیا ہوگا۔ اب اگر آپ ان میں سے کسی ایک ڈیوائس کو خریدتے ہیں تو آپ کو پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ مزید ایسی معلومات کیلئے آپ ہمیں کمنٹ کرسکتے ہیں۔ جس موضوع پر آپ کو آرٹیکل چاہئے بتائیں میں اس پر معلومات لینے کی کوشش کرونگا۔

DDR Ram کیا ہے

DDR Ram کیا ہے

          دوستو DDR Ram کیا ہے؟ ریم کے بارے میں تو سب دوست جو کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں جانتے ہی ہونگے۔ اب اس کی جدید شکل جسے DDR Ram کہا جاتا ہے مارکیٹ میں آئی ہے۔ لیکن اس کی بھی بہت قسمیں مارکیٹ میں آگئی ہیں۔ اس وجہ سے اس کی معلومات ہونا ضروری ہے کہ آیا کون سی لینی چاہیئے کونسی فی الحال آپ کو کام کی نہیں ہے۔ دوستو جب بھی کوئی نئی چیز یا ڈیوائس مارکیٹ میں آتی ہے تو لازمی وہ پرانی والی سے بہتر ہوتی ہے۔یعنی اس میں وہ خصوصیات شامل کردی جاتی ہیں جو پہلے اس ڈیوائس میں نہیں تھیں۔

اب DDR میں کسطرح بہتری لائی جاتی ہے اس میں ہم بات کرلیتے ہیں۔  دیکھئے جب بھی کوئی نئی ڈیوئس بنائی جاتی ہے تو اس میں ایک تو سائز کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں کام کرنے کی صلاحیت اور رفتار کو بڑھایا جاتا ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ جتنی جگہ اور پاور میں پہلے آپ کم کام کر پارہے تھے  اب اس سے کم پاور میں زیادہ کام کرپارہے ہیں۔ اور ڈیوائس سائز بھی چھوٹا ہوگیا ہے۔ یہ بینیفٹ ہے جدید ڈیوائسز لینے کا کہ آپکا ٹائم اور  پاور بچ جاتی ہے۔

موازنہ کمپیوٹر DDR ریم کا

اگر اس کو ایک مثال سے سمجھیں تو ہم بات کرتے ہیں DDR3 کی جو اپنے کام میں بہترین ہے۔ لیکن اگر اس کے کام کا مقابلہ کیا جائے DDR4 سے تو جو کارکردگی DDR3  کی ہے DDR4 میں وہ  کارکردگی صرف شروع ہوتی ہے۔ اس سے آپ DDR5 وغیرہ کی کارکردگی کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔یہی طریقہ موبائل ڈیوائسز میں بھی کام کرتا ہے۔اگر آپ جتنا جدید موبائل فون لیتے ہیں اتنا ہی آپ کو اس کی کارکردگی دیکھنے کو ملےگی۔

دوستو یہ تو صرف  DDR کی بات تھی لیکن ان میں بھی الگ الگ  parameters دیکھنے کو ملتے ہیں۔  کسی میں dual channel اور کسی میں single channel  میموری ہوتی ہے۔ کچھ MGhz  کے طریقے پر کام کرتی ہیں۔ جیسے کوئی آپ کو 833MGhz اور کچھ 1333MGhz ملتی ہیں۔ یعنی جو طریقہ کار پروسیسر کا ہے اسی پر یہ کام کرتی ہیں۔ جتنی ہائی اسپیڈ کی آپ کی Ram ہوگی اتنی اچھی آپ کی ڈیوائس کی کارکردگی ہوگی۔ لیکن اس کا آپشن آپ کو موبائل میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں آجائے۔

کمپیوٹر پر آپ اپنی RAM کی اسپیڈ تبدیل کرسکتے ہیں۔ جیسے کہ آپ کے کمپیوٹر پر DDR4 کی سلاٹ نہیں لگی ہے اور آپ اسپیڈ بڑھانا چاہتے ہیں تو  DDR3 میں ہی ہائی  اسپیڈ والی  RAM لیکر  اپنے کمپیوٹر کی اسپیڈ بڑھاسکتے ہیں۔ اس سے فی الحال آپ کا خرچہ بچ جائیگا اور آپ اچھی اسپیڈ کا مزہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اب تو اور بہت آگے کی DDR مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ تو آپ DDR3 یا DDR4 پر اکتفا نہ کریں ۔

DUAL Channel کیا ہے؟

مثال کے طور پر آپ کے کمپیوٹر پر 8GB کی یا 4GB کی دو RAM لگی ہیں تو ان میں کیا بہتر ہے؟ یعنی  8GB کی ایک ہی بہتر ہے یا 4GB کی دو لگی ہیں وہ بہتر ہیں؟ تو بہتر یہی ہیں جو دو لگی ہیں 4GB کی۔  کیوں؟ اسلئے کہ  RAM کا کام ڈیٹا کی تیز ترین منتقلی یعنی CPU میں آنے جانے والے پیغامات تیز ہونے چاہئیں۔ جو ایک RAM چاہے وہ 8GB کی ہو میں اچھے سے  نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کے مقابلے میں 4GB کی دو لگی ہوں تو کام اس میں تیزی سے ہوگا ۔

مثلا اگر ایک ڈرم میں ایک سوراخ ہو تو اس کو خالی ہونے میں زیادہ ٹائم لگیگا۔ لیکن اگر اس ڈرم میں دو سوراخ ہوں تو  اس میں موجود لیکویڈ کو باہر آنے میں کم ٹائم لگےگا۔ یہ ایک سادی سی مثال ہے  اس کام کو سمجھنے کی جو RAM کرتی ہے۔ یعنی آپ کے پاس یہ DUAL ٹیکنالوجی  ہے تو آپ زیادہ اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں ان کے مقابلے میں جنکے پاس آپ کے برابر پاور  تو ہے لیکن ایک سلاٹ میں جو بہرحال DUAL ٹیکنالوجی کے برابر نہیں آسکتی ہے۔

چنگیز خان

چنگیز خان

جنگجو چنگیز خان

                    جب تاریخ میں جنگجو بادشاہوں کی بات آتی ہے۔ تو اس میں ایک نام چنگیز خان کا بھی لیا جاتا ہے۔ وہ ایک جنگجو اور ظالم سفاک حکمران گزرا ہے۔ یہ وہ حاکم تھا جس نے بہت کم وقت میں بیشر دنیا کو فتح کیا،اور دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھدیا۔ اسے بربریت اور خوف کی علامت جانا جاتاتھا۔ وہ ایک منگول بادشاہ تھا اس نے فقط ۱۳ سال کی عمر میں تلوار کو ھاتھ میں لے لیا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے چالیس سال کی عمر میں وہ باشاہ کی مسند پر آکر براجمان ہوگیا۔  

                    چنگیز خان ۱۱۶۲ ؁ عیسوی کو پیدا ہوا ۔ اسکا اصل نام تموجن تھا جسکا مطلب لوہے کا کام کرنے والا بنتا ہے۔ جب چنگیز خان ہوا تو اس وقت کے چند دانشوروں  یہ پیش گوئی کی کے یہ جابر حکمران بنے گا۔  قارئین منگول ایک وحشی اور شکاری قوم تھی جو سردی اور برف باری والے علاقے میں رہتی تھی۔ اسلئے ان کو  سردی سے بچنے کیلئے کھال کی ضرورت ہوتی تھی۔ تو یہ لوگ جانور خاص کر بارہ سنگوں کا شکار کرکے اسکا گوشت کھالیتے اور کھال رکھ لیتے۔ اور اسکا خون بھی اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے پی جاتے تھے۔ جب یہ پیدا ہوا تھا اس وقت ان کی  قوم  سینکڑوں  خاندانوں میں تقسیم تھی۔ انکا قبیلہ بھی ناراض تھا۔

چنگیز خان کی تربیت

                    ابھی چنگیز خان چھوٹا ہی تھا کہ اس کے والد کو سازش میں زہر دیکر مار دیا گیا۔  یہی وجہ اسکے چنگیز خان بننے کی بنی کیونکہ اس واقعہ نے اس کا بچپن ختم کردیا اور  اسکے ہاتھ میں تلوار دیدی۔ اور پھر وہ تنہا ہوگیا اور اپنی ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا۔ اس کی ماں اسکو اپنے آباؤ اجداد کے بہادری کے قصے سناتی تھی جس سے وہ بڑا متاثر ہوا۔ اس کے دل سے ڈر خوف جاتا رہا اور وہ چھوٹی عمر میں ہی  بہادر ہوگیا۔  پھر وقت کا پہیہ حرکت میں رہا اور وہ وقت یعنی ۱۱۷۵ ؁ عیسوی بھی آگیا ۔ جب اسکے سر پر بادشاہت کا تاج رکھ دیا گیا۔

              اسکی قوم اور قبائل آپس میں ہی لڑنا شروع ہوگئی۔ اس نے بہت کوشش کی ان کو ایک جھنڈے تلے لانے کی۔ اس کےلئے اس نے سب قبائل کو اکٹھا کیا اور  آپس میں لڑنا بندکرکے  دیگر علاقے اور قبائل  کو فتح کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ جس کو قبائل نے پسند کیا اور تموجن کی دانشمندی کے قائل ہوگئے۔  پھر اس کو یہ اعزاز بخشا کے اس کو اپنا سردار تسلیم کرلیا اور اس کو  چنگیز خان کا خطاب دیا ۔  اس نے اپنے بہترین فیصلوں سے منگول کو ایک مضبوط سلطنت بنادیا۔  اس کے اداروں کو اور فوج کے شعبے کو مضبوط کیا۔  اس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے چینیوں کی کمر توڑ دی اور اس پر قابض ہوگیا۔

اہم واقعہ

                    یہاں ایک اہم واقعہ رونما ہوا   ۱۹۱۲ ؁ میں  اس کے سفیروں کو مختلف ممالک میں قتل کردیا گیا۔  اس واقعے نے چنگیز خان کو دنیا فتح کرنے کیلئے نکلنے پر ابھارا اور وہ دنیا فتح کرنے نکل کھڑا ہوا۔  پھر اس نے شمالی چین اور افغانستان کی سرحد کے علاقے فتح کئے۔ اور اس کے علاوہ بخارا، ثمر قند، شاہ پور، ترکستان، ہرات، تبریز اور آذربائیجان سے جنگ کرکے فتح کرلئے۔ اس نے جنوبی روس اور شمالی ہند تک  یلغار کی اور کافی بڑے رقبے کا مالک بن گیا۔ اس نے یہ رقبہ حاصل کرنے کیلئے تقریبا پچاسی لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتاردئیے۔  اس وجہ سے یہ سفاک حکمران جانا جاتا ہے۔لیکن یہ اتنی کامیابیوں کا مالک کیسے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ 

                    قارئین چنگیز خان  نے دو حکمت عملی یا دو فارمولوں  پر عمل کیا اور دنیا کو فتح کیا۔  پہلی حکمت عملی رفتار تھی  اس نے اپنے لشکر کی رفتار بڑھانے کیلئے پیدل لشکر ختم کردئیے ۔ ساری فوج کو گھوڑوں پر منتقل کیا اور یہی نہیں بلکہ ہر سپاہی کو تین گھوڑے دئیے۔  اب جب ایک گھوڑا تھک جاتا تو اس کو کاٹ کر اسکا خون دوسرے گھوڑوں کو  پلادیا جاتا اور اسکا گوشت محفوظ کرلیا جاتا۔ اور سپاہی دوسرے گھوڑے پر سوار ہوجاتا  اور یہ بغیر رکے آگے بڑتے رہتے۔ اب دوسری حکمت عملی تکنیکی ہے یعنی تاتاری یا منگول وہ پہلے لوگ تھے  اس وقت کے جو گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے تیر اندازی کیا کرتے تھے۔ اور یہ تکنیک اس وقت کسی اور کے پاس نہیں تھی۔

                   یہ لشکر ظالم تھا  اسلئے جب بھی یہ کسی علاقے کو فتح کرتے تو وہاں قتل ہونے والے افراد  کی کھوپڑیوں کا مینار بنایا کرتے تھے۔  اور صرف جوانوں کو نہیں بلکہ بچوں، بوڑھوں اور جانوروں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے۔ خوب لوٹ مار کرتے تھے اور عورتوں کی عصمت دری کرتے تھے۔  دوستوں چنگیز خان ۱۲۲۷ ؁ عیسوی کو ایک جنگ میں مارا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کے بیٹوں نے اس کی بیویوں، غلاموں اور گھوڑوں کے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی قبر آٹھ سو سال  تک معمہ  بنی رہی۔ پھر ۲۰۰۴ ؁ کو اسکا مقبرہ دریافت ہوا اور اسکی سہی امارت کا اندازہ لوگوں کو ہوا۔ چنگیز خان کہا کرتا تھا کہ میں نے دنیا فتح کی ہے لیکن اپنی تقدیر کو فتح نہ کرسکا۔ انسان کبھی اپنی تقدیر اور موت کو شکست نہیں دے سکتا۔

ہماری یہ پوسٹ بھی دیکھیں

ہٹلر کی تاریخ

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی