بادشاہ کے تین سوال

بادشاہ کے تین سوال
                    ایک دن اس بادشاہ کا مزاج اچھا تھا اور اسی موڈ میں اس نے وزیر سے اس کی سب سے بڑی خواہش معلوم پوچھی تو وزیر پہلے خاموش رہا۔ پھر بادشاہ کے اسرار کرنے پر بولا ’’ بادشاہ سلامت آپ ایک بڑی اور خوبصورت سلطنت کے مالک ہیں۔ اگر اس میں سے کچھ مجھے مل جائے تو میں خوش قسمت لوگوں میں سے ہونگا‘‘ یہ کہہ کر وزیر خاموش ہوگیا ۔ تو بادشاہ جو اچھے موڈ میں تھا بولا ’’ اگر میں آدھی سلطنت دیدوں تو؟‘‘ تو وزیر بیچارا حیران پریشان حیرت سے بولا کہ بادشاہ سلامت یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو بادشاہ نے اسی وقت احکامات جاری کئے اور ایک نہیں دو حکم جاری کئے ۔ ایک میں بادشاہ نے اس کو آدھی سلطنت کا مالک بنانے کا حکم دیا دوسرے میں اس کے سر قلم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ تو وزیر بڑا حیران اور گھبرایا اور بادشاہ سے اسکی وجہ معلوم کی تو بادشاہ بولا ’’ تمہارے پاس ۳۰ دن کا وقت ہے اگر تم میرے تین سوالوں کے جواب دیدو تو دوسرا حکم جس میں سر قلم کرنے کا ذکر ہے وہ منسوخ ہوجائیگا۔لیکن اگر ناکام ہوئے تو پہلا حکم منسوخ ہوجائیگا جس میں آدھی سلطنت تمہارے نام کرنے کا حکم ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بادشاہ خاموش ہوگیا ۔ وزیر ابھی حیران پریشان بیٹھا تھا۔ کہ بادشاہ بولا کہ ’’ وہ تین سوال لکھ لو‘‘ تو وزیر نے لکھنے شروع کئے پہلا سوال بادشاہ نے لکھوایا ’’ انسان کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے‘‘ پھر دوسرا سوال لکھوایا ’’ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے پھر بولا’’ تیسرا سوال یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے‘‘ اس کے بعد کہا کہ تمہارا وقت شروع ہے تو وزیر نے وقت ضایع کرنا مناسب خیال نہ کیا اور سوال لیکر چلتا بنا۔

                    اب اس نے نامور دانشوروں اور علما سے رابطہ کیا اور سوال دہرائے لیکن کوئی قابل تشفی جواب نہ دے سکا۔وہ سوال لیکر ملک اور ملک سے باہر گھوما پھرا لیکن اس کو جواب نہ مل سکے۔ وہ شہر شہر گاؤں گاؤں مارا مارا پھرتا رہا لیکن جواب نہ ملسکے۔ اور اسی طرح وہ دن بھی آگیا جب ان سوالوں کے جواب کا آخری دن تھا۔ اب اس کو لگنے لگا تھا کہ بس آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اب اسکی گردن اتاردی جائیگی۔ اب وہ انہی سوچوں میں گم ایک جھونپڑی میں پہنچا تھک گیا تھا بھوک پیاس بھی لگی تھی۔ یہاں ایک شخص تھا دکھنے میں فقیر لگتا تھا اس نے کہا ’’آپ وزیر ہیں اور آپ کا جو مسٔلہ ہے میں جانتا ہوں ‘‘ تو وزیر نے حیران ہوکر کہا کہ’’ تم کیسے جانتے ہو‘‘ تو فقیر نے کہا کہ’’ میں بھی ایک وقت میں بادشاہ کا خاص وزیر تھا۔ اور میں نے بھی بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کرلی تھی‘‘ تو وزیر نے پوچھا ’’ تو کیا آپ بھی جواب تلاش نہ کرسکے تھے؟‘‘ تو فقیر مسکرایا اور کہا ’’ میرا معاملہ تھوڑا الگ تھا میں نے جواب تلاش کرلئے تھے۔ اور بادشاہ کو بتائے تھے پھر میں نے وہ آدھی سلطنت کو بھی ٹھکرایا اور یہاں آکر جھونپڑی میں رہنا شروع کردیا‘‘ پھر وہ خاموش ہوگیا۔وزیر کو بہت حیرت ہوئی لیکن ابھی اسکا وقت نہیں تھا کہ وہ معلوم کرتا کہ سلطنت کیوں چھوڑی؟ بلکہ جواب معلوم کرنے کا وقت تھا۔ اسلئے اس نے فقیر سے کہا کہ’’ کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دینگے؟‘‘ تو فقیر نے کہا کہ’’ ہاں دونگا لیکن دو جواب مفت میں بتادونگا لیکن تیسرے کیلئے تمہیں کچھ قیمت ادا کرنی ہوگی‘‘ تو وزیر کے پاس ماننے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا تو اس نے ہامی بھرلی۔

سوالوں کے جواب

                    اس کے بعد فقیر نے جواب بتانا شروع کئے اور کہا’’ پہلے سوال کا جواب دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے۔ جسے دنیا کا ہر شخص تسلیم کرتا ہے چاہے وہ کسی مذہب کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو‘‘۔ پھر اس نے دوسرے سوال کا جواب دیا کہ ’’ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے یہ جتنی بھی لمبی ہو ختم ہونے والی ہے‘‘۔ وزیر جواب سن کر بہت خوش ہوا اور تیسرے جواب کیلئے جو شرط تھی وہ معلوم کی تو فقیر نے کتے کے سامنے سے وہ پیالہ اٹھایا جس میں وہ دودھ پی رہا تھا۔ اور کہا ’’ پہلے اس میں سے دودھ پیو پھر تیسرے سوال کا جواب دونگا‘‘ تو وزیر نے ایک نفرت بھرے انداز اس دودھ کو پینے سے انکار کیا۔ تو فقیر نے کہا ’’ ٹھیک ہے تو جیسے آپ کی مرضی میں تیسرے کا جواب نہیں دیسکتا تم خود تلاش کرلو‘‘۔ اب وزیر سوچنے لگا کے ایک طرف موت اور دوسری طرف آدھی سلطنت اور اچھی زندگی تھی تو اس نے اچھی زندگی کو سامنے رکھ کر دودھ پینے کا فیصلہ کیا اور دودھ کو پی لیا۔ اس پر فقیر مسکرایا اور کہا’’ اے نادان وزیر انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی غرض ہوتی ہے جو آپ سے وہ کام کرالیتی ہے جس کو کرنے میں آپ نفرت اور کراہت محسوس کرتے ہیں۔ بس میں نے اس لئے سلطنت کو چھوڑدیا کہ جتنا میں دنیا کے دھوکے میں آؤنگا اتنا موت کی سچائی کو بھلادونگا بس میں اس جھونپڑی میں آکر رہنے لگ گیا۔‘‘ وزیر وہ سوالات کے جواب پاکر سوچ میں غرق ہوگیا کیونکہ اسکو بھی وہی احساس ہوگیا تھا جو فقیر کو جواب ملنے پر ہوا تھا اور اس نے دنیا کو ٹھکرانے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ پوسٹ بھی دیکھیں

شطرنج ایجاد کرنے والے کے ساتھ کیا ہوا

حرام کھانے کے اثرات

ہٹلر

ہٹلر کی تاریخ

                  دوستو ہٹلر تاریخ کا ایک ظالم اور بھیانک کردار گزرا ہے۔ جسے آج بھی لوگ ظلم کی مثال دینے کیلئے اسکا نام استعمال کرے ہیں۔ یہ شخص جنگ عظیم دوم کی وجہ بنا تھا اور لاکھوں انسانوں کا قاتل تھا۔ اسکا پورا نام ایڈولف ہٹلر تھا اور اپریل ۱۸۸۹؁ کو آسٹریلیا میں پیدا ہوا یہ سفاک ترین لیڈر تھا۔ یہ شروع میں فوج میں نہیں جانا چاہتا تھا بلکہ اسکو فائن آرٹ میں دلچسپی تھی اور وہ اس میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتا تھا ۔ لیکن اس نے فائن آرٹ میں داخلے کیلئے دو مرتبہ کوشش کی لیکن دونوں دفعہ ریجیکٹ کردیا گیا۔ پھر اس میں ناکامی کے بعد ہٹلر اس شہر سے چلاگیا۔ پھر اس نے فوج میں شمولیت کیلئے درخواست دی اور اسطرح وہ جرمن فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوگیا۔ پھر ایک جنگ میں یہ لڑتے ہوئے زخمی ہوا جس کی وجہ سے اسے بہادری دکھانے پر دو ایوارڈ بھی دئیے گئے۔

                    ہٹلر کو اس وقت بہت غصہ آیا اور بہت دکھی تھا جب ۱۹۱۸؁ میں جرمنی نے ایک جنگ میں ہتھیار ڈالدئیے کیونکہ اسے جرمنی سے بہت محبت تھی اور وہ جرمنی کی یہ ذلت برداشت نہیں کرپارہا تھا۔ وہ اسکا ذمہ دار جرمنی کے اس وقت کے لیڈر کو سمجھ رہا تھا کے انہوں نے اپنے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔پھر اس پہلی جنگ عظیم کے بعد ہٹلر واپس چلاگیا اور ملٹری کیلئے ایک افسر کے طور پر فرائض پورے کرتا رہا لیکن دل میں ابھی بھی اس شکست کا غم تھا۔ وہ اپنے فرائض میں جو کام کرتا تھا وہ جرمن ورکر پارٹی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا تھا پھر وہ اس کے کام اور پالیسیوں سے بہت متاثر ہوا لہذا اس نے ۱۹۱۹؁ میں اسی میں شمولیت لے لی ۔ اس کے کچھ عرصے بعد پارٹی نے نام تبدیل کردیا اسکا نیا نام نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکر پارٹی رکھدیا اور اسکا سمبل ہٹلر نے خود بنایا اور اس پارٹی کو نازی بھی کہا جانے لگا۔

ہٹلر کی تقاریر

                    ہٹلر بات اور تقریر کرنے کے ہنر کو جاننے والا شخص تھا۔ جس نے اپنی دھواں دار تقریروں سے جرمن عوام کو یہ احساس دلایا کے وہ فاتح قوم ہیں اور طاقتور ہیں۔اس طرح ہٹلر جرمن عوام کے دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب ہوگیا وہ جب ہزاروں لاکھوں کے مجمعے میں بات کرتا تو لوگ اس کی باتوں کے سحر میں کھوجاتے۔پھر اپنی قابلیت کی بنا پر وہ پارٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا۔ پھر اسی دور میں اس پر بغاوت کا الزام لگا اور جیل میں ڈالدیا گیا لیکن وہ ان چیزوں سے نہیں گھبرایا اور جیل میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے سازشی عناصرکے چہروں سے نقاب ہٹایا اس کتاب کا نام مائی اسٹرگل تھا۔ اس کتاب میں اس نے بتایا کے یہ لوگ جرمنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور یہ بھی لکھا کہ کیسے جرمنی کو آگے ترقی کی راہ پر لایا جاسکتا ہے۔

                    اس کے بعد ہٹلر صدر کے عہدے کیلئے الیکشن میں کھڑا ہوا اور مخالف کو بھاری اکثریت سے شکست دی۔اس کو چانسلر بنادیا گیا اس نے اپنے اختیارات کو بڑھانے کیلئے ایک قانون بنایا جس سے اس کو تقریبا تمام اختیارات مل گئے اب وہ آئین کے خلاف بھی فیصلے کرسکتا تھا۔پھر اس نے ملک میں صرف اپنی پارٹی کو طاقتور بنانے کیلئے مخالف پارٹی پر دباؤ ڈالے اور اسطرح ۱۹۳۳؁ صرف نازی پارٹی ہی جرمنی کی پارٹی رہ گئی۔ اس کے مقابل آنے والوں سے ہٹلر کا رویہ سخت ہوتا تھا پھر ایک وقت آیا کہ فوج کے اختیارات بھی ہٹلر کے قبضے میں آگئے اور یوں وہ جرمنی کے سیاہ سفید کا مالک ہوگیا۔

دوسری جنگ عظیم کا آغاز

                    قارئین ہٹلر کو یہودیوں سے سخت نفرت تھی اور اس نے جرمنی میں ان کیلئے سخت قوانین بنائے اور ان کو دباؤ میں رکھا انکو کاروبار کرنے سے روکا گیا اور ان کے بچوں کو بھی اسکول جانے سے روکا گیا اور حد مقرر کردی گئی اور ان کے پاسپورٹ پر بھی نشانی لگادی گئئ جس سے ان کی الگ پہچان واضح ہو۔ پھر اس نے یہودیوں کو قتل کرنا بھی شروع کیا اور پھر اس نے پولینڈ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا کیونکہ پولینڈ نے اس کی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔لیکن اس سے پہلے پولینڈ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرچکا تھا اسلئے اسکے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی پر حملہ کردیا۔ اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔

                    اس جنگ میں ہٹلر نے یہودیوں کو چن چن کر مارا اور اس طرح اسکا نام یہودیوں میں خوف کی علامت بن گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے کافی ممالک پر حملہ کرکے قبضہ کئے اور پھر اس نے سوویت یونین پر حملہ کرنے کیلئے فوج بھیجی اور کافی حصہ پر قبضہ کرلیا۔ اسی دوران جاپان نے ہٹلر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور اس سے ہٹلر کی اور ہمت بڑھی اور اس نے سوویت یونین اور برطانیہ وغیرہ پر حملے کا ارادہ کیا۔ لیکن یہ تینوں بہت طاقتور ممالک تھے سوویت یونین کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی اور برطانیہ اس وقت کا سب سے بڑا ملک تھا اور امریکہ ایٹمی طاقت تھا اس کا اندازہ ہٹلر کو بھی تھا کہ اب سامنا طاقتور دشمن سے ہے۔

                    ہٹلر کی فوج کو پے در پے شکست ہونے لگی اور جرمن کے بہت سے لیڈر کو لگنے لگا تھا کہ ہٹلر اب ہارنے کے قریب ہے اور وہ صرف اسی کو سارے معاملے کا سزاوار ٹھہراتے تھے۔ پھر ہٹلر پر اسکے اپنے ہی لوگوں کی طرف سے قاتلانہ حملے بھی ہوئے لیکن یہ ہر بار بچ گیا پھر وہ وقت بھی آگیا جب اتحادی افواج نے جرمنی پر حملہ کردیا اور ہٹلر زیر زمین چھپ گیا ۲۹ اپریل ۱۹۴۵؁ کو ہٹلر نے اپنی دوست سے شادی کرلی اور اگلے دن ۳۰ اپریل کو نا معلوم وجوہات پر خود کشی کرلی۔ یہاں اسکی کہانی ختم ہوتی ہے لیکن ایک بات جو کہنی چاہئے وہ یہ کہ کچھ بھی ہو وہ ایک ذہین شخص تھا جو اپنے گیم کو اپنے حساب سے کھیلنے کا ماہر تھا اور اس کی معاشی اصلاحات نے جرمنی کو ایک معاشی طاقت بنادیا تھا اس کی یہی اصلاحات اسکی مقبولیت کی وجہ بنی۔

یہ مضمون بھی آپ کو پسند آئینگے

جوزف کے اصول

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

کاروبار کریں

کاروبار کیجئے
                    اکثر لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کا مناسب رجحان نہیں ہے۔یہ حقیقت ہےکہ ماحول سازگار نہیں بددیانتی اور بے ایمانی کا راج ہے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ کوئی مشورہ دینے کو تیار نہیں یہ ایک کڑوی حقیقت ہے۔ اگر کسی سے اس کی فیلڈ کے بارے میں آپ نے معلوم کرلیا تو جواب کچھ یوں ہوگا کہ اس فیلڈ میں اب کچھ نہیں رکھا سوچنا بھی نہیں میں خود خسارے میں ہوں وغیرہ۔ تو ایک سیدھا سوال سامنے والے کو چپ کراسکتا ہے وہ یہ کہ اگر اتنا ہی نقصان ہورہا ہے تو آپ کب چھوڑرہے ہیں؟ یا چھوڑدیں ابھی کہ ابھی کیوں نقصان کو گلے لگارہے ہیں؟ اس سے سامنے والے کے مخلص ہونے کا اندازہ ہوجائے گا۔ کسی بھی کاروبار کا جاری رہنا اس کے نقصان میں نہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔کہا جاتا ہے کہ جس کاروبار میں خسارہ نہ ہو وہ کاروبار ہی نہیں ہے بلکل بجا فرمایا لیکن صرف خسارہ ذہن میں رکھ کر کاروبار کا آغاز کرنا یا چھوڑدینا تو کوئی عقلمندی نہیں ہے نا! جو سرمایہ آپ نے کاروبار میں لگایا ہے وہ ایک طرح سے ضایع ہی ہے۔ لیکن یہ ہی کاروبار جب جڑیں مضبوط ہونے کے بعد ریٹرن دیگا تو وہ بہت زیادہ اور دیرپا ہوگا جو آپ کی لائف تبدیل کردیگا۔
                    اسلام نے بھی ہمیں کاروبار کی بہت ترغیب دی ہے اور برکت کا ذریعہ بتایا ہے۔ اس سے نہ صرف آپ اپنا اور اپنے گھر والوں کا بلکہ جو آپ کے پاس کام کرتے ہیں ان کیلئے بھی رزق کمانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بہتر زندگی دیسکتے ہیں پھر کاروبار سے آدمی کا ذہن کھلتا ہے اور وہ نئی نئی باتیں سوچتا ہے۔ نئے تجربے کرتا ہے کاروباری حوالے سے کے اس کو میں اپنے اور دوسروں کیلئے کیسے مزید بہتر بناسکتا ہوں ۔کمانا انبیاء علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ جو شخص ہاتھ پھیلانے سے بچنے اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کام کرتا ہے تو وہ اللہ کا پیارا بن جاتا ہے۔ اور جوسستی کرتا ہے اسکے اوپر کفالت کی ذمہ داری ہے پھر بھی وہ پوری نہیں کرتا ایسے شخص کیلئے سخت وعید ہے۔
                    آپ جس مارکیٹ سے کپڑا خریدتے ہیں یا جس سے سلواتے ہیں یا جہاں سے جوتے وغیرہ لیتے ہیں یا شادی کے انتظامات کے حوالے سے جس سے رابطہ کرتے ہیں یا اس طرح کے جو بھی معاملات کرتے ہیں۔ ان سب سے آپ تعلقات بڑھائیں یہ ہی آپ کے کاروبار میں مدد گار ہوسکتے ہیں اور اچھا مشورہ دے سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک تو آپ ان کے گاہک ہیں پھر وہ سب بھی کاروباری ہیں تو جو مشورہ وہ دےسکتے ہیں کوئی اور نہیں دے سکتا۔ اور ویسے بھی تعلقات آپکی زندگی کی ضرورت ہیں ۔ کیا آپ بغیر کسی سے بات کئے رہ سکتے ہیں! آپ کو بات کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی چاہئے ہوتا ہے جو آپ کو سنے سمجھے اور آپ اسکی سنیں اور کچھ سیکھیں۔
تعلقات کی تازہ مثال
آپ کو پتا ہوگا کہ دکان اور اسٹال کی قیمت میں فرق ہوتا ہے، جو چیز مارکیٹ میں ہزار کی ہو وہ مارکیٹ کے نکڑ پر سات سو کی مل جاتی ہے۔ ایک بار لاہور کی اچھرہ مارکیٹ سے خریداری کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک اسٹال پر شرٹس مل رہی تھیں تو معلوم کیا کے ایسی درجن شرٹس کتنے کی دوگے! تو باتیں شروع ہوگئیں اور تھوڑی بے تکلفی بھی ہوگئی۔ اور اس دوران میں موبائل فون نمبر کا تبادلہ بھی ہوگیا پھر وہیں سے ایک دوست جو گارمینٹس کا کام کرتا تھا اس سے رابطہ کیا اور آرڈر لیا۔ پھر اس سے کچھ سیمپل لئے اور دوست کو دکھائے ہر دکاندار کو سستے میں مال چاہئے ہوتا ہے میں نے ۳۰۰ کے حساب سے شرٹس لیں۔ اور دوست کو ۵۰۰ کے حساب سے دیں جو وہ ۷۰۰ کے حساب سے سیل کرتا ہے ۔اس ایک خریداری والے تعلق نے مجھے محض دو چار دن کی محنت سے ۴۰ ہزار روپے منافع دیا یہ فائدہ ہے تعلقات بڑھانے کا۔اپنی مشاہدے کی صلاحیت بڑھائیے اوراپنے بات کرنے کا طریقہ اور کاروباری مشاورت دیکھئے کے کہاں تک درست ہے۔ اور اس کو بہتر کرنے کی کوشش کیجئے کیونکہ یہ امور کاروبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کو ہماری یہ پوسٹس بھی پسند آئینگی

زیتون کا کاروبار

خرگوش فارمنگ کا کاروبار

 

شطرنج کی ایجاد

شطرنج کا مؤجد
                    شطرنج ایک بہت پیچیدہ کھیل ہے اور یہ کھیلنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ پھر جب کھیلنے والے ایک دفعہ شروع کرلیں تو ختم کئے بغیر نہیں رہ سکتے پھر چاہے یہ ہفتوں یا مہینوں تک چلتا رہے۔ اس لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ شطرنج کھیلنے والے جب کھیلنے بیٹھتے ہیں تو دنیا مافیہا سے تقریبا بے خبر سے ہوجاتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ اس کے مؤجد کے ساتھ اس کھیل کو ایجاد کرنے کے حوالے سے ایک واقعہ جڑا ہوا ہے جو دلچسپ اور عجیب ہے ؟ یہ کھیل چھ صدی عیسوی کو برصغیر میں ایجاد ہوا۔ اس زمانے کا بادشاہ مختلف کھیل کھیلنے کا بہت شوقین تھا۔ لیکن وہ پرانے کھیل کھیل کر اب بور ہوچکا تھا۔ تو اس کی ساتھ والی ریاست سے ایک ریاضی کا ماہر جسکا نام سیسا تھا شطرنج کا کھیل لیکر حاضر ہوا اور بادشاہ کے سامنے اس کھیل کو پیش کیا اور اس کے رول اور قوانین سمجھائے۔ جب بادشاہ نے وہ کھیل کھیلا تو بہت متاثر ہوا اور اس کھیل کو پسند کیا۔

                    پھر اس شخص سے کہا کے ’’مانگو کیا مانگتے ہو؟‘‘ تو اس نے کہا کے ’’اگر آپ مجھے چاول کے دانے دیدیں تو بس مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیئے لیکن شرط یہ ہے کے چاول کے دانے میرے طریقے اور فارمولے کے مطابق آپ دینگے۔‘‘ تو بادشاہ نے پوچھا وہ فارمولا کیا ہے جسکے مطابق تم چاول لینا چاہتے ہو تو اس نے کہا کہ ’’بادشاہ سلامت شطرنج کے چونسٹھ خانے ہیں آپ بس ایسا کریں کہ خانوں کے حساب سے چاول کی مقدار دگنی کرتے جائیں یعنی پہلے خانے میں ایک چاول پھر دوسرے میں دو اور پھر تیسرے میں چار چاول رکھیں اسطرح سے مقدار بڑھاتے جائیں۔‘‘ تو بادشاہ مسکرایا اور کہا’’ بس اتنا ہی اور کچھ نہیں چاہیئے؟‘‘ تو اس نے کہا ’’ جی بس اتنا ہی‘‘ تو بادشاہ نے حکم جاری کیا کے جیسا اس شخص نے ہے ایسے ہی اس کو چاول دیدیئے جائیں شطرنج کے ۶۴ خانوں کے حساب سے اب چاول دینے کا عمل شروع ہوا اور ہی اس کی موت کی وجہ بنا۔

فارمولے کے مطابق چاول کی ادائیگی

                    اب پہلے خانے میں چاول کا ایک دانہ رکھا گیا اور اس کو دیدیا گیا۔ پھر دوسرے خانے میں دو دانے رکھے اور دیدیئے پھر تیسرے میں ۴ چاول کے دانے رکھے پھر چوتھے میں ۸ دانے رکھے اور دیدیئے۔ پھر پانچویں خانے میں ۱۶ دانے رکھے اور چھٹے خانے میں ۳۲ دانے پھر ساتویں خانے میں ۶۴ پھر آٹھویں میں ۱۲۸ پھر نویں میں ۲۵۶ پھر دسویں میں ۵۱۲ پھر گیارہویں میں ۱۰۲۴ پھر بارہویں میں ۲۰۴۸ پھر تیرہویں خانے میں ۴۰۹۶ پھر چودہویں میں ۸۱۹۲ پھر پندرہویں خانے میں ۱۶۳۸۴ پھر سولہویں میں ۳۲۷۶۸ پھر سترہویں میں ۶۵۵۳۶ پھر اٹھارویں میں ۱۳۱۰۷۲ پھر انیسویں میں ۲۶۲۱۴۴ چاول کے دانے آئے۔ اور اب بادشاہ کو کچھ اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ مشکل میں پھنس گیا ہے۔ پھر تیسری قطار کے آخری خانے تک چاول کی تعداد ۸۰ لاکھ تک پہنچ گئی۔

                    اب بادشاہ کے تمام درباری بس چاول گنتے رہتے۔ اب مختصر یہ کہ جب چوتھی قطار یعنی ۳۳ واں خانہ شروع ہوا تو ملک سے چاول ہی ختم ہوگئے۔ اب بادشاہ نے اپنے ملک کے بڑے ریاضی دان بلائے اور کہا کہ وہ حساب لگاکر بتائیں کے شطرنج کے ۶۴ خانے بھرنے کیلئے کتنے چاول چاہیئں اور اس میں کتنے دن لگینگے۔ تو ریاضی دانوں نے کئی دن کے حساب کے بعد بھی سہی اندازہ لگانے سے قاصر رہے۔ اور آج کے دور میں اسکا اندازہ بل گیٹس نے لگایا ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک کے ساتھ انیس زیرو لگائیں تو اتنے چاول چونسٹھ خانوں میں آئینگے ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم ایک بوری میں ایک ارب چاول بھریں تو چاول پورے کرنے کیلئے ہمیں اٹھارہ ارب بوریاں درکار ہونگی ۔
                    قارئین یہ وہ حساب ہے جو عام کیلکولیٹر سے نہیں لگایا جاسکتا اس کیلئے کمپیوٹر کی ضرورت ہوگی آپ بھی یہ چیک کر سکتے ہیں اس کو مینجمنٹ کی زبان میں چیس بورڈ رائس کہا جاتا ہے اب دیکھتے ہیں سیزا کا کیا بنا اور بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا کیا قارئین جب بادشاہ نے دیکھا کے ملک سے تمام چاول ختم ہوگیا ہے اور شطرنج کے مؤجد نے اس کو برا پھنسایا ہے تو اس نے انتہائی غصے میں سیزا کا سر قلم کرنے کا حکم دیا اور یوں شطرنج کا ایجاد کرنے والا مارا گیا ۔

ہماری یہ کاوش بھی اچھی ہیں

بادشاہ کے تین سوال اور وزیر کے جواب

حرام کھانے کے اثرات

زیتون کا کاروبار

زیتون کا کاروبار
                    آج جس پھل کا ذکر میں آپ سے کرنے جارہا ہوں وہ ہرہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ چاہے کھانے میں یا لگانے میں یا کاروبار کرنے میں یہ سب کیلئے فائدہ کا باعث ہے اور اسکا ذکر قرآن پاک میں بھی ملتا ہے۔ اور اسکی اہمیت حکیم اور ڈاکٹر کے نزدیک بھی بہت زیادہ ہے۔ لیکن آج بدقسمتی سے نہ اسکا استعمال عام ہے نہ اس کا کاروبار کرکے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اسکا نام زیتون ہے اور آپ کو شاید نہ معلوم ہو کہ اسکا درخت ہزار سال تک پھل دے سکتا ہے! یعنی جس نے اسکا درخت لگایا وہ اپنی نسلوں تک کو فائدہ پہنچاکر چلاگیا۔

                    پاکستان میں اسکا درخت لگانے کی فضا بہت سازگار ہے۔ اور یہاں بھی اچھی نسل کی کاشت بڑے آرام اور آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ اسکا تیل کولیسٹرول فری ہوتا ہے یہ دل کے مریض کیلئے فائدہ مند ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جاسکتا ہے اگر آپ کھانا صرف زیتون تیل میں پکاکر کھائیں تو انشأاللہ آپ کو دل کا مرض لاحق نہیں ہوگا۔ حدیث میں بھی اسکا ذکر ملتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔
زیتون کا کاروبار
                     قارئینابھی آپ کو صرف کھانے کے فائدے وہ بھی بہت تھوڑے گنوائے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔اور شاید پھر کسی مضمون میں اس پر تفصیل سے بات کرونگا ابھی تو اس کی کاروباری اہمیت پر بات کررہا ہوں۔ قارئین زیتون کا تیل اٹلی اور فلپائن وغیرہ سے آتا ہے جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا معیاری اور خالص نہیں ہے ۔جبکہ پاکستان کا زیتون کا تیل خالص ہے اور دنیا میں مانا جاتا ہے ۔زیتون کا ایک درخت اگر اچھی دیکھ بھال کی جائے تو ۵۵ کلو سے زیادہ پھل دے سکتا ہے ۔اور اگر دیکھ بھال نہ کی جائے تو ۳۰ کلو تک پھل کی امید ہے۔

                    آپ ۲۵ کلو ایک درخت سے فرض کرکے چلیں تو ایک ایکڑ میں ۴۰۰ درخت ہیں۔ تو آپ کو ایک ایکڑ سے دس ہزار کلو پھل حاصل ہوگا ۔اور تیل اس میں سے تقریبا بیس فیصد کے حساب سے نکلتا ہے تو آپ حاصل ہونے والا تیل ۲۰۰۰ کلو تک ہوگا۔ جو ایک کم توجہ پر بھی بہت اچھا ایوریج ہے۔کیونکہ یہاں پاکستان میں جو باہر کا تیل مل رہا ہے وہ خالص بھی نہیں ہے پھر بھی وہ آج کی تاریخ میں ۸۰۰ سے ۱۰۰۰ روپے کلو کے حساب سے فروخت ہورہا ہے ۔اگر ہم یہ کم سے کم حساب کو بھی لیکر چلیں تو ۸۰۰ فی کلو کو ۲۰۰۰ سے ضرب دیں تو یہ ۱۶۰۰۰۰۰ جی یہ سولہ لاکھ روپے بنتا ہے حالانکہ پاکستانی تیل تقریبا آج جب مضمون لکھا جارہا ہے ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ تک فروخت ہورہا ہے۔ یہ حساب سالانہ ہے۔

                      پاکستان میں اسکا ادارہ جو زیتون پر کام کررہا ہے وہ چکوال میں ہے۔ اور پودے بھی آپ کو وہیں مل جائینگے اوروہاں ایک سہولت اور بھی ہے حکومت کی طرف سے کے اگر آپ اپنا زیتون وہاں لیکر جائیں تو وہ آپ کو زیتون سے بلکل فری میں تیل نکال کر دینگے۔ کیونکہ حکومت ابھی ترغیب دےرہی ہے لوگوں کو زیتون لگانے کی تو کچھ سہولت بھی فراہم کررہی ہے۔
                    اب اس کے لگانے کا طریق کار دیکھ لیتے ہیں یہ ایک ایکڑ میں آپ زیتون کے پودے اسطرح سے لگائینگے کہ چاروں طرف سے تقریبا دس دس فٹ کی جگہ چھوڑنی ہے یعنی ایک پودے کے بعد دوسرا پودا دس فٹ کے فاصلے پر لگانا ہے۔ اسطرح دائیں بائیں اوپر نیچے جگہ چھوڑنی ہے اور پودا لگانے کیلئے دو فٹ چوڑا اور دو فٹ ہی گہرا گڑھا کھودنا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دو دن کا کام نہیں ہے آپ سالوں سال کیلئے پرمنینٹ کاروبار کرنے جارہے ہیں اسطرح ایک ایکڑ میں ۴۰۰ پودے آسکتے ہیں۔ پانی یہ نارمل لیتے ہیں جیسے دوسرے پودے لیتے ہیں ۔

یہ پوسٹ بھی اچھی ہیں

امپورٹ ایکسپورٹ لائسینس حاصل کرنا

حرام کھانے کے انسانی زندگی پر اثرات

جوزف کیسے کامیاب ہے

کاروبار میں خود سے وفاداری

جوزف کے اصول

                    جوزف رافیل ایک بزنس مین ہے اور فاسٹ فوڈ کی ایک بہت بڑی چین کا مالک ہے۔ شہر میں اسکے پچاس سے زیادہ ریسٹورینٹ ہیں ۔ وہ دن میں اپنے ریستوران میں گھومتا رہتا اور وہاں کام کرنے والوں سے ملتا گپ شپ کرتا پھر کچھ دیر میں دوسرے ریستوران کی طرف نکل جاتا۔ پھر شام کو ایک جگہ بیٹھ کر چائے کافی وغیرہ پیتا اور دوستوں سے ملتا پھر اپنے گھر چلاجاتا یہ اسکا روز کا معمول تھا۔ جوزف کے پاس جب کوئی ایک دفعہ جاب پر آجاتا تو مشکل تھا کہ پھر وہ جاب چھوڑکر چلاجائے پندرہ سال سے زیادہ پرانے لوگ اس کے پاس کام کررہے تھے۔ حالانکہ یورپ وغیرہ میں ایک نوکری سے چپکے رہنے کو نفسیاتی مسٔلہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک ملازم سے پوچھا گیا کہ تم یہاں سے کام کیوں نہیں چھوڑتے اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ خود جوزف ہے پھر اس نے کہا کہ جوزف یہ سب کیسے کرتا ہے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
                     جوزف کا ملازم رکھنے کا اپنا طریقہ ہے اگر کوئی شخص اس کے پاس ملازمت کیلئے آتا ہے تو وہ اس سے کچھ سوالات کرتا ہے ۔اگر وہ ان سوالات میں پورا اترتا ہے تو ملازمت کا اہل ہوتا ہے۔ نہیں تو جوزف معذرت کرلیتا ہے وہ سوالات یہ ہیں!
۱۔ جوزف اس سے پوچھتا ہوں کہ وہ عبادت کرتا ہے؟ اگر وہ ہاں کرتا ہے تو وہ میرے پہلے امتحان میں پاس ہوجاتا ہے یعنی اگر مسلمان ہے تو مسجد جاتا ہے یا ہندو ہے تو کیا مندر جاتا ہے اسی طرح عیسائی کا چرچ جانا جو جس مذہب سے تعلق رکھتا ہو لیکن ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے تعلق بنائے رکھے۔
۲۔جوزف پوچھتا ہے کہ کیا وہ شادی شدہ ہے اگر نہیں تو اس کو پابند کرتا ہے کہ ایک سال کے اندر تمہیں شادی کرنی ہوگی اور اگر کوئی پہلے سے شادی شدہ ہے تو اس سے اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں فیملی کو کتنا ٹائم دیتا ہے اگر روز کے چار گھنٹے اور ہفتے میں دو دن کہتا ہے تو ٹھیک ورنہ جوزف اس کو منع کردیتا ہے۔
۳۔ جوزف کہتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ سال میں چھٹیاں لیتا ہے اور فیملی کے ساتھ کہیں جاتا ہے اور دوستوں میں وقت گزارتا ہے اور یہ کہ وہ اوور ٹائم تو نہیں لگارہا اگر وہ اوور ٹائم لگاتا ہے اور فیملی کو سال میں ایک دفعہ کہیں لیکر نہیں جاتا تو جوزف اس کو بھی ملازم نہیں رکھتا۔
۴۔ جوزف معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ایکسر سائز کرتا ہے جاگنگ وغیرہ یا جم جاتا ہے یا نہیں اگر اس کا جواب نفی میں ہوتا ہے تو جوزف اس سے معذرت کرلیتا ہے۔
۵۔ اور آخر میں جوزف یہ معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ مطالعہ کرتا ہے روزانہ کے اخبارات یا کوئی اچھی کتاب پڑھتا ہے اگر ہاں تو اس کو رکھ لیتا ہوں نہیں تو منع کردیتا ہوں۔

کاروباری یا ذاتی سوالات؟

                    اب دیکھا جائے تو یہ سب باتیں ذاتیات میں آتی ہیں اور ملازمت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن جوزف کا کہنا ہے کہ یہ ذاتی چیزیں ضرور ہیں لیکن ان سے پتا چلتا ہے کہ ایک شخص اپنے آپ سے کتنا وفادار ہے۔ جب اپنی فیملی کو ٹائم دیگا تو کام میں بھی سہی ٹائم دے پائے گا اور جب اپنی صحت کا خیال رکھیگا تو دوسروں کی صحت کی بھی فکر کریگا۔ اور کام میں کارکردگی بھی اچھی دکھائیگا اور جب مطالعہ کریگا تو کچھ نیا سیکھے گا اور نیا کرکے دکھائے گا اور جو اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا تو وہ اپنے کام سے کیسے وفا کریگا۔
                   جو شخص اپنے ساتھ وفادار نہیں وہ کسی سے یا اپنے کام سے کیسے وفادار ہوگا۔ ہر انسان کی وفا کا آغاز پہلے اس کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اگر وہ اپنے آپ سے اور اپنے اللہ سے دھوکہ کررہا ہے تو پھر کسی سے بھی دھوکہ کرسکتا ہے۔ اور جو خود اچھی عادات سے محروم ہو تو وہ اپنی فیملی اور گھر والوں کو کیسے نوازسکتا ہے ان کو اچھائی کی طرف کیسے لیجاسکتا ہے؟ جوزف یہ سب عادات اور کوالٹیز دیکھ کر کسی کو اپنی کمپنی میں ملازمت دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی پتا چل گئی ہوگی کہ لوگ جوزف کو چھوڑنے کو کیوں تیا ر نہیں ہیں اور عرصہ دراز سے وہیں کام کئے جارہے ہیں۔

ہماری یہ پوسٹ بھی دیکھیں

ہٹلر کی تاریخ

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

خرگوش فارمنگ

خرگوش فارمنگ

          قارئین خرگوش فارمنگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے۔  جس کو پاکستان میں بھی بہت آسانی اور سہولت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے دوست کوئی ایسا کام ڈھونڈتے ہیں جو ابھی کوئی نہیں کررہا ہو یا بہت کم پیمانے یا جگہ پر ہورہا ہو۔ تاکہ اس میں مارکیٹ جلدی اور اچھے سے بنائی جاسکے۔ ان کے لئے بہترین مشورہ خرگوش فارمنگ کا ہے یہ کام پاکستان میں ابھی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور کرنے اور منافع کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔

                    اس کی کھال بھی فائدہ مند ہے اور گوشت بھی اس وجہ سے یہ برائیلر مرغی کے کام سے سو گنا بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا گوشت حلال ہے لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان میں نہیں کھایا جاتا ۔ اس کی ایک وجہ لوگوں کو اس کام کی طرف توجہ نہ دینا بھی ہے کیونکہ اگر اس کو مارکیٹ میں لایا جاتا تو ضرور لوگ اس کی طرف  متوجہ ہوتے۔

                     اب سوال یہ ہے کہ بالفرض اگر اس کا گوشت آپ کی تمام تر  کوششوں کے باوجود بھی  پاکستان میں نہیں کھایا جاتا۔ اور لوگ اسے پسند نہیں کرتے تو بھی پریشانی کی بات نہیں اسکا گوشت باہر بھی بھیجا جاتا ہے۔ اس کے کنٹیکٹ نمبر آپ کو نیٹ پر آسانی سے مل جائینگے۔ جو اس کا کام کرتے ہیں اور مال باہر بھیجتے ہیں اور اچھا منافع کمارہے ہیں بس آپ کو خرگوش پالنا ہے اور اسکی نسل بڑھانی ہے۔ پھر اسکو ان بیوپاریوں کو حوالے کردینا ہے پھر آگے ان کا کام شروع ہوتا ہے۔اس میں انویسٹ منٹ بھی کافی کم لگتی ہے اسی وجہ سے اسے کوئی بھی شروع کرسکتا ہے کوئی مسٔلہ کی بات نہیں ہے۔ 

خرگوش کی اقسام

                  سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ خرگوش کتنی قسم کا ہوتا ہے اور اس میں سے ہمارے مطلب کی نسل کونسی  ہے۔ جس کو ہم پال کر گوشت  حاصل کرسکتے ہیں۔  خرگوش کی دنیا  میں بے تحاشا اقسام پائی جاتی ہیں۔ کچھ صرف شوق کیلئے پالے جاتے ہیں یہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ کچھ گوشت کیلئے پالے جاتے ہیں یعنی آپ انکا کاروبار کرتے ہیں۔ ایک قسم جو آسٹریلین ہے اصل میں یہ ہے گوشت حاصل کرنے کیلئے جو آپ کو پالنی ہے۔

یہ وہ نسل ہے اگر انکی خوراک اچھی ہو تو ان کو تقریبا چار کلو تک کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان کی ایک پہچان یہ ہے کے یہ سفید ہوتے ہیں اور ان کے چہرے پر کالے دھبے ہوتے ہیں۔  یہ آپ کو اکثر جگہ مل جاتے ہیں جیسے کراچی میں صدر میں اور ملتان میں  دربار کے علاقے میں اور لاہور میں بھی آ  سانی  سے مل جاتے ہیں۔ خرگوش کہاں سے  لینا ہے یہ مسٔلہ نہیں ہے۔   یہ کچی زمین میں خوش رہتے ہیں اور اپنے گھروندے بناتے ہیں۔دیہات میں تو ان کو پالنا اور آسان ہوجاتا ہے۔ بس آپ کو چار دیواری بناکر ان کو چھوڑ دینا ہے۔ ان کو گیدڑ، کتے، اور  بلیوں سے ان کو بچانا ہے۔

طریقہ کار

یہ سردی ہو یا گرمی زمین کے نیچے رہنا پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ جب گرمی ہوتی ہے تو زمین اندر سے ٹھنڈی ہوتی ہے اور جب سردی  ہوتی ہے تو زمین اندر سے گرم ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ گیدڑ کتے وغیرہ اسکا شکار صرف اوپری حصے میں کرتے ہیں۔ جب یہ اپنے بل میں چلے جاتے ہیں تو یہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اور بچے بھی وہیں دیتے ہیں۔ لیکن اب چونکہ لوگ اسکو پالنے کی طرف آرہے ہیں تو کچھ جدت ان کو پالنے میں بھی آرہی ہے۔ اب کچھ لوگ ان کو پنجروں میں پال رہے ہیں لیکن کچھ الگ طرح سے پنجرے کی زمین میں مٹی بھردی جاتی ہے۔ تاکہ یہ اس میں بل بناسکیں۔ کچھ دڑبے بناکر کام کررہے ہیں۔

پانی اور خوراک ان کو آپ نے روز دینی ہے۔پانی کوشش کریں کہ صاف دیں کیونکہ یہ صاف پانی پسند کرتا ہے اور زیادہ پیتا ہے۔  چارے میں آپ ان کو پھل اور سبزی کے چھلکے ڈال سکتے ہیں پالک اور گاجر اسکو بہت پسند ہے۔ اور کھیت میں اگنے والا چارا بھی یہ کھاتا ہے۔ایک اہم بات جو آپ کو ذہن میں رکھنی ہے وہ یہ کہ ان کو کم مقدار میں نہیں پالنا ہے۔ پھر ان سے فائدہ نہیں ہونے والا ان کو آپ بڑی تعداد میں پالنا ہے۔  کیونکہ ایکسپورٹر آپ سے ان کی بڑی تعداد لینگے کم مال نہیں لینگے۔

ان کا گوشت بہت اچھا ہوتا ہے آپ پال کر اسکا گوشت خود بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ مچھلی اور خرگوش کا گوشت سب سے کم موٹاپا لاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا ہمیں اندازہ نہیں ہے لیکن باہر اس کی اہمیت لوگوں کو معلوم ہے جبھی وہ اس کو کھاتے بھی ہیں اور اس کی کھال استعمال میں بھی لاتے ہیں۔ اسکا گوشت گرم نہیں ہوتا گرمی میں بھی اس کو بلا جھجھک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ پوسٹ بھی دیکھیں

یہ بھی دیکھیں

کاروبار کریں

زیتون کا کاروبار

حرام کھانے کے اثرات

حرام کھانے کے اثرات
                    وہ جب اپنے استاد کے ساتھ تھا تو اسکے استاد نے اسے مزدوری پر لگادیا۔ وہ بحری جہاز میں مال رکھنے اور نکالنے پر مامور تھا سارا دن کام کرنے کے بعد جب معاوضہ ملتا تو وہ استاد کو لاکر دیتا اور استاد جی بس دو وقت کے کھانے کے پیسے نکال کر باقی خیرات کردیتے تھے۔ اس نے ایک دن اس عمل کی حکمت معلوم کرنے کی کوشش کی تو استاد جی نے جواب دیا کے پہلے گیارہ مہینے ایسا ہی کرو پھر اسکا جواب بھی دیدونگا۔چنانچہ اس نے گیارہ مہینے یہ کام کیا مال لوڈ کرتا یا ان لوڈ کرتا پھر گیارہ مہینے پورے ہوگئے۔ تو ایک دن استاد جی نے کہا کہ کل جب تم کام پر جاؤ تو کام نہیں کرنا۔ بلکہ کوئی بھی بہانہ کرکے لیٹ جانا کہ میرے سر میں یا کمر میں درد ہے۔ پھر جب چھٹی کا ٹائم آئے تو اپنا معاوضہ لیکر آجانا۔

                  اس نے ایسا ہی کیا کام پر پہنچ کر ہائے ہائے کرنے لگ گیا اور بہانا کیا کے بہت تکلیف ہے کام تھوڑی دیر میں شروع کرتا ہوں۔ پہلے تھوڑا لیٹ جاتا ہوں تو یہ بول کر وہ لیٹ گیا اور چھٹی تک اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر شام کو معاوضہ لیکر اپنے استاد کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔اب استاد جی نے کہا کہ وہی کرو کہ دو وقت کی روٹی کے پیسے نکال کر باقی خیرات کردو۔ تو جب وہ ایسا کرنے لگا تو اپنی نئی کیفیت پر حیران رہ گیاکہ آج اسکا خیرات کا بلکل دل نہیں کررہا تھا اور ایسا ان گیارہ مہینوں میں پہلی بار ہوا تھا۔

                    پھر وہ کھانے کیلئے بیٹھا اور خوب سیر ہوکر کھایا لیکن اسکی طبیعت اس طرح نہیں بھری۔ جیسے اس سے پہلے سیر ہوتی تھی پھر جب سونے کیلئے لیٹنے لگا تو اس کو انجانے خوف کا احساس ہوا تو اس نے ان گیارہ مہینوں میں پہلی بار کنڈی لگائی۔ اور پھر صبح اٹھا تو بوجھل بوجھل تھا نیند پوری نہیں ہوئی تھی پھر پہلی دفعہ اس کو لگا کہ جسم سے بو آرہی ہے۔ تو اس نے زندگی میں پہلی دفعہ پرفیوم کا استعمال کیا اور پھر نماز پڑھنے گیا تو کوئی لذت کا احساس نہیں ہوا۔
                    اس نے اپنی کیفیات اپنے استاد جی کو بتائیں تو وہ مسکراکر بولے بیٹا ’’یہ سب حرام کھانے کا کمال ہے جو تم نے کل کام نہ کرنے پر پیسے لیکر آگئے تھے۔ حرام آپ کی زندگی کی نعمتوں کا جوہر اڑادیتا ہے۔ آپ انسان سے جانور بن کی طرف چلے جاتے ہیں‘‘ استاد جی نے کہا کہ’’ میرے بچے حرام ہمیشہ بھوک کو بڑھادیتا ہے۔ نیند میں اضافہ کردیتا ہے اور نیند کی لذت اور سکون ختم کردیتا ہے۔ جسم میں بو پیدا کرتا ہے اور دل تنگ کردیتا ہے۔ پھر آپ کو کسی کو کھلانے میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہوگی۔ آپ کا ایک دن کا حرام کھانا آپ کو چالیس دن ستاتا ہے اور ان چالیس دنوں میں آپ جھوٹ کی طرف بھی جائینگے غیبت بھی کرینگے۔ اور آپ کے دل میں لالچ بھی آ جائیگا اور آپ دوسروں کو دھوکا بھی دینگے۔ اور آپ کے اندر کسی بھی طرح امیر بننے کی خواہش ہوگی چاہے کوئی بھی دو نمبر طریقہ ہو ۔
                  یہ سب سن کر وہ ڈرگیا اور اس نے استاد جی سے پوچھا کہ ان سب اثرات سے بچنے کیلئے مجھے کیا کرنا ہوگا تو ان ہوں نے کہا کہ ’’روزہ رکھو اور خاموشی اختیار کرو یہ تمہیں اندر سے پاک کردینگے‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے تو اس نے کہا میں پاکستان سے آیا ہوں کیا میرا سفر رائیگاں جائیگا؟ انہوں نے نفی میں سر ہلایا اور کہا ’’ہرگز نہیں میں نے چالیس سال کی تپسیا کے بعد جو سیکھا وہ میں بتاتا ہوں یہ کائنات ایک صندوق ہے۔ اس پر اسرار کا موٹا تالا پڑا ہے یہ تالا ایک اسم اعظم سے کھلتا ہے اور وہ اسم اعظم ہے حلال ــ‘‘ آپ اپنی زندگی میں حلال شامل کرتے جاؤ تالا اپنے آپ کھلتا جائیگا۔ اس نے پوچھا ’’ حرام کی پہچان کیا ہے؟‘‘ وہ بولے’’ دنیا کی ہر وہ چیز جسے چکھنے‘سننے‘دیکھنے اور چھونے کے بعد آپ کے دل میں لالچ پیدا ہوجائے وہ حرام ہے آپ اس حرام سے بچو یہ آپ کے وجود کو قبرستان بنادیگا یہ آپ کو اندر سے اجاڑ دیگا یہ آپ کو بے جوہر کردیگا ماحول پر چھائی دھند چھٹ گئی اور سورج چمکنے لگا۔

یہ پوسٹ بھی اچھی ہیں

بادشاہ کے تین سوال اور وزیر کے جواب

شطرنج کی ایجاد

پاکستان میں امپورٹ ایکسپورٹ لائیسنس حاصل کرنا

پاکستان میں امپورٹ ایکسپورٹ لائیسنس حاصل کرنا

                  امپورٹ ایکسپورٹ ایک بہت اچھا کاروبار ہے جو اس کام میں ہیں وہ اچھا کمارہے ہیں۔ لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جس میں لائیسنس کا ہونا بھی شامل ہے لائیسنس لینے کے بعد آپ پوری دنیا سے کچھ بھی منگواسکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ مال پاکستان منگوانے کی اجازت ہو۔ اب اسکو حاصل کرنے کا کچھ طریقہ کار ہے وہ مرحلہ وار بتانے کی پوری کوشش کرونگا۔ سب سے پہلے آپ کو اپنا این ٹی این یعنی نیشنل ٹیکس نمبر بنوانا پڑتا ہے۔ یہ ہر شہر میں سرکاری دفتر سے بن جاتا ہے اور اسکی کوئی فیس بھی نہیں ہوتی۔ بس فارم فل کرکے دیں اور بس لیکن پھر بھی آپ گھر بیٹھے کام کرانا چاہتے ہیں تو اسکے بندے دفتر کے باہر مل جائینگے۔ جو ایک مخصوص رقم لیکر آپ کو گھر بیٹھے یہ نمبر لاکر دیدینگے۔

                  نیشنل ٹیکس نمبر میں آپ کو اپنی کچھ معلومات دینی پڑتی ہیں۔ جیسے آپ کی انکم اور آپ کے اثاثہ جات وغیرہ کی۔اسکے بعد باری آتی ہے سیلز ٹیکس نمبر کی اس میں آپ کی کمپنی کا سارا ریکارڈ اور کمپنی کی حیثیت یا ورتھ وغیرہ کے معاملات آجاتے ہیں۔ اس کے بعد فرم یا کمپنی رجسٹر کرنے کا نمبر آتا ہے یہ بھی آپ خود جاکر کرواسکتے ہیں۔ یا وکیل کے ذریعے آسانی سے کرواسکتے ہیں اس سے ٹائم بچ جاتا ہے ہاں تھوڑا اضافی پیسہ لگ جاتا ہے۔ اسطرح امید ہے کے ایک ہفتے میں آپ کی کمپنی رجسٹرڈ پوجائیگی۔ اس میں وہ شناختی کارڈ اور جو جگہ ہے اس کے بل کی کاپی وغیرہ اور پی ٹی سی ایل نمبر ہے تو وہ بھی فراہم کرنا ہوگا اگر جگہ اپنی ہے تو کاغذات اور اگر کرائے کی ہے تو مالک کے ساتھ جو ایگریمنٹ ہے اسکی کاپی چاہئے ہوگی۔

                   پھر جب یہ سب ہوجائے تو آپ کو چیمبر آف کامرس کی رکنیت یعنی ممبر شپ بھی چاہئے ہوگی۔ جس کیلئے آپ کو ایک اپلیکیشن دینی ہوگی اور اس کی بھی کچھ فیس ہے۔ اس کے بعد آپ کو جانا ہے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں وہاں سے آپ کو ایک وی باک نمبر لینا ہے اس کے بعد آپ کے ڈاکومینٹیشن مکمل ہیں۔اب آپ پوری دنیا سے کچھ بھی منگواسکتے ہیں کسی بھی ملک کی کسی بھی کمپنی سے ڈیل کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کھلونے کا کنٹینر یا کھاد یا کوئی اور لگژری آئٹم آپ منگواسکتے ہیں۔ لیکن جو آئٹم آپ منگوارہے ہیں اگر وہ کسی محکمے سے کنٹرول کیا جاتا ہے تو آپ کو اس محکمے کو اطلاع کرنی ہوگی جیسے اگر آپ کھاد منگوارہے ہیں تو آپ کو محکمے زراعت کو اطلاع کرنی ہوگی کہ یہ مال میرا باہر سے آنے والا ہے۔ اور جب ٓپکا مال آجائے تو پھر ایک دفعہ اور آپ کو بتانا ہوگا کہ سر جو مال کی اطلاع میں نے آپ کو دی تھی وہ مال پورٹ پر آگیا ہے۔

                 بس اس طرح سے یہ کام ہوگا اور بہت اچھا کام ہے لوگ لاکھوں نہیں کروڑوں کمارہے ہیں بس لائسنس بنوانے کی دیر ہے۔ دیکھا گیا ہے کے کھاد کی پاکستان میں کمی ہے اور یہ چائنا سے بہت امپورٹ ہورہی ہے یا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی کس چیز کی ضرورت ہے کیا ٹرینڈ چل رہا ہے آپ اس حساب سے مال منگوانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔

یہ پوسٹس بھی آپ کو پسند آئینگی

زیتون کا کاروبار کرنا

خرگوش فارمنگ کا کاروبار کرنا