ہٹلر

ہٹلر کی تاریخ

                  دوستو ہٹلر تاریخ کا ایک ظالم اور بھیانک کردار گزرا ہے۔ جسے آج بھی لوگ ظلم کی مثال دینے کیلئے اسکا نام استعمال کرے ہیں۔ یہ شخص جنگ عظیم دوم کی وجہ بنا تھا اور لاکھوں انسانوں کا قاتل تھا۔ اسکا پورا نام ایڈولف ہٹلر تھا اور اپریل ۱۸۸۹؁ کو آسٹریلیا میں پیدا ہوا یہ سفاک ترین لیڈر تھا۔ یہ شروع میں فوج میں نہیں جانا چاہتا تھا بلکہ اسکو فائن آرٹ میں دلچسپی تھی اور وہ اس میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتا تھا ۔ لیکن اس نے فائن آرٹ میں داخلے کیلئے دو مرتبہ کوشش کی لیکن دونوں دفعہ ریجیکٹ کردیا گیا۔ پھر اس میں ناکامی کے بعد ہٹلر اس شہر سے چلاگیا۔ پھر اس نے فوج میں شمولیت کیلئے درخواست دی اور اسطرح وہ جرمن فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوگیا۔ پھر ایک جنگ میں یہ لڑتے ہوئے زخمی ہوا جس کی وجہ سے اسے بہادری دکھانے پر دو ایوارڈ بھی دئیے گئے۔

                    ہٹلر کو اس وقت بہت غصہ آیا اور بہت دکھی تھا جب ۱۹۱۸؁ میں جرمنی نے ایک جنگ میں ہتھیار ڈالدئیے کیونکہ اسے جرمنی سے بہت محبت تھی اور وہ جرمنی کی یہ ذلت برداشت نہیں کرپارہا تھا۔ وہ اسکا ذمہ دار جرمنی کے اس وقت کے لیڈر کو سمجھ رہا تھا کے انہوں نے اپنے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔پھر اس پہلی جنگ عظیم کے بعد ہٹلر واپس چلاگیا اور ملٹری کیلئے ایک افسر کے طور پر فرائض پورے کرتا رہا لیکن دل میں ابھی بھی اس شکست کا غم تھا۔ وہ اپنے فرائض میں جو کام کرتا تھا وہ جرمن ورکر پارٹی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا تھا پھر وہ اس کے کام اور پالیسیوں سے بہت متاثر ہوا لہذا اس نے ۱۹۱۹؁ میں اسی میں شمولیت لے لی ۔ اس کے کچھ عرصے بعد پارٹی نے نام تبدیل کردیا اسکا نیا نام نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکر پارٹی رکھدیا اور اسکا سمبل ہٹلر نے خود بنایا اور اس پارٹی کو نازی بھی کہا جانے لگا۔

ہٹلر کی تقاریر

                    ہٹلر بات اور تقریر کرنے کے ہنر کو جاننے والا شخص تھا۔ جس نے اپنی دھواں دار تقریروں سے جرمن عوام کو یہ احساس دلایا کے وہ فاتح قوم ہیں اور طاقتور ہیں۔اس طرح ہٹلر جرمن عوام کے دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب ہوگیا وہ جب ہزاروں لاکھوں کے مجمعے میں بات کرتا تو لوگ اس کی باتوں کے سحر میں کھوجاتے۔پھر اپنی قابلیت کی بنا پر وہ پارٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا۔ پھر اسی دور میں اس پر بغاوت کا الزام لگا اور جیل میں ڈالدیا گیا لیکن وہ ان چیزوں سے نہیں گھبرایا اور جیل میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے سازشی عناصرکے چہروں سے نقاب ہٹایا اس کتاب کا نام مائی اسٹرگل تھا۔ اس کتاب میں اس نے بتایا کے یہ لوگ جرمنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور یہ بھی لکھا کہ کیسے جرمنی کو آگے ترقی کی راہ پر لایا جاسکتا ہے۔

                    اس کے بعد ہٹلر صدر کے عہدے کیلئے الیکشن میں کھڑا ہوا اور مخالف کو بھاری اکثریت سے شکست دی۔اس کو چانسلر بنادیا گیا اس نے اپنے اختیارات کو بڑھانے کیلئے ایک قانون بنایا جس سے اس کو تقریبا تمام اختیارات مل گئے اب وہ آئین کے خلاف بھی فیصلے کرسکتا تھا۔پھر اس نے ملک میں صرف اپنی پارٹی کو طاقتور بنانے کیلئے مخالف پارٹی پر دباؤ ڈالے اور اسطرح ۱۹۳۳؁ صرف نازی پارٹی ہی جرمنی کی پارٹی رہ گئی۔ اس کے مقابل آنے والوں سے ہٹلر کا رویہ سخت ہوتا تھا پھر ایک وقت آیا کہ فوج کے اختیارات بھی ہٹلر کے قبضے میں آگئے اور یوں وہ جرمنی کے سیاہ سفید کا مالک ہوگیا۔

دوسری جنگ عظیم کا آغاز

                    قارئین ہٹلر کو یہودیوں سے سخت نفرت تھی اور اس نے جرمنی میں ان کیلئے سخت قوانین بنائے اور ان کو دباؤ میں رکھا انکو کاروبار کرنے سے روکا گیا اور ان کے بچوں کو بھی اسکول جانے سے روکا گیا اور حد مقرر کردی گئی اور ان کے پاسپورٹ پر بھی نشانی لگادی گئئ جس سے ان کی الگ پہچان واضح ہو۔ پھر اس نے یہودیوں کو قتل کرنا بھی شروع کیا اور پھر اس نے پولینڈ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا کیونکہ پولینڈ نے اس کی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔لیکن اس سے پہلے پولینڈ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرچکا تھا اسلئے اسکے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی پر حملہ کردیا۔ اور دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔

                    اس جنگ میں ہٹلر نے یہودیوں کو چن چن کر مارا اور اس طرح اسکا نام یہودیوں میں خوف کی علامت بن گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے کافی ممالک پر حملہ کرکے قبضہ کئے اور پھر اس نے سوویت یونین پر حملہ کرنے کیلئے فوج بھیجی اور کافی حصہ پر قبضہ کرلیا۔ اسی دوران جاپان نے ہٹلر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور اس سے ہٹلر کی اور ہمت بڑھی اور اس نے سوویت یونین اور برطانیہ وغیرہ پر حملے کا ارادہ کیا۔ لیکن یہ تینوں بہت طاقتور ممالک تھے سوویت یونین کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی اور برطانیہ اس وقت کا سب سے بڑا ملک تھا اور امریکہ ایٹمی طاقت تھا اس کا اندازہ ہٹلر کو بھی تھا کہ اب سامنا طاقتور دشمن سے ہے۔

                    ہٹلر کی فوج کو پے در پے شکست ہونے لگی اور جرمن کے بہت سے لیڈر کو لگنے لگا تھا کہ ہٹلر اب ہارنے کے قریب ہے اور وہ صرف اسی کو سارے معاملے کا سزاوار ٹھہراتے تھے۔ پھر ہٹلر پر اسکے اپنے ہی لوگوں کی طرف سے قاتلانہ حملے بھی ہوئے لیکن یہ ہر بار بچ گیا پھر وہ وقت بھی آگیا جب اتحادی افواج نے جرمنی پر حملہ کردیا اور ہٹلر زیر زمین چھپ گیا ۲۹ اپریل ۱۹۴۵؁ کو ہٹلر نے اپنی دوست سے شادی کرلی اور اگلے دن ۳۰ اپریل کو نا معلوم وجوہات پر خود کشی کرلی۔ یہاں اسکی کہانی ختم ہوتی ہے لیکن ایک بات جو کہنی چاہئے وہ یہ کہ کچھ بھی ہو وہ ایک ذہین شخص تھا جو اپنے گیم کو اپنے حساب سے کھیلنے کا ماہر تھا اور اس کی معاشی اصلاحات نے جرمنی کو ایک معاشی طاقت بنادیا تھا اس کی یہی اصلاحات اسکی مقبولیت کی وجہ بنی۔

یہ مضمون بھی آپ کو پسند آئینگے

جوزف کے اصول

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

جواب دیجئے