چنگیز خان

چنگیز خان

جنگجو چنگیز خان

                    جب تاریخ میں جنگجو بادشاہوں کی بات آتی ہے۔ تو اس میں ایک نام چنگیز خان کا بھی لیا جاتا ہے۔ وہ ایک جنگجو اور ظالم سفاک حکمران گزرا ہے۔ یہ وہ حاکم تھا جس نے بہت کم وقت میں بیشر دنیا کو فتح کیا،اور دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھدیا۔ اسے بربریت اور خوف کی علامت جانا جاتاتھا۔ وہ ایک منگول بادشاہ تھا اس نے فقط ۱۳ سال کی عمر میں تلوار کو ھاتھ میں لے لیا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے چالیس سال کی عمر میں وہ باشاہ کی مسند پر آکر براجمان ہوگیا۔  

                    چنگیز خان ۱۱۶۲ ؁ عیسوی کو پیدا ہوا ۔ اسکا اصل نام تموجن تھا جسکا مطلب لوہے کا کام کرنے والا بنتا ہے۔ جب چنگیز خان ہوا تو اس وقت کے چند دانشوروں  یہ پیش گوئی کی کے یہ جابر حکمران بنے گا۔  قارئین منگول ایک وحشی اور شکاری قوم تھی جو سردی اور برف باری والے علاقے میں رہتی تھی۔ اسلئے ان کو  سردی سے بچنے کیلئے کھال کی ضرورت ہوتی تھی۔ تو یہ لوگ جانور خاص کر بارہ سنگوں کا شکار کرکے اسکا گوشت کھالیتے اور کھال رکھ لیتے۔ اور اسکا خون بھی اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے پی جاتے تھے۔ جب یہ پیدا ہوا تھا اس وقت ان کی  قوم  سینکڑوں  خاندانوں میں تقسیم تھی۔ انکا قبیلہ بھی ناراض تھا۔

چنگیز خان کی تربیت

                    ابھی چنگیز خان چھوٹا ہی تھا کہ اس کے والد کو سازش میں زہر دیکر مار دیا گیا۔  یہی وجہ اسکے چنگیز خان بننے کی بنی کیونکہ اس واقعہ نے اس کا بچپن ختم کردیا اور  اسکے ہاتھ میں تلوار دیدی۔ اور پھر وہ تنہا ہوگیا اور اپنی ماں کے سائے میں پروان چڑھنے لگا۔ اس کی ماں اسکو اپنے آباؤ اجداد کے بہادری کے قصے سناتی تھی جس سے وہ بڑا متاثر ہوا۔ اس کے دل سے ڈر خوف جاتا رہا اور وہ چھوٹی عمر میں ہی  بہادر ہوگیا۔  پھر وقت کا پہیہ حرکت میں رہا اور وہ وقت یعنی ۱۱۷۵ ؁ عیسوی بھی آگیا ۔ جب اسکے سر پر بادشاہت کا تاج رکھ دیا گیا۔

              اسکی قوم اور قبائل آپس میں ہی لڑنا شروع ہوگئی۔ اس نے بہت کوشش کی ان کو ایک جھنڈے تلے لانے کی۔ اس کےلئے اس نے سب قبائل کو اکٹھا کیا اور  آپس میں لڑنا بندکرکے  دیگر علاقے اور قبائل  کو فتح کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ جس کو قبائل نے پسند کیا اور تموجن کی دانشمندی کے قائل ہوگئے۔  پھر اس کو یہ اعزاز بخشا کے اس کو اپنا سردار تسلیم کرلیا اور اس کو  چنگیز خان کا خطاب دیا ۔  اس نے اپنے بہترین فیصلوں سے منگول کو ایک مضبوط سلطنت بنادیا۔  اس کے اداروں کو اور فوج کے شعبے کو مضبوط کیا۔  اس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے چینیوں کی کمر توڑ دی اور اس پر قابض ہوگیا۔

اہم واقعہ

                    یہاں ایک اہم واقعہ رونما ہوا   ۱۹۱۲ ؁ میں  اس کے سفیروں کو مختلف ممالک میں قتل کردیا گیا۔  اس واقعے نے چنگیز خان کو دنیا فتح کرنے کیلئے نکلنے پر ابھارا اور وہ دنیا فتح کرنے نکل کھڑا ہوا۔  پھر اس نے شمالی چین اور افغانستان کی سرحد کے علاقے فتح کئے۔ اور اس کے علاوہ بخارا، ثمر قند، شاہ پور، ترکستان، ہرات، تبریز اور آذربائیجان سے جنگ کرکے فتح کرلئے۔ اس نے جنوبی روس اور شمالی ہند تک  یلغار کی اور کافی بڑے رقبے کا مالک بن گیا۔ اس نے یہ رقبہ حاصل کرنے کیلئے تقریبا پچاسی لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتاردئیے۔  اس وجہ سے یہ سفاک حکمران جانا جاتا ہے۔لیکن یہ اتنی کامیابیوں کا مالک کیسے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ 

                    قارئین چنگیز خان  نے دو حکمت عملی یا دو فارمولوں  پر عمل کیا اور دنیا کو فتح کیا۔  پہلی حکمت عملی رفتار تھی  اس نے اپنے لشکر کی رفتار بڑھانے کیلئے پیدل لشکر ختم کردئیے ۔ ساری فوج کو گھوڑوں پر منتقل کیا اور یہی نہیں بلکہ ہر سپاہی کو تین گھوڑے دئیے۔  اب جب ایک گھوڑا تھک جاتا تو اس کو کاٹ کر اسکا خون دوسرے گھوڑوں کو  پلادیا جاتا اور اسکا گوشت محفوظ کرلیا جاتا۔ اور سپاہی دوسرے گھوڑے پر سوار ہوجاتا  اور یہ بغیر رکے آگے بڑتے رہتے۔ اب دوسری حکمت عملی تکنیکی ہے یعنی تاتاری یا منگول وہ پہلے لوگ تھے  اس وقت کے جو گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے تیر اندازی کیا کرتے تھے۔ اور یہ تکنیک اس وقت کسی اور کے پاس نہیں تھی۔

                   یہ لشکر ظالم تھا  اسلئے جب بھی یہ کسی علاقے کو فتح کرتے تو وہاں قتل ہونے والے افراد  کی کھوپڑیوں کا مینار بنایا کرتے تھے۔  اور صرف جوانوں کو نہیں بلکہ بچوں، بوڑھوں اور جانوروں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے۔ خوب لوٹ مار کرتے تھے اور عورتوں کی عصمت دری کرتے تھے۔  دوستوں چنگیز خان ۱۲۲۷ ؁ عیسوی کو ایک جنگ میں مارا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کے بیٹوں نے اس کی بیویوں، غلاموں اور گھوڑوں کے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی قبر آٹھ سو سال  تک معمہ  بنی رہی۔ پھر ۲۰۰۴ ؁ کو اسکا مقبرہ دریافت ہوا اور اسکی سہی امارت کا اندازہ لوگوں کو ہوا۔ چنگیز خان کہا کرتا تھا کہ میں نے دنیا فتح کی ہے لیکن اپنی تقدیر کو فتح نہ کرسکا۔ انسان کبھی اپنی تقدیر اور موت کو شکست نہیں دے سکتا۔

ہماری یہ پوسٹ بھی دیکھیں

ہٹلر کی تاریخ

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

 

جواب دیجئے