پروپیگنڈا کی تاریخ

پروپیگنڈا کی تاریخ

       

پروپیگنڈا
پروپیگنڈا

  دوستو آپ میں سے زیادہ تر لفظ پروپیگنڈا سے واقف ہی ہونگے۔ اسکا مطلب جو نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی خبر یا اطلاع کو دور تک پھیلادینا۔یہ ۱۹۳۶ ؁ تک محض ایک لفظ ہی تھا۔ لیکن پھر ایک جرمن فلاسفر نے اسے ایک سائنس اور آرٹ کی شکل میں ڈھال دیا۔اس فلاسفر کا نام پال جوزف تھا وہ ہٹلر کا قریبی ساتھی تھا۔ہٹلر نے جب دیکھا کہ یہ ایک باصلاحیت شخص ہے تو اس نے اسکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور ایک عجیب وزارت تاریخ میں پہلی بار قائم کی جسکا نام پروپیگنڈا وزارت تھا۔ 

                  یہ جوزف اس وزارت کا وزیر تھا۔ اس نے اخبارات، ڈرامے، وغیرہ کو پہلی بار پروپیگنڈا کیلئے استعمال کیا۔ اور ایک مشہور فلسفہ کے جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کے وہ سچ لگنے لگے اسی کا تھا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر آپ سچ کو جھوٹ ثابت نہیں کرسکتے تو کوئی بات نہیں آپ سچ میں ایسا شک کا بیج بو دیں کہ لوگ کنفیوژ ہوجائیں تو سمجھیں آپ کا آدھا کام ہوگیا۔ قارئین جوزف نے یہ چیزیں سیکھی کہاں سے تھیں؟ اسکے پیچھے ایک کہانی ہے۔

ہٹلر کی تاریخ

شطرنج کی ایجاد

اس کے پیچھے دلچسپ واقعہ

                  جوزف کے والد جرمنی کی ایک فیکٹری میں ملازم تھے۔ وہ ایک بار والد سے ملنے فیکٹری گیا اور والد نے اسے مشینوں والا سیکشن دکھایا۔ پھر اس کے والد نے اسے مشینوں کے بارے میں بتانا شروع کیا ادھر مشینوں کا شور بھی تھا۔ اس لئے جوزف کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ والد صاحب کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ لیکن اس نے اس سے اپنے مطلب کی یہ بات ضرور نکالی کے اگر دو آدمی اگر سچی بات کررہے ہوں تو انکی بات کے آس پاس الٹی سیدھی غلط باتوں کا شور پیدا کردیا جائے تو اس سچی بات کو کہیں دبایا یا چھپایا جاسکتا ہے۔اور گفتگو کسی کے سمجھ نہیں آئے گی۔ 

                  قارئین جوزف نے اسی کو بنیاد بناکر ایسا فلسفہ تخلیق کیا جو آج بھی اس کے نام کے ساتھ مشہور ہے۔ اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اطلاعات و نشریات کا شعبہ قائم ہے جو اس کے فلسفے پر کام کررہا ہے۔ دوستو اسکا کہنا تھا کہ سیاست ایک ایسا گورکھ دھندہ  ہے جس میں حقائق تلاش کرنا بےحد مشکل ہے۔ اس میں اگر سیاست دان مشرق کو مشرق بھی کہے تو یقین نہیں کرنا چاہئے۔ 

اس کا انجام

              اس کا انجام بڑا دردناک تھا۔ وہ جنگ عظیم دوئم کے آخری دنوں میں ہٹلر کے ساتھ ہوگیا تھا۔ پھر ہٹلر کی خودکشی کے بعد وہ اور اس کی بیوی اپنے چھ بچوں کو زہر دینے کے بعد ین کے سرہانے بیٹھ گئے۔ پھر ان کے مرنے کے بعد جوزف نے گارڈ کو ان دونوں میاں بیوی کو گولی مارنے کا حکم دیا۔ اور گارڈ نے اس کے حکم کی تعمیل کی اور انہیں گولی ماردی۔ یہ انکا انجام تھا جو کسی طرح بھی اچھا نہ تھا۔

            دوستو  مرنے سے پہلے   اس نے وہی کہا جو کہنا چاہئے تھا اور اس کو پہلے سمجھنا چاہئے تھا۔ اس کہا کہ ’’ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سچ سچ ہوتا ہے۔ جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے وقتی طور پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھایا جاسکتا ہے لیکن یہ آپ مستقل نہیں کرسکتے ہیں۔ایک نا ایک دن سچ سچ ہوکر رہتا ہے۔ اور جھوٹ جھوٹ ہوکر رہتا ہے۔ اس لئے میرا  مشورہ ہے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ رہنے دیں۔‘‘ یہ تھا اس کا انجام جو اس کے کرتوتوں کے حساب سے ہونا ہی تھا لیکن اس میں عبرت کا سامان ہے دیدۂ بینا کیلئے!۔

 

جواب دیجئے