زیتون کا کاروبار

زیتون کا کاروبار
                    آج جس پھل کا ذکر میں آپ سے کرنے جارہا ہوں وہ ہرہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ چاہے کھانے میں یا لگانے میں یا کاروبار کرنے میں یہ سب کیلئے فائدہ کا باعث ہے اور اسکا ذکر قرآن پاک میں بھی ملتا ہے۔ اور اسکی اہمیت حکیم اور ڈاکٹر کے نزدیک بھی بہت زیادہ ہے۔ لیکن آج بدقسمتی سے نہ اسکا استعمال عام ہے نہ اس کا کاروبار کرکے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اسکا نام زیتون ہے اور آپ کو شاید نہ معلوم ہو کہ اسکا درخت ہزار سال تک پھل دے سکتا ہے! یعنی جس نے اسکا درخت لگایا وہ اپنی نسلوں تک کو فائدہ پہنچاکر چلاگیا۔

                    پاکستان میں اسکا درخت لگانے کی فضا بہت سازگار ہے۔ اور یہاں بھی اچھی نسل کی کاشت بڑے آرام اور آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ اسکا تیل کولیسٹرول فری ہوتا ہے یہ دل کے مریض کیلئے فائدہ مند ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جاسکتا ہے اگر آپ کھانا صرف زیتون تیل میں پکاکر کھائیں تو انشأاللہ آپ کو دل کا مرض لاحق نہیں ہوگا۔ حدیث میں بھی اسکا ذکر ملتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔
زیتون کا کاروبار
                     قارئینابھی آپ کو صرف کھانے کے فائدے وہ بھی بہت تھوڑے گنوائے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔اور شاید پھر کسی مضمون میں اس پر تفصیل سے بات کرونگا ابھی تو اس کی کاروباری اہمیت پر بات کررہا ہوں۔ قارئین زیتون کا تیل اٹلی اور فلپائن وغیرہ سے آتا ہے جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا معیاری اور خالص نہیں ہے ۔جبکہ پاکستان کا زیتون کا تیل خالص ہے اور دنیا میں مانا جاتا ہے ۔زیتون کا ایک درخت اگر اچھی دیکھ بھال کی جائے تو ۵۵ کلو سے زیادہ پھل دے سکتا ہے ۔اور اگر دیکھ بھال نہ کی جائے تو ۳۰ کلو تک پھل کی امید ہے۔

                    آپ ۲۵ کلو ایک درخت سے فرض کرکے چلیں تو ایک ایکڑ میں ۴۰۰ درخت ہیں۔ تو آپ کو ایک ایکڑ سے دس ہزار کلو پھل حاصل ہوگا ۔اور تیل اس میں سے تقریبا بیس فیصد کے حساب سے نکلتا ہے تو آپ حاصل ہونے والا تیل ۲۰۰۰ کلو تک ہوگا۔ جو ایک کم توجہ پر بھی بہت اچھا ایوریج ہے۔کیونکہ یہاں پاکستان میں جو باہر کا تیل مل رہا ہے وہ خالص بھی نہیں ہے پھر بھی وہ آج کی تاریخ میں ۸۰۰ سے ۱۰۰۰ روپے کلو کے حساب سے فروخت ہورہا ہے ۔اگر ہم یہ کم سے کم حساب کو بھی لیکر چلیں تو ۸۰۰ فی کلو کو ۲۰۰۰ سے ضرب دیں تو یہ ۱۶۰۰۰۰۰ جی یہ سولہ لاکھ روپے بنتا ہے حالانکہ پاکستانی تیل تقریبا آج جب مضمون لکھا جارہا ہے ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ تک فروخت ہورہا ہے۔ یہ حساب سالانہ ہے۔

                      پاکستان میں اسکا ادارہ جو زیتون پر کام کررہا ہے وہ چکوال میں ہے۔ اور پودے بھی آپ کو وہیں مل جائینگے اوروہاں ایک سہولت اور بھی ہے حکومت کی طرف سے کے اگر آپ اپنا زیتون وہاں لیکر جائیں تو وہ آپ کو زیتون سے بلکل فری میں تیل نکال کر دینگے۔ کیونکہ حکومت ابھی ترغیب دےرہی ہے لوگوں کو زیتون لگانے کی تو کچھ سہولت بھی فراہم کررہی ہے۔
                    اب اس کے لگانے کا طریق کار دیکھ لیتے ہیں یہ ایک ایکڑ میں آپ زیتون کے پودے اسطرح سے لگائینگے کہ چاروں طرف سے تقریبا دس دس فٹ کی جگہ چھوڑنی ہے یعنی ایک پودے کے بعد دوسرا پودا دس فٹ کے فاصلے پر لگانا ہے۔ اسطرح دائیں بائیں اوپر نیچے جگہ چھوڑنی ہے اور پودا لگانے کیلئے دو فٹ چوڑا اور دو فٹ ہی گہرا گڑھا کھودنا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دو دن کا کام نہیں ہے آپ سالوں سال کیلئے پرمنینٹ کاروبار کرنے جارہے ہیں اسطرح ایک ایکڑ میں ۴۰۰ پودے آسکتے ہیں۔ پانی یہ نارمل لیتے ہیں جیسے دوسرے پودے لیتے ہیں ۔

یہ پوسٹ بھی اچھی ہیں

امپورٹ ایکسپورٹ لائسینس حاصل کرنا

حرام کھانے کے انسانی زندگی پر اثرات

جواب دیجئے