جوزف کیسے کامیاب ہے

کاروبار میں خود سے وفاداری

جوزف کے اصول

                    جوزف رافیل ایک بزنس مین ہے اور فاسٹ فوڈ کی ایک بہت بڑی چین کا مالک ہے۔ شہر میں اسکے پچاس سے زیادہ ریسٹورینٹ ہیں ۔ وہ دن میں اپنے ریستوران میں گھومتا رہتا اور وہاں کام کرنے والوں سے ملتا گپ شپ کرتا پھر کچھ دیر میں دوسرے ریستوران کی طرف نکل جاتا۔ پھر شام کو ایک جگہ بیٹھ کر چائے کافی وغیرہ پیتا اور دوستوں سے ملتا پھر اپنے گھر چلاجاتا یہ اسکا روز کا معمول تھا۔ جوزف کے پاس جب کوئی ایک دفعہ جاب پر آجاتا تو مشکل تھا کہ پھر وہ جاب چھوڑکر چلاجائے پندرہ سال سے زیادہ پرانے لوگ اس کے پاس کام کررہے تھے۔ حالانکہ یورپ وغیرہ میں ایک نوکری سے چپکے رہنے کو نفسیاتی مسٔلہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک ملازم سے پوچھا گیا کہ تم یہاں سے کام کیوں نہیں چھوڑتے اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ خود جوزف ہے پھر اس نے کہا کہ جوزف یہ سب کیسے کرتا ہے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
                     جوزف کا ملازم رکھنے کا اپنا طریقہ ہے اگر کوئی شخص اس کے پاس ملازمت کیلئے آتا ہے تو وہ اس سے کچھ سوالات کرتا ہے ۔اگر وہ ان سوالات میں پورا اترتا ہے تو ملازمت کا اہل ہوتا ہے۔ نہیں تو جوزف معذرت کرلیتا ہے وہ سوالات یہ ہیں!
۱۔ جوزف اس سے پوچھتا ہوں کہ وہ عبادت کرتا ہے؟ اگر وہ ہاں کرتا ہے تو وہ میرے پہلے امتحان میں پاس ہوجاتا ہے یعنی اگر مسلمان ہے تو مسجد جاتا ہے یا ہندو ہے تو کیا مندر جاتا ہے اسی طرح عیسائی کا چرچ جانا جو جس مذہب سے تعلق رکھتا ہو لیکن ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے تعلق بنائے رکھے۔
۲۔جوزف پوچھتا ہے کہ کیا وہ شادی شدہ ہے اگر نہیں تو اس کو پابند کرتا ہے کہ ایک سال کے اندر تمہیں شادی کرنی ہوگی اور اگر کوئی پہلے سے شادی شدہ ہے تو اس سے اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں فیملی کو کتنا ٹائم دیتا ہے اگر روز کے چار گھنٹے اور ہفتے میں دو دن کہتا ہے تو ٹھیک ورنہ جوزف اس کو منع کردیتا ہے۔
۳۔ جوزف کہتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ سال میں چھٹیاں لیتا ہے اور فیملی کے ساتھ کہیں جاتا ہے اور دوستوں میں وقت گزارتا ہے اور یہ کہ وہ اوور ٹائم تو نہیں لگارہا اگر وہ اوور ٹائم لگاتا ہے اور فیملی کو سال میں ایک دفعہ کہیں لیکر نہیں جاتا تو جوزف اس کو بھی ملازم نہیں رکھتا۔
۴۔ جوزف معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ایکسر سائز کرتا ہے جاگنگ وغیرہ یا جم جاتا ہے یا نہیں اگر اس کا جواب نفی میں ہوتا ہے تو جوزف اس سے معذرت کرلیتا ہے۔
۵۔ اور آخر میں جوزف یہ معلوم کرتا ہے کہ کیا وہ مطالعہ کرتا ہے روزانہ کے اخبارات یا کوئی اچھی کتاب پڑھتا ہے اگر ہاں تو اس کو رکھ لیتا ہوں نہیں تو منع کردیتا ہوں۔

کاروباری یا ذاتی سوالات؟

                    اب دیکھا جائے تو یہ سب باتیں ذاتیات میں آتی ہیں اور ملازمت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن جوزف کا کہنا ہے کہ یہ ذاتی چیزیں ضرور ہیں لیکن ان سے پتا چلتا ہے کہ ایک شخص اپنے آپ سے کتنا وفادار ہے۔ جب اپنی فیملی کو ٹائم دیگا تو کام میں بھی سہی ٹائم دے پائے گا اور جب اپنی صحت کا خیال رکھیگا تو دوسروں کی صحت کی بھی فکر کریگا۔ اور کام میں کارکردگی بھی اچھی دکھائیگا اور جب مطالعہ کریگا تو کچھ نیا سیکھے گا اور نیا کرکے دکھائے گا اور جو اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا تو وہ اپنے کام سے کیسے وفا کریگا۔
                   جو شخص اپنے ساتھ وفادار نہیں وہ کسی سے یا اپنے کام سے کیسے وفادار ہوگا۔ ہر انسان کی وفا کا آغاز پہلے اس کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اگر وہ اپنے آپ سے اور اپنے اللہ سے دھوکہ کررہا ہے تو پھر کسی سے بھی دھوکہ کرسکتا ہے۔ اور جو خود اچھی عادات سے محروم ہو تو وہ اپنی فیملی اور گھر والوں کو کیسے نوازسکتا ہے ان کو اچھائی کی طرف کیسے لیجاسکتا ہے؟ جوزف یہ سب عادات اور کوالٹیز دیکھ کر کسی کو اپنی کمپنی میں ملازمت دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی پتا چل گئی ہوگی کہ لوگ جوزف کو چھوڑنے کو کیوں تیا ر نہیں ہیں اور عرصہ دراز سے وہیں کام کئے جارہے ہیں۔

ہماری یہ پوسٹ بھی دیکھیں

ہٹلر کی تاریخ

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی

جواب دیجئے