اپنی رائے کو اہمیت دلوائیں apni khud ki raiy banain

اپنی رائے کو اہمیت دلوائیں apni khud ki raiy banain

            دوستو  شاہ صاحب کہتے ہیں کہ اپنی خود کی رائے بناؤ۔ یہ آپ کی پہچان بنے گی۔ اب رائے کی تعریف کیا ہے پہلے تو اس کو سمجھ لو رائے مطلب کسی بھی چیز پر آپ نے کام کیا ہو پھر اس پر اپنا تجربہ بیان کیا ہو یہ اصل رائے ہے۔ اور ضروری نہیں کہ سہی ہو غلط بھی ہوسکتی ہے لیکن اہم یہ کہ آپ نے رائے دی۔ وہ آگے چل کر آپ اور بہتر کرلینگے لیکن اس پر کام اور ورک کرتے رہیں۔ ایک وقت میں آپ کی رائے کسی خاص شعبے میں وزن والی مانی جائیگی اور آپ کی پہچان بنےگی۔

            مثلا ایک ٹائم میں بلکہ آج بھی زیادہ تر سفر کو تفریح کیلئے کیا جاتا ہے لیکن سفر علم کیلئے بھی ہوتا ہے تعلیمی بھی ہوتا ہے۔ کسی خاص شخص سے ملاقات اور اس کے تجربے سے استفادے کیلئے بھی ہوسکتا ہے۔ جو آپ کو آپ کی رائے بنانے میں کردار ادا کریگا آپ کا ذہن سفر کے بارے میں ایک تجربے کے بعد ایک رائے قائم کریگا جسکی اہمیت ہوگی اور سفر کے حوالے سے آپ کی رائے کی اہمیت ہوگی۔ 

             اب رائے بنانے کا ایک خاص طریقہ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے کتابیں پڑھنا یار آپ کتابیں پڑھنا شروع کریں آپ کا ذہن سو نئے زاویے سے سوچنا شروع کردیگا اور آپ کسی چیز یا معاملے کو عام آدمی کے مقابلے میں زیادہ زاویے سے دیکھ پائینگے اور بہتر رائے قائم کر پائینگے۔ کتاب تو ویسے بھی ایک بہت ہی فائدہ مند چیز ہے آپ کو کسی بھی سفر میں گورے کے ہاتھ میں موبائل نظر آئے یا نہ آئے کتاب ضرور نظر آئیگی کیونکہ وہ اسکی کی اہمیت سے واقف ہے۔ تو آپ کو ذہن کے دریچے کھولنے ہیں تو پڑھنا شروع کردو ۔ چاہے دو صفحے ہی سہی لیکن پڑھو دو صفحوں میں مشکل سے تین  چار منٹ لگینگے پھر پڑھنے کی عادت خود ہی آپ کو زیادہ پڑھنے پر اکسائیگی۔

امیر بننے کیلئے ضروری چیزیں

محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے

زیتون کا کاروبار

            اگر کسی کو دیکھنا ہے کے وہ کتنا قابل ہے اس کی رائے دیکھو مختلف چیزوں پر وہ آپ کو اس کی قابلیت کھول کر سامنے رکھدیگی۔ انسان کی زبان کے پیچھے قابلیت چھپی ہوتی ہے سنا ہوگا آپ نے؟   ایک دوسرا طریقہ رائے بنانے کا یہ ہے کہ آپ نئے دوست بنائیں یا نئے لوگوں سے ملیں جن کے نئے تجربات اور علم آپ کو بہت فائدہ دیگا۔ 

              اس کے علاوہ آپ کو اپنی رائے بنانی ہے اور اس کو بہتر کرنا ہے تو آپ کو غور و خوض کرنا ہوگا اب اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے آپ کسی جگہ بیٹھ کر گھنٹوں سوچے چلے جارہے ہیں اور ادھر گھر والے آپ کو کسی نفسیاتی ہسپتال میں داخلے کا سوچ رہے ہوں۔ اس کا مطلب آپ چلتے پھرتے کسی مسٔلے پر ہلکا پھلکا سوچتے رہیں تاکہ اس کے بارے میں نئی سوچ اور زاویے ذہن میں آتے رہیں۔  بس اس بات کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں کہ کسی نے کہا ہے علم اپنی لاعلمی کے احساس کا نام ہے۔

 

جواب دیجئے