اسٹیفن ہاکنگ

اسٹیفن ہاکنگ

                    اسٹیفن ہاکنگ اپنے شعبے میں ایک بہت عظیم سائنسدان تھے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے شعبے میں اتنے آگے تک جا پاتے ہیں گہرائی کو سمجھ پاتے ہیں اور اپنے شعبے سے انصاف کرپاتے ہیں۔ ان ناموں میں اسٹیفن ہاکنگ کا نام بھی لیا جاتا ہے جنہوں نے دنیا کو وہ بتایا جو وہ نہیں جانتی تھی اور کسطرح بتایا یہ بھی حیران کن ہے۔وہ بچپن میں اور لوگوں کی طرح پڑھائی میں نارمل ہی تھے البتہ کچھ چیزوں کی وجہ سے دوست انہیں آئن اسٹائن بلاتے تھے۔ اسکول لائف میں وہ کمزور تھے اور تقریبا آٹھ یا نو سال تک وہ اچھی طرح انگلش سیکھ پائے۔ 

                ۱۳ سال کے بعد انہوں نے اپنے جوہر دکھانا شروع کئے لیکن پڑھائی میں ابھی بھی زیادہ اچھے نہیں مانے جاتے تھے۔ وہ اپنے حساب کے استاد سے بہت متاثر تھے لیکن باپ کی خواہش تھی کہ وہ میڈیکل میں ایڈمیشن لیں لیکن وہ چونکہ حساب میں دلچسپی رکھتے تھے ۔تو انہوں نے حساب کا انتخاب کیا ۔ان کے بڑے کارناموں میں سے ایک اس بلیک ہول کی دریافت ہے جس سے نئے سیارے بننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ان سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جن سے کائنات میں بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہیں۔ ان شعاعوں کو ان کی نسبت سے ’’ہاکنگ ریڈی ایشن ‘‘ کہا جاتا ہے۔

               وہ جب اپنی پی ایچ ڈی کی پڑھائی کررہے تھے کیمبرج یونیورسٹی میں تو ایک دن وہ وہاں سیڑھیوں سے پھسل گئے۔ اور جب ان کو ہسپتال لیجایا گیا اور ڈاکٹرز نے انکا پورا طبی معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کے وہ ایک بہت پیچیدہ بیماری ’’موٹر نیوران ڈزیز‘‘ میں مبتلا ہیں۔ جو ان کو محتاجگی کی طرف لیگئی اور پھر پہلے وہ وہیل چیئر پر آئے اس کے بعد ان کی گردن نے بھی کام کرنا بند کردیا۔ اور دھیرے دھیرے وہ واش روم وغیرہ کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے پورا جسم مفلوج ہوگیا صرف ایک آنکھ کی پلک میں تھوڑی زندگی باقی تھی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرز نے ان کو جواب دیدیا تھا لیکن وہ اس پلک کی حرکت اور جنبش سے وہ کام کرگئے کہ دنیا حیران ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر کے جواب دینے پر بھی ہار ماننے سے انکار کردیا اور کائنات کے ان رازوں سے پردہ اٹھایا جو اب تک دنیا سے اوجھل تھا ۔

              اسٹیفن ہاکنگ کیلئے کیمبرج کے ماہرین نے ایک کمپیوٹر بنایا جو ان کی پلک کی جنبش کو سمجھتا تھا اور اس کو ٹائپ کرتا تھا۔ اور اسپیکر میں بولتا بھی تھا اسطرح وہ اپنی بات کہتے تھے۔ وہ واحد انسان تھے جو پلکوں سے بولتے اور دنیا انہیں سنتی تھی انہوں نے پھر اس پلکوں کی حرکت سے کافی کتابیں لکھیں۔ ان سے انہوں نے کائنات کو پرکھنے کا نیا فلسفہ دیا ۔ ان کی ایک کتاب ’’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘‘ نے دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ اس شاہکار کتاب نے ۲۳۷ ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر ہونے کا اعزاز پایا اور لوگوں نے اس کو ایک عظیم کتاب کے طور پر پڑھا۔
              انہوں نے ایک کام اور کیا وہ لوگوں کو زندگی کی خوبصورتی پر لیکچر دینے لگے۔ بڑی بڑی کمپنیاں انہیں بلاتیں اور وہ وہیل چیئر پر آتے اور بات کرتے دنیا ان کو سنتی۔ انکا کہنا تھا کہ ’’ اگر میں اپنی معذوری کے باوجود یہ سب کرسکتا ہوں تو وہ لوگ جو سہی ہیں آجا سکتے ہیں کھا پی سکتے ہیں مسکرا سکتے ہیں اور بہت کچھ لائف میں کرسکتے ہیں تو وہ مایوس کیوں ہیں۔

یہ بھی اچھی پوسٹ ہیں

جوزف کی کامیابی

ہٹلر کی تاریخ

جواب دیجئے